سچ تو یہ ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں کا بے پناہ فوجی‘ معاشی‘ علاقائی اور سیاسی نقصان نہ ہوا ہوتا تو یہ معاہدہ بھی نہ ہوتا جو اَب سوئٹزر لینڈ میں 19جون کو متوقع ہے‘ اگر اسے معاہدہ کہا جا سکے۔ بظاہر اسے معاہدے کی طرف دو طرفہ اتفاقِ رائے کہنا چاہیے۔ جو بھی نام ہو‘ یہ پاکستانی میزبانی میں ہو گا اور یہ پاکستان کیلئے بہت خوشی کی بات ہے کہ اس نے اعلیٰ سفارتکاری‘ بے مثال ثالثی اور دونوں طرف کی نزاکتوں کا خیال رکھتے ہوئے ضدی فریقین کو کچھ نکات پر متفق کر دکھایا ہے۔ بیشک ترکیہ‘ سعودی عرب‘ قطر بھی اس دوڑ دھوپ اور ثالثی میں حصہ دار رہے لیکن پاکستان کا مرکزی کردار ہے۔ یہ صرف متعدد عالمی فریقوں کے بیچ معاہدہ نہیں‘ اس میں بہت مشکل مسئلہ ایران کے سخت گیر اور معتدل عناصر کو ایک مؤقف پر اکٹھا کرنا بھی تھا۔ اس بات کی خوشی ہے کہ پاکستان میزبانی کرے گا لیکن یہ سوال بہرحال اٹھتا ہے کہ سوئٹزر لینڈکیوں؟ اسلام آبادکیوں نہیں؟ اس معاہدے کا نام تو اسلام آباد اکارڈ ہی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن میرے خیال میں بہت سے حساس معاملات اور خدشات درمیان میں تھے۔ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے والی طاقتیں بھی گھات میں بیٹھی ہوں گی۔ شاید سب سے بڑی وجہ تو ان دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہاں ممکنہ موجودگی ہے‘ اگرچہ ابھی نائب صدر کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن ایک وجہ مغربی ذہن کا یہ تصور بھی ہے کہ دنیا بھر میں امن مذاکرات میں سوئٹزر لینڈ ہی کو مرکز رہنا چاہیے؛ چنانچہ معاہدے کے مقام کو مسئلہ بنانے کے بجائے پاکستان نے معاہدے اور اس کے نفاذ کو اہمیت دی ہے اور یہ درست حکمت عملی ہے۔
اگر ایران اور امریکہ مجبور نہ ہوئے ہوتے تو یہ معاہدہ بھی نہ ہوتا۔ اندازہ کیجیے کہ دونوں کی جنگ ساڑھے تین ماہ جاری رہی۔ شاید کسی معاہدے اور کسی ثالث کو اتنی دو طرفہ ضد کا سامنا نہیں رہا ہو گا جتنا ان ثالثوں کو پیش آیا۔ یہ پاکستان کے بھی صبر و تحمل کا امتحان تھا۔ پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں تو سراہا ہی گیا لیکن بھارتی میڈیا بھی اس کے اعتراف پر مجبور ہوا۔ ایک بڑے بھارتی انگریزی اخبار نے بھی ذکر کیا کہ کس طرح پاکستانی قیادت نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں مدد دی بلکہ متعدد مواقع پر پیغامات‘ تجاویز اور جوابی مسودوں کی ترسیل بھی کی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کیا اور فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کروائی۔ اخبار نے یہ بھی لکھا کہ اگر معاہدہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو پاکستان کو ایک مؤثر علاقائی ثالث کے طور پر نئی شناخت مل سکتی ہے۔
معاہدے کو بعض مبصرین گزشتہ کئی دہائیوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں سب سے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ معاہدے کے نکات ابھی تصدیق شدہ نہیں لیکن بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ 14 نکات پر مشتمل ہے جس میں امریکہ کی طرف سے بحری ناکہ بندی 30دن کے اندر ختم ہو گی اور ایران کے قریب فوجی قوت بھی ہٹا لی جائے گی۔ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ ایرانی منجمد فنڈز‘ جو 24 ارب ڈالر کے قریب ہیں‘ مختلف مراحل میں بحال ہوں گے۔ 60 دن کے اندر مزید بات چیت ہو گی جس میں ایرانی نیوکلیئر پروگرام پر بھی بات چیت ہو گی۔ایک ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی میزائل پروگرام اور مختلف مسلح گروپس کو ایرانی مدد کے معاملات ایجنڈے سے نکال دیے گئے ہیں۔ پہلے ہی یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ غیر اعلانیہ طور پر ایران کو فنڈز واپس کیے جارہے ہیں۔ 300 ارب ڈالر کے ایک فنڈ کی بھی گونج ہے جو ایران کی تعمیرِ نو کیلئے استعمال ہونے کی خبریں ہیں۔
اگرچہ اپنی معاشی اور دفاعی وجوہات سے بھی پاکستان اپنے ہمسائے میں جنگ اور تبدیلی نہیں چاہتا تھا لیکن عالمی سطح پر بھی خود کو بطور ثالث منوانے کے اس عمل نے پاکستان کا وقار بہت بلند کیا ہے اور ممکن ہے پاکستان اس سے اپنے لیے معاشی فائدوں کا راستہ بھی کھول سکے۔ پاکستان اس لڑائی میں شریک نہیں تھا اس لیے یہ معاہدہ سب سے پہلے تو پاکستان کیلئے ہی بہت مثبت اثرات رکھتا ہے۔ لیکن جو ملک اس لڑائی میں براہِ راست یا بالواسطہ شریک تھے‘ ان پر اپنے اپنے اثرا ت ہوں گے۔ امریکہ کو لیجیے۔ ٹرمپ نے اس معاہدے کو اپنی سیاسی اور عسکری فتح کے طو رپر پیش کیا ہے۔ ٹرمپ کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ اسے امن کی علامت کے طور پر نوبیل انعام کیلئے نامزد کیا جائے۔ کوئی شک نہیں کہ امریکہ اس جنگ میں پھنس گیا تھا اور اس نے اپنی علاقائی اہمیت کھو دی ہے۔ امریکہ جیسی سپر پاور کو گنتی کے جہازوں اور ریڈارز وغیرہ کی تباہی سے زیادہ فرق نہیں پڑتا لیکن اس سے بہت فرق پڑتا ہے کہ اس کی سپر پاور کی حیثیت کو شدید نقصان پہنچ جائے۔ اگرچہ یہ نقصان ہو چکا لیکن امریکہ کو اس معاہدے سے فیس سیونگ ملنے کا راستہ ملتا ہے۔ نیز واشنگٹن کیلئے ایک مہنگے اور غیریقینی فوجی تصادم سے نکلنے کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ وہ عالمی تنقید جو اس پر مسلسل جاری تھی‘ ختم ہو سکتی ہے۔ یہ تنقید بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تھی۔ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی تجارت کی بحالی امریکی معیشت کیلئے بھی فائدہ مند ہو گی۔ یہ الگ بات کہ یہ آبنائے ہرمز تو جنگ سے پہلے کوئی مسئلہ تھی ہی نہیں۔ تیسرے‘ اگر ایران بین الاقوامی جوہری نگرانی کے نظام کو قبول کرتا ہے تو امریکہ اسے اپنی ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرے گا۔ امریکی ڈیموکریٹس بہرحال اس معاہدے پر شدید تنقید کریں گے۔ تاہم امریکہ کے اندر بعض حلقے اس معاہدے پر تنقید بھی کر سکتے ہیں‘ خاص طور پر وہ گروہ جو ایران کے خلاف زیادہ سخت پالیسی کے حامی ہیں۔
ایران کیلئے یہ معاہدہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ پہلا فائدہ یہ ہے کہ اس پر فوجی دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔ کئی ماہ کی کشیدگی اور جنگی ماحول کے بعد تہران کو داخلی معیشت اور تعمیرِ نو پر توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ دوسرا فائدہ ممکنہ اقتصادی ریلیف ہے۔ متعدد تجزیوں میں پابندیوں میں نرمی‘ منجمد اثاثوں کی رہائی اور ایران کی معیشت کی بحالی کے امکانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ تیسرا فائدہ بین الاقوامی سطح پر ایران کی سفارتی تنہائی میں کمی ہو سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو ایران دوبارہ علاقائی اور عالمی سفارتکاری میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ البتہ ایرانی مقتدرہ کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ ملک کے اندر یہ تاثر ابھرے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں دب کر سمجھوتے کر لیے ہیں۔ممکنہ طور پر معاہدے کے الفاظ اسی طرح رکھے گئے ہیں کہ ایرانی مقتدرہ کیلئے مسئلہ نہ بنیں۔ اس معاہدے کا بہت اثر اسرائیل پر پڑے گا۔ معاہدے میں اسرائیل کا براہِ راست کردار نہیں ہے حالانکہ جنگ میں براہِ راست کردار تھا۔ اسرائیلی قیادت ایران کے خلاف سخت مؤقف کی حامی ہے اور سمجھتی ہے کہ کوئی بھی نرمی ایران کو علاقائی سطح پر مضبوط بنا سکتی ہے۔ اس جنگ نے اسرائیلی طاقت کا پول بھی کھول کر رکھ دیا ہے اور اسرائیل کی ہیبت اور اہمیت بھی کم کر دی ہے۔ خلیجی ریاستوں خاص طور پر سعودی عرب‘ قطر‘ عرب امارات وغیرہ کیلئے آبنائے ہرمز اقتصادی لحاظ سے شہ رگ کی طرح ہے اور بحالی ایک سکون کے سانس کی طرح۔ تاہم اب یہ شہ رگ ایران کے ہاتھ میں ہونا انہیں مستقل ڈرائے رکھے گا‘ اور وہ متبادل راستوں پر مجبور ہوں گے۔ لبنان میں جنگ بندی بھی معیشت اور داخلی سیاست کیلئے مثبت پیش رفت ہو گی۔
لیکن یہ معاہدہ کتنا دیرپا ہو گا‘ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ بظاہر ٹرمپ کے موجودہ دور میں براہِ راست جنگ کا امکان ختم ہو گیا ہے۔ وہ دوبارہ پھنسنا نہیں چاہے گا لیکن کیا ایران اپنی بیرونی پالیسیاں بدلے گا؟ عرب ایران چپقلش ختم ہو جائے گی؟ میرا نہیں خیال کہ مستقل بنیاد پر ایسا ہونے والا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved