بھٹو کی پھانسی کے بعد ایک عجیب خوف اور دہشت کی فضا تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک جمہوری حکومت کے سربراہ کو معزول کر کے پہلے گرفتار اور پھر تختۂ دار پر پہنچایا جا سکتا ہے۔ بھٹو پاکستانی سیاست کا ایک مقبول اور منفرد کردار تھا جس نے فیوڈل پس منظر ہونے کے باوجود معاشرے کے کمزور طبقوں کی بات کی تھی اور انہیں اپنے حقوق کا شعور دیا تھا۔ بھٹو کی سیاست نے الیکشن میں پنجاب کے بڑے بڑے سیاسی بت توڑ دیے تھے۔ بھٹو اسلامی سوشلزم کا علمبردار تھا اور ملکی معیشت میں ایک بنیادی تبدیلی چاہتا تھا۔ اس کیلئے اس نے ایک انقلابی اقدام کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ اقدام کس طرح پاکستان کی معاشی اور سماجی صورتحال پر اثر انداز ہو گا۔ 1972ء میں حکومت کے اس اعلان نے سب کو چونکا دیا کہ ملک کی تمام صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہوئے اور نجی شعبے کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ خاص طور پر وہ تعلیمی ادارے جو مشنری اداروں کے زیراہتمام وجود میں آئے تھے اور جن کا تعلیمی معیار اور ماحول قابلِ رشک تھا‘ قومیائے جانے کے بعد تنزلی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح انتہائی غیرمعیاری نجی تعلیمی ادارے راتوں رات سرکاری بن گئے اور تمام سرکاری مراعات کے حقدار ٹھہرے۔ جلد ہی قومیائے جانے کے منفی ثرات سامنے آنے لگے۔ بعد میں اس پالیسی پر نظر ثانی کی کوشش کی گئی لیکن یہ ادارے پھر کبھی اپنے سابقہ معیار کو حاصل نہ کر سکے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے‘ 1979ء میں مَیں نے گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کی ڈگری مکمل کی تھی۔ اسی سال بھٹو کی پھانسی کا المناک واقعہ پیش آیا تھا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔
1979ء میں ہی افغانستان پر روس نے حملہ کر دیا جس کے براہِ راست اثرات پاکستان پر پڑے۔ اس وقت ملک میں آمریت تھی اور جنرل ضیا الحق ملک کے حکمران تھے۔ روس کے افغانستان پر حملے کو امریکہ نے ایک سنہری موقع جانا کہ وہ سوویت یونین کو اس جنگ کی دلدل میں پھنسا کر ویتنام میں اپنی شکست کا بدلہ لے سکے۔ ادھر جنرل ضیا الحق کو اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کیلئے امریکہ کی اشیرباد کی ضرورت تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان خم ٹھونک کر افغانستان کی جنگ میں شریک ہو گیا۔ بدلے میں امریکہ نے پاکستان کیلئے ڈالرز اور اسلحے کے انبار لگا دیے۔ پاکستان مختلف ممالک سے آئے ہوئے اُن مجاہدین کا مرکز بن گیا جو افغانستان میں روس کے خلاف جہاد میں شریک تھے۔ اس جنگ میں روس کو شکست ہوئی اور اسے افغانستان سے نکلنا پڑا لیکن پاکستان پر اس جنگ کے دور رس سماجی اثرات مرتب ہوئے۔
1979ء کا سال ایک اور لحاظ سے بھی بہت عام تھا کیونکہ اسی سال ہمارے ہمسائے ایران میں امام خمینی کا انقلاب برسوں کی شہنشاہیت کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا تھا۔ ایرانی بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے 1953ء میں اُس وقت کے جمہوری وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کو معزول کر کے گھر میں نظر بند کر دیا تھا۔ اس اقدام میں رضا شاہ پہلوی کو امریکہ اور برطانیہ کی حمایت حاصل تھی۔ رضا شاہ پہلوی کے دور میں کسی کو اختلافِ رائے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کی خفیہ تنظیم SAVAKسے ہر شہری لرزہ براندام تھا۔ لیکن کسے معلوم تھا کہ ایک دن امام خمینی کے پیروکاروں کے سامنے رضا شاہ پہلوی کی یہ مضبوط حکومت خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی اور رضا شاہ پہلوی پر یہ زمین تنگ ہو جائے گی۔ میں نے تاریخ کا یہ اہم واقعہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھا۔
70ء کی دہائی کی ایک اور اہم یاد 1974ء میں بھارت کی طرف سے کیے گئے ایٹمی دھماکے تھے جن سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن یکسر بدل گیا تھا۔ ان ایٹمی دھماکوں کے جواب میں اُس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ اسی دوران بیرونِ ملک مقیم ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھٹو سے رابطہ کر کے اپنی خدمات پیش کی یوں ایٹم بم بنانے کے سفر کا آغاز ہوا جو بعد میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ 1970ء کی دہائی سے جڑا ایک اور اہم واقعہ 1975ء میں شیخ مجیب الرحمن کا قتل ہے۔ شیخ مجیب الرحمن جو عوامی لیگ کے سربرا ہ تھے اور جنہوں نے 70ء کے الیکشن میں مشرقی پاکستان میں سب سے زیادہ نشستیں جیتی تھیں اور پھر بنگلہ دیش کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ شیخ مجیب کو ان کی اپنی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا اور قاتل کوئی اور نہیں بنگلہ دیشی فوج کے اپنے افسران تھے۔
70ء کی دہائی اس لحاظ سے بھی یادگار تھی کہ اس میں کھیلوں کے میدان میں پاکستان نے بڑی کامیابیاں سمیٹیں۔ 1970ء میں پاکستان نے ایشیائی کھیلوں میں ہاکی کے میچ میں بھارت کو ایک صفر سے ہرا دیا۔ پھر 1978ء میں بینکاک میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اسی سال پاکستان نے بیونس آئرس میں ورلڈ کپ جیتا اور 1978ء میں ہونے والی پہلی چیمپئنز ٹرافی جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اسی سال پاکستان نے باکسنگ کے مقابلوں میں دو گولڈ میڈ ل حاصل کیے۔ 1978ء میں ہی پاکستان کے بہرام اواری اور منیر صادق نے کشتی رانی کے مقابلے میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ 70ء کی رہائی کے آخر میں پاکستان میں سکواش کے کامیاب سفر کا آغاز ہوا جس نے آنے والے برسوں میں پاکستان کو سکواش کی دنیا کا بلا شرکتِ غیرے حکمران بنایا تھا۔
70ء کی دہائی مجھے فلموں‘ گیتوں اور مدھر موسیقی کی وجہ سے بھی یاد رہے گی۔ کیسی کیسی شاہکار فلمیں اس دور سے وابستہ ہیں۔ ہالی وڈ میں گاڈ فادر‘ جاز‘ سٹار وارز۔ اسی طرح بالی وڈ میں شعلے‘ دیوار‘ پاکیزہ‘ امر اکبر انتھونی اور لالی وڈ میں اُردو فلم آئینہ اور پنجابی فلم مولا جٹ۔ اسی طرح پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں خدا کی بستی‘ وارث‘ انکل عرفی‘ شمع‘ الف نون‘ اَن کہی‘ پر چھائیاں‘ کرن کہانی‘ ایک محبت سو افسانے اور شہ زوری شامل ہیں۔ وہ پاکستانی ڈراموں کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ڈراموں کے معیاری سکرپٹ تھے جنہیں معروف ادیبوں اشفاق احمد‘ امجد اسلام امجد‘ بانو قدسیہ‘ فاطمہ ثریا بجیا‘ حسینہ معین اور یونس جاوید جیسے ادیبوں نے تحریر کیا تھا۔ ان سکرپٹس میں ادبی رنگ‘ زبان کی چاشنی و شائستگی اور سماجی سچائیوں کا عکس نظرآتا ہے۔ بہت سے ڈرامے معروف ناولوں یا افسانوں پر بنائے گئے تھے۔ یہ سب کچھ شاید اس لیے ممکن تھا کہ اس وقت کمرشلائزیشن کا اس قدر دباؤ نہ تھا۔ ٹی وی اداکاروں کی ایک کہکشاں تھی۔ کچھ نام مجھے یاد آرہے ہیں۔ روحی بانو‘ طلعت حسین‘ خالدہ ریاست‘ قوی خان‘ شکیل‘ کمال احمد رضوی‘ فردوس جمال‘ عابد علی‘ راحت کاظمی‘ شجاعت ہاشمی اور منور سعید۔ یہ کسی طور مکمل فہرست نہیں۔ مجھے یقین ہے بہت سے نام اس فہرست میں شامل نہیں ہوں گے۔ موسیقی کے حوالے سے بھی 70ء کی دہائی بہت اہم ہے۔ پاکستان میں مہدی حسن‘ نور جہاں‘ غلام علی‘ نیرہ نور اور عالمگیر اور بھارت میں کِشور کمار‘ محمد رفیع‘ مکیش اور لتا اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
ستر کی دہائی پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دور تھا جس میں سیاسی ہنگامہ خیزی‘ ثقافتی رنگا رنگی اور کھیلوں کی شاندار کامیابیاں ایک ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔ اگرچہ اس دہائی کے واقعات اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں لیکن ان کے اثرات آج بھی ہماری سیاست اور معاشرت میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے وہ زمانہ دیکھا ان کیلئے ستر کی دہائی محض دس برسوں کا نام نہیں بلکہ یادوں‘ تجربات اور احساسات کی ایک ایسی کہکشاں ہے جس کی چاندنی ہماری یادوں میں اب بھی جگمگاتی ہے۔ (ختم)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved