ایک بات طے سمجھنی چاہیے کہ افسانہ نگاری کا کوئی ایوارڈ ہو تو پنجاب سی سی ڈی کھلے عام جیت جائے۔ کوئی دن نہیں جاتا جب اس ادارے کے افسانے خبروں کی زینت نہ بنیں۔ کہانی وہی مقابلے یا انکاؤٹر کی۔ یا تو کہیں جا رہے تھے اور مقابلہ ہو گیا‘ یا کسی مجرم کو چھڑانے اُس کے ساتھی آئے‘ کراس فائر میں ملزم مارا گیا اور معجزانہ طور پر محکمے والے بچ گئے۔ ہر بار وہی سکرپٹ تقریباً وہی الفاظ۔ ڈرامہ بازی عیاں لیکن لوگ برداشت کر رہے ہیں اور عدالتیں بھی۔ محکمہ اسی پھڑکانے کے عمل پر جاری ہے۔
اتنی تمہید اس لیے کہ چکوال میں جو واقعہ ہوا ہے اُس کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم عدیل اور اُس کی فیملی کی قسمت ہاری کہ اپنے سسر کرنل محمد خان کے گھر دعوت کھا کر اپنے رشتہ دار علی اعجاز کو تقریباً پونے بارہ بجے رات ملنے آئے۔ آسٹریلیا سے حج کرنے گئے اور حج کرکے پاکستان آئے تھے اور رشتہ داروں کو مل رہے تھے۔
مکان کے گیٹ پر عدیل اور اُن کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ کھڑے تھے کہ ٹھیک گیارہ بج کر اکاون منٹ پر ایک موٹرسائیکل آتا ہے جس پر دو سوار ہیں۔ علی اعجاز کا گھر سی سی ڈی دفتر کے بالکل ساتھ ہے‘ بیچ میں ایک سڑک گزرتی ہے۔ موٹر سائیکل سوار بڑے اطمینان سے سی سی ڈی کی دیوار کے ساتھ موٹر سائیکل کھڑا کرتے ہیں اور بغیر تیزی دکھائے عدیل اور سدرہ کے پاس آتے ہیں۔ بچے اُن کے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ چکے ہیں۔ پستول تان کر وارداتیے مال کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سدرہ اپنی بالیاں اُتار کر انہیں دیتی ہے۔ بیگ بھی اُن کے ہاتھ میں تھا لیکن پتا نہیں اُس کا کیا بنا۔ اس ساری کارروائی میں ظاہر ہے کوئی مزاحمت نہیں۔ ڈاکوؤں کی طرف سے پستول تاننے کے علاوہ کوئی زور زبردستی نہیں۔ ویسے بھی مین سڑک سے رات کے اُس وقت بھی اکا دُکا ٹریفک آ جا رہی ہے۔ یعنی ایک نارمل قسم کی واردات جو آئے روز ہمارے شہروں میں ہوتی رہتی ہے۔ لیکن اچانک سے سی سی ڈی کے گیٹ کی طرف سے فائرنگ ہوتی ہے۔ چار سیکنڈ میں سات گولیاں چلتی ہیں۔ اس کے دو سیکنڈ بعد ڈاکوؤں کی طرف سے دو فائر ہوتے ہیں۔ یہ تفصیلات سی سی ٹی وی فوٹیج میں موجود ہیں۔
بوکھلاہٹ کے عالم میں عدیل گاڑی میں بیٹھ کر تیزی سے وہاں سے نکلتا ہے۔ پیچھے سے آٹومیٹک فائر کا ایک برسٹ آتا ہے۔ ہانیہ کو گولیاں لگتی ہیں‘ دو گولیاں بھائی عفان کو‘ اور دو گولیاں عدیل کو۔ سی سی ڈی گیٹ سے علی اعجاز کا گھر بمشکل پچیس گز دور ہو گا۔ قریب موٹر سائیکل کھڑا ہے۔ ڈاکوؤں کی طرف سے پھر کوئی فائرنگ نہیں ہوتی اندھیرے میں غائب ہو گئے ہوں گے۔ لیکن سی سی ڈی والے اتنا تو کرتے کہ چند قدم چل کے جاننے کی کوشش کرتے کہ ہوا کیا ہے۔ لیکن نہیں! گاڑی نکلتی ہے اور اُس پر برسٹ مار دیا جاتا ہے۔ عدیل دیوانہ وار گاڑی اپنے سسر کرنل محمد خان کے گھر کی طرف بھگاتا چلا جاتا ہے۔ بتانے والے کہتے ہیں کہ موٹر سائیکل سوار دو اہلکار گاڑی کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ عدیل محمد خان کرنل کے گھر کی طرف مڑتا ہے تو موٹر سائیکل والے آگے نکل جاتے ہیں۔
یہ سارا واقعہ ہے۔ ساتھ بتانا یہ بھی ضروری ہے کہ اس واقعہ کے کچھ دیر پہلے اُسی سڑک پر دو دکانوں پر ڈکیتی ہوتی ہے۔ پہلی دکان جس پر واردات ہوئی دو لوگ آئے‘ سرجیکل ماسک اُنہوں نے پہنے ہوئے تھے‘ چار منٹ میں اُنہوں نے کارروائی کی‘ بڑے نوٹ لیے چھوٹے نوٹ وہیں رکھ دیے اور پھر وہاں سے نکل گئے۔ دوسری دکان پر واردات کی تفصیل معلوم نہیں کر سکا۔ واللہ واعلم عدیل اور اُن کے خاندان کے ساتھ جو المیہ پیش آیا اُس میں یہی ڈکیت ملوث تھے یا کوئی اور۔ لیکن اتنا تو واضح ہے کہ ان دو وارداتوں کے بعد کوئی پولیس کا ناکہ نہیں لگا‘ کوئی پہرا نہیں تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ معمول کی ٹریفک سڑک پر اور اُس مقام پر جہاں عدیل اور اُن کی فیملی کے ساتھ واردات ہوئی چل رہی ہے۔
بہرحال عدیل اور اُس کی فیملی کے ساتھ جو کچھ ہوا فائر کرنے والا سی سی ڈی کا اہلکار شجاعت تھا‘ ایک نوجوان جس کا تعلق موضع منگوال سے ہے۔ وقوعے کے وقت لائٹ گئی ہوئی تھی۔ پچیس تیس گز کے فاصلے پر اُس اندھیرے میں شجاعت کو کچھ چیز نظر آتی ہے اور بغیر کوئی چھان بین کیے فائر کھول دیتا ہے۔ بتایا یہی جا رہا ہے کہ پہلے فائر پسٹل کے تھے‘ اور آٹومیٹک رائفل کے فائر کوئی اٹھارہ سیکنڈ بعد شروع ہوئے۔ یہ کہاں کی ٹریننگ ہے کہ لوگ آ جا رہے ہوں‘ اتنی زیادہ کشادہ سڑک بھی نہ ہو اور وہاں آٹومیٹک فائر کھول دیا جائے۔ محکمے کی طرف سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ڈکیتوں اور سی سی ڈی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور بدقسمت فیملی کار میں بیٹھے کراس فائر میں آ گئی‘ جو کہ سراسر غلط ہے ۔ ڈاکو تو غائب ہو چکے تھے‘ پریشانی میں عدیل نے وہاں سے گاڑی بھگائی اور ہمارے جوان نے آٹومیٹک فائر کھول دیا۔ جس سے یہ المناک حادثہ پیش آیا۔
دفاع میں کہا جا سکتا ہے کہ اندھیرے میں حالات ہی ایسے تھے‘ کچھ سمجھ نہیں آئی اور سمجھ لیا گیا کہ ڈکیت کار میں سوار ہیں۔ حالانکہ چند قدم ہی چلتے‘ موٹر سائیکل کو دیکھ لیا ہوتا‘ سامنے مکینوں سے کچھ پوچھ لیا ہوتا۔ گاڑی جا بھی رہی تھی تو پولیس کنٹرول پر خبر دی جا سکتی تھی۔ فوری ناکے لگ سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہ کیا گیا‘ ایک ہانیہ کی زند گی گئی اور پورے خاندان کے ساتھ ایک ایسا المیہ ہوا جس کے اثرات اُن پر ساری عمر رہیں گے۔ ہانیہ کے بھائی پر کیا گزری ہو گی‘ ڈاکٹر سدرہ کی حالت کیا ہو گی۔ سوال تو یہ اٹھنا چاہیے کہ یہ سب کچھ محض اتفاق سے ہوا یا اس خاص محکمے کا کلچر ہی کچھ ایسا بن گیا ہے کہ فائر پہلے کھلتا ہے اور سوچ بچار بعد میں ہوتی ہے۔ یہ تو اب کامن نالج ہے کہ محکمے کے پسندیدہ جملے دو ہیں‘ ہاف فرائی اور فل فرائی۔ کہیں ٹانگ پہ گولی مارنی ہو تو وہ ہاف فرائی‘ اور پورا قصہ تمام کرنا ہو تووہ فل فرائی۔ عدیل کے خاندان کے ساتھ تو فل فرائی والا عمل ہو گیا۔ لیکن کوئی پوچھے گا؟ کوئی بازپرس ہو گی؟
ہاف فرائی اور فل فرائی کے مختلف پہلوؤں کا جواز جرائم کو کنٹرول کرنا تھا۔ کیا ان طریقوں سے مطلوبہ نتائج مل رہے ہیں؟ پنجاب میں کرائم کنٹرول ہو رہا ہے؟ چکوال کے ان واقعات سے تو پتا چلتا ہے کہ ہاف فرائی اور فل فرائی کے باوجود وارداتیے دندناتے پھر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اگلے روز خبر آتی ہے کہ ان واقعات میں ملوث دو اشخاص مقابلوں کی نذر ہوگئے ہیں‘ ایک چوآ چوک پر‘ ایک سرگودھا روڈ پر۔ ایک انسپکٹر سے میں نے پوچھا کہ اتنے جلدی یہ آپ کے ہاتھ کیسے لگ گئے؟ قدرے جھنجھلا کے جواب دیا کہ انکاؤٹر میں مارے گئے ہیں۔ یعنی اتنی بڑی وارداتیں ڈالنے کے بعد سی سی ڈی کی سہولت کے لیے ایک ڈکیت چوآ چوک پر نمودار ہوتا ہے اور سی سی ڈی کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور دوسرا مزید سہولت کے لیے سرگودھا روڈ پر سی سی ڈی کے سامنے آ جاتا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہسپتال میں دو وڈیوز بنتی ہیں۔ دونوں دکاندار جن کی دکانوں پر ڈکیتی ہوئی تھی‘ کہتے ہیں کہ یہی وہ ڈکیت تھے‘ سو فیصد وہی تھے اور ہم سی سی ڈی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اتنی جلدی ڈکیتوں کو کیفرکردار تک پہنچا دیا۔صاف لگتا ہے کہ بتائی ہوئی کہانی پڑھ رہے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved