تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     18-06-2026

نو سالہ ہانیہ کا قتل

لکھ لیجیے کہ نو سالہ ہانیہ کے قاتل کو سزا نہیں ملے گی!
اس لیے کہ بلی بچوں کے بجائے انڈے دے سکتی ہے۔ مردہ قبر سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔ سیب کے درخت پر تُنبے لگ سکتے ہیں۔ مگر مملکتِ خدادا میں کسی طاقتور قاتل کو پھانسی پر نہیں چڑھایا جا سکتا۔ چڑھایا گیا ہے نہ چڑھایا جائے گا۔ ہر بار دہرانا مناسب نہیں! کتنی ہی بار لکھا ہے کہ کوئٹہ‘ کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد میں طاقتوروں اور ان کی آل اولاد کو قتل کی کوئی سزا نہیں ملی۔ نام تک لوگوں کو یاد ہیں۔ ان میں ان کی بیٹیاں اور بیٹے بھی شامل ہیں‘ جو خود انصاف بانٹتے ہیں۔ ان طاقتوروں میں پولیس سرفہرست ہے۔ بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ پولیس اور حکمرانوں میں ایک غیر تحریری معاہدہ روبکار ہے۔ اس غیر تحریری معاہدے کی رو سے پولیس ریاست کی نہیں‘ حکومت کی نوکری کرے گی۔ ہر حکومت کی نوکری!! علاقے کے بڑے پولیس افسر کی تعیناتی اُس علاقے کے ایم این اے‘ ایم پی اے اور وزیر کی خوشی یا ناراضی پر منحصر ہو گی۔ حافظ آباد والا واقعہ تو چند دن پہلے کا ہے۔ پولیس افسر کو مکھی کی طرح نکال پھینکا گیا۔ عمران خان کے دور کی تو ابتدا ہی اس یاددہانی سے شروع ہوئی تھی کہ پولیس ریاست کی نہیں حکومت کی ملازم ہے۔ سینئر پولیس افسر کو وزیراعلیٰ نے طلب کیا اور پوچھ گچھ اس سے 'گجر دی گریٹ‘ نے کی۔ یہ ناممکن ہے کہ ایم این اے‘ ایم پی اے یا وزیر کے مقابلے میں پولیس کی طرفداری کی جائے۔ یہ صورتحال پولیس نے قبول کر لی ہوئی ہے۔ پولیس ہر حکومت کو خوش رکھتی ہے۔ کسی آئی جی نے آج تک حکومتِ وقت کو وارننگ نہیں دی کہ اس کے پروفیشنل کام میں مداخلت نہ کی جائے۔ اکثر وبیشتر ان کے ماتحتوں کے تبادلے کہیں اور سے ہوتے ہیں۔ اس کے بدلے میں پولیس کو سات خون معاف ہیں!! چلیے قتل کے اُن واقعات کو چھوڑ دیجیے جو ''پولیس مقابلے‘‘ کے نتیجے میں رونما ہوتے ہیں۔ بے شمار قتل پولیس کے تشدد سے ہوئے۔ کئی واقعات میں گولیاں ماری گئیں۔ کسی پولیس والے کو کبھی کوئی سزا نہیں ملی۔ آپ گزشتہ دس پندرہ سال کے اخبارات دیکھ لیجیے۔ تھانوں میں جو مظلوم موت کے گھاٹ اترے‘ ان کے حوالے سے ایسے ایسے واقعات ملیں گے کہ آپ کی نیند اُڑ جائے گی۔ صرف فیصل آباد کے ضلع کے واقعات بے شمار ہیں۔ دسمبر 2025ء میں تین اہلکار گرفتار کیے گئے۔ انہوں نے ایک ''زیر تفتیش‘‘ کو چوری کے الزام میں بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں اس کا انتقال ہو گیا۔ نومبر 2020ء میں صدیق نامی شخص کو تشدد سے ہلاک کرنے کے جرم میں پولیس کے چار ملازموں کے خلاف مقدمہ دائر ہوا۔ ان چار میں ایک اے ایس آئی اور ایک اس ایچ او بھی شامل تھا۔ جولائی 2022ء میں فیصل آباد جیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا۔ انہوں نے ایک قیدی پر تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیا۔ کوئی ہے پنجاب پولیس کا نمائندہ یا ترجمان جو بتائے کہ ان مقدمات کا کیا انجام ہوا؟ کیا قاتلوں کو پھانسی دی گئی؟
سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ قتل کرنے والا پولیس والا ہو اور اسے سزائے موت دی جائے۔ اکثر و بیشتر پولیس اسے بچانے کیلئے متحد ہو جاتی ہے۔ ہانیہ کے زخمی والد عدیل نے (جو اپنے کنبے کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتا ہے)بھی الزام عائد کیا ہے کہ چکوال پولیس سی سی ڈی اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس نے پولیس کی نام نہاد انکوائری پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جو پولیس کیلئے ہرگز باعثِ عزت نہیں۔ میڈیا کے مطابق ایس پی سی سی ڈی ایک طرف اعتراف کرتے ہیں کہ ''سی سی ڈی اہلکاروں نے قانون اور طے شدہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کی ہے‘‘۔ دوسری طرف اسی سانس میں فرماتے ہیں کہ ''اہلکاروں نے غلط فہمی کی بنیاد پر متاثرہ خاندان کی گاڑی پر فائرنگ کی‘‘۔ حضور! یہ غلطی نہیں جرم ہے!! ایسے ذومعنی بیانات ہی ہیں جن کی بنیاد پر مقتولہ کے والد نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پولیس کے اربابِ اختیار یہ بھی تو بتائیں کہ کروڑوں کے اخراجات کیے جا رہے ہیں۔ سیف سٹی کا ہنگامہ بپا ہے۔ سرکاری فون‘ سرکاری اسلحہ‘ سرکاری محلات‘ سرکاری گاڑیاں‘ سرکاری پٹرول مگر چکوال میں ڈاکو چار گھنٹے مختلف مقامات پر لوٹ مار کرتے رہے۔ اتنی دیر میں تو خلجی اور سوری کے زمانے میں بھی ڈاکو پکڑے جاتے۔ کہاں تھی پولیس اور کہاں تھی سی سی ڈی؟ کوئی ہے جو بتائے۔ نام کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ!! لیکن کرائم ہی کرائم ہے! کنٹرول کہیں نہیں۔ چار گھنٹے بعد نیند سے اٹھے اور انہیں ہی مار دیا جو ڈاکوئوں کا شکار ہوئے تھے! واہ جی واہ!! کیا بات ہے کرائم کنٹرول کی!
اعشاری نظام سے پہلے روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے۔ چار آنے کے سکے کو چوَنی کہتے تھے اور آٹھ آنے کے سکے کو اٹھَنّی کہتے تھے۔ ایک سکہ دو آنے کا بھی تھا۔ اسے پنجابی میں ''دُوانی‘‘ کہتے تھے۔ یہ چوکور ہوتا تھا‘ چار کونوں والا۔ پنجابی میں کونے کو''گُٹھ‘‘ کہتے ہیں۔ ''چوگٹھی‘‘ یعنی چار کونوں والی۔ اب وہ ماہیا دیکھیے جو پنجاب میں گایا اور سنا جاتا ہے:
چوگٹھّی دوانی آ
شملے دو رکھداں بابا!
گھر بھُکی زنانی آ
یعنی بابے کی دستار میں دو شملے ہیں مگر حالت یہ ہے کہ گھر میں بیوی بھوکی بیٹھی ہے۔ آج کل پاکستان پر یہ ماہیا ایسے فِٹ بیٹھ رہا ہے جیسے اسی کے لیے وجود میں آیا تھا۔ ایک طرف واہ واہ ہو رہی ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ میں جنگ بند کرائی۔ معاہدے کا کریڈٹ بھی پاکستان ہی کو دیا جا رہا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں دستخط کی تقریب کی میزبانی بھی پاکستان کر رہا ہے۔ حکومت کے وزرا‘ عمائدین اور نمائندے رات دن‘ صبح وشام‘ اس عزت پر فخر کر رہے ہیں جو اس جنگ کے حوالے سے پاکستان کو ملی ہے۔ دوسری طرف آسٹریلیا کا وزیراعظم پاکستان سے ہانیہ کی موت کی ''شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات‘‘ کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ بچہ بھی اس کا مطلب سمجھتا ہے کہ آسٹریلیا کے وزیراعظم کو شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی امید نہیں ہے‘ جبھی تو وہ اس کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تادم تحریر ہمارے وزیراعظم نے اپنے آسٹریلوی ہم منصب کے اس بیان کا جواب ہی نہیں دیا! ایک وزیراعظم کے مطالبے کا جواب وزیراعظم ہی کو دینا چاہیے۔ پروٹوکول اور اخلاق کا تقاضا تو یہی ہے۔ ہم وزیراعظم کی خدمت میں دست بستہ عرض کرتے ہیں کہ وہ آسٹریلیا کے وزیراعظم کو سچ بتائیں کہ بھائی صاحب!! ہانیہ پہلی انسان نہیں جو ہمارے ملک میں پولیس کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتری۔ جناب! یہ تو یہاں کا معمول ہے۔ انور مسعود صاحب کے بے مثال مصرع کے مطابق:
چھاہ ویلے، بَھتّے ویلے، دیگر ویلے، شام ویلے، روز جنگ مچدا اے
بلکہ ہماری وزارتِ خارجہ‘ بہتر ہے کہ تمام ملکوں کو بتا دے کہ پاکستان میں پولیس کے ہاتھوں شہریوں کا مارا جانا ایسا جرم نہیں جس کی سزا دی جائے۔ ایسی کوئی نظیر نہیں۔ اس لیے کسی دوسرے ملک کا شہری ہماری پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو جائے تو شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ رہا آسمانوں سے اترا ہوا اصول کہ عقل وخرد رکھنے والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ تو یہ اصول عقل وخرد رکھنے والوں کے لیے ہے!!
لکھ لیجیے کہ نو سالہ ہانیہ کے قاتل کو سزا نہیں ملے گی!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved