تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     16-06-2026

صحرائے راجستھان میں کنول کا پھول

مہدی حسن کی زندگی میں اُن کے سامنے بیٹھ کر غزلیں سننے کا جو اعزاز مجھے نصیب ہوا اُس کا کریڈٹ شعیب عالم کو جاتا ہے جو لندن میں مہدی حسن کے میزبان تھے اور ہم اُن کے مدعو کئے گئے سینکڑوں مہمانوں میں سے ایک۔ شعیب وسطیٰ لندن میں فاسٹ فوڈ کی دکان چلاتے تھے اور فنکاروں کی میزبانی اُن کا مشغلہ تھا۔ مگر شعیب سے تعلق کس طرح قائم ہوا یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ میرے بیٹے فاروق‘ جو اُن دنوں لندن یونیورسٹی میں قانون پڑھ رہا تھا‘ کا یونیورسٹی میں ہم عصر اور روم میٹ بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والا من پریت سنگھ بادل تھا۔ یہی من پریت سنگھ آگے چل کر بھارتی پنجاب کا وزیر خزانہ بنا۔ اُن دنوں تو من پریت ترقی پسند اور عوام دوستی کی باتیں کرتے نہ تھکتا تھا مگر جب مشرقی پنجاب کے سیاسی خارزار میں اُترا تو بی جے پی جیسی فسطائی تنظیم کا حلیف بن گیا۔ لندن سے وطن واپسی پر بائیں سے دائیں جانب سفر کرنے میں اسے زیادہ مشکل پیش نہ آئی۔ برصغیر کے اکثر سیاسی خاندانوں کی طرح اُس کے خاندان خصوصاً اس کے چچا پرکاش سنگھ بادل پر مالی بدعنوانیوں کے کئی الزامات ہیں۔ خاندان کی سرپرستی کے باوجود اسے لندن میں قیام کے دوران شام کو جزوقتی ملازمت کرنا پڑی۔ اتفاقاً اُسے شعیب کی دکان میں کام ملا۔ یہ تھا وہ پس منظر جس کے سبب مغربی لندن کے مضافات میں رہنے والے میاں بیوی نے مہدی حسن کو براہِ راست غزلیں گاتے دیکھا اور سنا۔ یہ حسرت ہی رہی کہ ایسی یادگار اور خوشگوار شام پھر آئے مگر دوبارہ ایسا نہ ہو سکا۔ اسی دوران ہم بھی مغربی لندن سے نقل مکانی کر کے پہلے وسطی اور پھر مشرقی لندن میں آباد ہو گئے‘ جس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ شعیب سے رابطہ پہلے معطل اور پھر منقطع ہوگیا۔ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ انسانی تعلقات میں جغرافیہ کلیدی کردار اداکرتا ہے۔
13 جون 2012ء کو جب کراچی میں 84 برس کی عمر پا کر مہدی حسن نے وفات پائی تو انہیں برصغیر ہندوپاک میں غزل کی گائیکی کا سب سے بڑا گلوکار‘ فنکار اور اُستاد مانا جاتا تھا۔ اُردو شاعری (جس کا چشمہ فارسی سے پھوٹا) میں غزل کا بڑا منفرد اور ممتاز مقام ہے۔ محبوب سے دوری اور قربت کے راستے میں ہزار رکاوٹیں‘ سماجی جبر‘ ہر طرح کی انسانی آزادی کے پائوں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں‘ نہ ختم ہونے والی خزاں اور حبس کا موسم‘ تپتی دھوپ اور سائے کا فقدان‘ آبلہ پائی اور دل شکستگی کے اَن گنت اسباب‘ نہ پورے ہونے والے خواب اور حسرتیں‘ چہار سو اُداسی اور جان لیوا تنہائی۔ یہ ہے غزل کی وہ روایت جسے میر تقی میر نے عروج تک پہنچایا۔ غزل کا جو مخصوص لہجہ ہے اسے مہدی حسن کی گائیکی نے زندگی‘ تازگی‘ خوشبو اور روئیدگی بخشی اور اس صنف کے ساتھ پورا انصاف کیا۔ وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو نہ صرف ہندو پاک بلکہ برطانیہ کے ہر بڑے اخبار نے تعزیت نامہ (Obituary) شائع کیا۔
مہدی حسن کو کلاسیکی موسیقی پر پورا عبور تھا۔ وہ غزل گاتے یا فلمی گیت‘ جس راگ کو وہ چنتے وہی اس کی ادائیگی کیلئے موزوں ترین ہوتا۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق مہدی حسن نے اپنی زندگی میں پچاس ہزار سے زیادہ غزلیں اور گیت گائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں شہنشاہِ غزل کا خطاب دیا گیا اور بجا طور پر دیا گیا۔ مہدی حسن (بھارت کی صحرائی ریاست) راجستھان کے ایک گمنام گائوں لُونا میں ایک پٹھان مغل خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کا گھرانہ '' کلاونت‘‘ کہلاتا تھا‘ جس کا مطلب ہے پیشہ ور موسیقار اور گلوکار۔ گائیکی کا فن اُن کے والد عظیم خان اور چچا استاد اسماعیل خان نے انہیں بچپن ہی میں سکھایا۔ مشہور محاورہ ہے کہ ہونہار بروے کے چکنے چکنے پات۔ اگر اس کی عملی صورت دیکھنی ہو تو مہدی حسن کو دیکھ لیں جو جواں عمری میں ہی جے پور اور بڑودہ کے مہاراجوں کی محفلوں میں بلائے جانے لگے تاکہ اپنے فن کا مظاہرہ کریں۔ آزادی کے بعد بھارت میں پانچ سو سے زیادہ ریاستوں کی صف لپیٹ دی گئی۔ پہلوانوں سے لے کر فنکاروں اور گلوکاروں تک کے سرپرست خود سرکاری وظیفوں کے محتاج ہو گئے۔ ان حالات میں مہدی حسن کا ہجرت کر کے پاکستان آنے کا فیصلہ‘ چاہے اُن کیلئے ابتدائی طور پر کتنی ہی مشکلات کا باعث بنا‘ آگے چل کر درست ثابت ہوا۔
ابتدائی طور پر ریاستِ پاکستان خاصی مشکلات کا شکار تھی۔ جب مہدی حسن نے دیکھا کہ ان کی گائیکی کا کوئی مداح نہیں‘ یا اتنے مداح نہیں کہ وہ اپنے گھر کا چولہا جلا سکیں تو انہوں نے بائیسکل مرمت کرنے والی دکان پر ایک مستری کی شاگردی اختیار کر لی۔ خزاں کی تیز ہوا مہدی حسن کو اڑاتے اڑاتے سرگودھا لے گئی جہاں انہوں نے چک 49‘ جنوبی سرگودھا میں محمد اعظم لودھرا کے فارم پر ٹریکٹر چلانے کی تربیت لی اور اسے مرمت کرنے کا ہنر سیکھا۔ اتفاق سے اعظم لودھرا میرے ماموں زاد بھائی تھے۔ اسی فارم پر‘ جو آگے چل کر کینو کے ایک بڑے باغ میں تبدیل ہو گیا‘ مہدی حسن کو رہنے کیلئے ایک کٹیا بھی فراہم کی گئی۔ غروبِ آفتاب سے نصف شب اور پھر طلوعِ آفتاب تک اس کٹیا سے روزانہ گانے بجانے کی آوازیں آتیں تو سنسان و بیابان فارم پرستان میں تبدیل ہو جاتا۔ میں نے لندن میں مہدی حسن کو سرگودھا کے اس فارم پر دن کو ٹریکٹر چلانے اور شام کو ریاض کرنے کی بھولی بسری یاد دلائی تو وہ دم بخود ہو کر اور میرا ہاتھ تھام کر دیر تک خلا میں گھورتے رہے اور پھر گرمجوشی سے مجھ سے بغلگیر ہوئے۔
مہدی حسن 1952ء میں گمنامی کے اندھیرے سے شہرت کی روشنی کی طرف بڑھے اور ریڈیو پاکستان نے انہیں اپنے فن کے اظہار کا پہلا موقع دیا‘ اس کے بعد وہ ترقی‘ خوشحالی اور شہرت کی سیڑھی پر بڑی تیز ی سے چڑھتے چلے گئے۔ ایک وقت آیا کہ تمام بڑے شاعروں کی خواہش تھی کہ مہدی حسن ان کا کلام گائیں۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر ہندو پاک میں گائیکی کے اُفق پر چھا گئے۔ اتنا عروج ان کے علاوہ صرف استاد نصرت فتح علی خان‘ نور جہاں اور غلام علی کو ملا۔ وہ برصغیر میں ایک طرح کا ثقافتی پُل بن گئے تھے۔ برصغیر کی معروف گلوکارہ لتا منگیشکر نے مہدی حسن کے بارے ایک بار کہا تھا کہ ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ ماسوائے مہدی حسن کے کوئی نہیں جانتا کہ قطرے سے گُہر بننے کے عمل میں اس گلوکار پر کیا گزری؟ ریاض کرکے اپنی آواز کی تربیت کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مہدی حسن راجستھان کے رہنے والے تھے۔ وہ اُردو زبان سے نابلد تھے جبکہ غزلوں کا سارا سرمایہ اُردو (یا فارسی) میں تھا۔ فلموں میں گیت گانے کی پیشکش ہوئی تو زبان اُردو یا پنجابی ہوتی۔ مہدی حسن نے بڑی محنت سے اُردو زبان سیکھی۔ اُردو شاعری پڑھی اور اپنے دوست احباب سے اس کے معانی سمجھے۔ بہت جلد انہوں نے یہ راز پا لیا کہ وہ صرف گلوکار نہیں بلکہ اعلیٰ پائے کے کمپوزر بھی ہیں۔ ہر غزل کیلئے وہ مناسب راگ چن لیتے جو مخصوص غزل کا حق ادا کر سکے۔ یہ خوبی ان کے علاوہ جس بڑے گلوکار میں دیکھی ان کا نام تھا استاد نصرت فتح علی خان۔
مہدی حسن نے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ اُنہوں نے دنیا کے متعدد ممالک کا دورہ کیا۔ جہاں بھی گئے‘ مداحوں نے ہال اس طرح بھرا کہ تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ پھولوں کی پتیوں نے اُنہیں ڈھک لیا۔ نیپال کے حوالے سے انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ دورانِ گائیکی تھکاوٹ اتنی غالب آ گئی کہ وہ گیت کا اگلا شعر بھول گئے۔ قسمت دیکھیے کہ شاہِ نیپال (Birendra) کو وہ گیت یاد تھا‘ وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور مطلوبہ شعر خود گا کر سامعین کو محظوظ کیا۔ اس شاہی مداخلت پر مہدی حسن نے ہاتھ جوڑ کر بادشاہ کا شکریہ ادا کیا۔ مہدی حسن کو پاکستان اور بھارت کے علاوہ نیپال نے بھی اعلیٰ سرکاری اعزاز سے نوازا۔ مہدی حسن نے دو شادیاں کیں اور بدقسمتی سے دونوں بیویاں اُن کی زندگی میں وفات پا گئیں۔ زندگی کے آخری سال بیماریوں کا مقابلہ کرتے ہوئے گزرے ۔ پسماندگان میں انہوں نے 14 بچے چھوڑے ۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved