تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     18-06-2026

آئینہ

بجٹ کو عام طور پر اعداد وشمار کا گورکھ دھندا اور بھاری بھرکم اصطلاحات کی پہیلیوں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ دراصل وہ غازہ یا میک اَپ ہوتا ہے جو قومی معیشت کے مکروہ چہرے پر ملا جاتا ہے تاکہ داغ دھبے اور مہاسے چھپ جائیں اور ایک خوش کن تصویر عوام کے سامنے پیش کی جائے۔ مگر یہ غازہ اتنا شفاف ہوتا ہے کہ سارے داغ دھبے زیادہ نمایاں ہوکر نظر آنے لگتے ہیں۔ ماضی کے دس برسوں کا جائزہ لیں تو ایک برس بھی ایسا نہیں ملے گا کہ اُس وقت کی حکومت نے آمدو خرچ کاجو گوشوارہ پیش کیا تھا وہ اس پر پورا اتری ہو‘ تجویز کردہ محاصل وصول ہو جائیں‘ اخراجات قابو میں آئیں اور تمام اَہداف حاصل ہو جائیں۔ ہر سال کے دوران ان مجوّزہ محاصل پر بار بار نظرِ ثانی کی جاتی ہے لیکن پھر بھی یہ طے شدہ اہداف کبھی حاصل نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال قومی بجٹ کے ساتھ ضمنی بجٹ پیش کیا جاتا ہے کہ حکومت کی آمدنی مقررہ ہدف سے کم رہ جاتی ہے اور اخراجات اپنی مقررہ حد کو عبور کر جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے زوال کے بعد جب پی ڈی ایم کی حکومت آئی تھی تو کہا گیا تھا کہ ملک نادہندگی کے کنارے پر ہے اور اسے ڈیفالٹ کے خطرے سے بچانا ہے۔ بعد کے برسوں میں حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ نادہندگی کا خطرہ ٹل گیا ہے اور معیشت مستحکم ہوگئی ہے۔ کچھ عالمی اداروں کی جائزہ رپورٹیں بھی پیش کی جاتی رہیں کہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے۔ یہ ممالک کی معیشت کی درجہ بندی کے ادارے ہیں اور ان کی تجزیاتی رپورٹوں کو پیشِ نظر رکھ کر عالمی ادارے پسماندہ ممالک کو قرضے دیتے ہیں۔ معیشت کی عالمی درجہ بندی کے یہ ادارے ''موڈیز انویسٹر سروس‘‘، ''ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘‘ اور ''فِچ ریٹنگ‘‘ وغیرہ ہیں۔
حکومت تاحال معیشت کی ترقی کی دعویدار تو نہیں ہے لیکن یہ دعویٰ ضرور کرتی ہے کہ معیشت مستحکم ہو گئی ہے‘ جبکہ مستحکم معیشت کیلئے جو اشاریے درکار ہیں‘ وہ نظر نہیں آتے‘ مثلاً (1) حالیہ پیش کردہ بجٹ میں قرضوں کی واجب الادا اقساط اور سود کی مجموعی رقم 8054 ارب روپے ہے اور یہ حکومت کی کل مجوّزہ آمدنی کا تقریباً 43 فیصد ہے اور باقی 57 فیصد میں پورا نظامِ حکومت چل رہا ہے۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ معیشت کی صورتحال کیا ہے۔ (2) ادائیگیوں کا توازن کبھی بھی پاکستان کے حق میں نہیں رہا۔ (3) زرمبادلہ میں ہماری درآمدات کی مجموعی مقدار برآمدات سے زیادہ ہے اور اگر ہماری معیشت کو سہارا دینے کیلئے چین اور سعودی عرب کے سٹیٹ بینک میں جمع شدہ قرضوں کی رقم نکال لیں تو معیشت دھڑام سے گر جائے۔ (4) گزشتہ سال کا جو اقتصادی جائزہ حکومت نے خود پیش کیا ہے اُس کی رو سے حکومت تمام شعبوں میں اپنے مقررہ اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان میں زراعت اور صنعت کی سالانہ شرحِ نُمو بھی شامل ہے۔ (5) ہمارے پاس داخلی اور بیرونی قرضوں سے نجات کا ایک ہی نسخہ ہے اور وہ ہے: مزید در مزید قرض۔ (6) چونکہ مہنگائی کے سبب بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اپنے خاندانوں کیلئے زیادہ رقوم بھیجنا پڑ رہی ہیں اس لیے ترسیلاتِ زر میں تھوڑا بہت اضافہ ہوتا رہتا ہے لیکن ترسیلاتِ زر کی ان رقوم سے زرمبادلہ کے علاوہ کسی اور شعبے میں ہمیں سہارا نہیں ملتا۔ (7) حکومتیں شدید خواہش اور آئی ایم ایف کے دبائو کے باوجود پبلک سیکٹر میں خسارے میں چلنے والے اداروں کی نہ تو نجکاری کر سکی اور نہ انہیں ''نہ نفع اور نہ نقصان‘‘ کی سطح پر لا سکیں‘ تو جو حکومتیں ان اداروں کا احیا یا بحالی نہیں کر سکتیں‘ ان سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ ملکی معیشت کو ترقی کی شاہراہ پر رواں دواں کریں گی۔ (8) حکومت نے ''سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل‘‘ تشکیل دی تھی‘ اس کا مقصد قومی اور عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنا تھا لیکن اس کی بھی کوئی کرامت ظاہر نہ ہو سکی۔ (9) وزیراعظم نے اپنے ریکارڈ غیر ملکی دوروں میں جن مفاہمتی یادداشتوں یعنی MOUs پر دستخط کیے تھے ان کا بھی کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ وہ فائلیں الماریوں کی زینت بن گئیں اور وہ سارے فوٹو سیشن ہمارے وفاقی سیکرٹریٹ کی محفوظ یادداشتوں یعنی Archives میں محفوظ کر دیے گئے ہوں گے۔ (10) حکومت کا دعویٰ تھا کہ سرکاری اخراجات کم کیے جائیں گے مگر اس میں بھی کامیابی نہ مل سکی اس لیے کہ ہماری حکومتیں نوکر شاہی کے ملبے تلے دبی رہتی ہیں۔ (11) انسدادِ بدعنوانی اور احتساب کے متعدد اداروں کے باوجود بدعنوانی کو قابو کرنے میں حکومتیں ناکام ہیں۔ کوہستان سکینڈل اور سکھر حیدر آباد موٹروے سکینڈل اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ میڈیا میں شورو غوغا بپا ہوتا ہے اور پھر لوگ بھول جاتے ہیں۔ وائٹ کالر جرائم اس نفاست اور مہارت سے کیے جاتے ہیں کہ کلیم عاجز کے اس شعر کا مصداق ہیں:
دامن پہ کوئی چھینٹ‘ نہ خنجر پہ کوئی داغ ؍ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
مجید لاہوری نے کہا تھا:
میں بتاؤں تجھ کو تدبیرِ رہائی‘ مجھ سے پوچھ
لے کے رشوت پھنس گیا ہے‘ دے کے رشوت چھوٹ جا
(12) ایسے حالات میں کہ ملک کے سرمایہ دار اپنا سرمایہ متحدہ عرب امارات‘ بحرین اور دیگر ممالک میں منتقل کر رہے ہوں‘ غیر ملکی سرمایہ کار کس طرح پاکستان کا رخ کریں گے۔ (13) اکیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی حکومتوں نے اس بات کو اپنا مشن بنایا کہ معیشت کو دستاویزی بنایا جائے گا مگر ہر بار تاجروں اور سرمایہ داروں نے اس کی مزاحمت کی اور پھر ہر حکومت اس طبقے کے آگے سرنگوں ہو گئی۔ پرویز مشرف کے زمانے میں دکانداروں اور کاروباری حضرات نے بطورِ احتجاج دکانیں بند کیں تو جنرل پرویز مشرف نے کہا: ''یہ بند کرکے دیکھ لیں‘ یہ دس دن بعد بھی کھولیں گے تو ہمیں دروازے پر پائیں گے‘‘ مگر پھر انہوں نے بھی ہتھیار ڈال دیے اور مصلحت کوشی کو شعار بنا لیا۔ (14) حکومت معیشت کے استحکام کے دعوے کر رہی ہے لیکن برسرِ زمین موجود تمام حقائق وشواہد اس دعوے کی نفی کر رہے ہیں۔ (15) بلوچستان‘ خیبرپختونخوا اور اب کشمیر میں جو امن وامان کی صورتحال ہے اس کے ہوتے ہوئے بیرونی سرمایہ کار کس طرح پاکستان کا رخ کریں گے۔
(16) معیشت کے استحکام کی علامات یہ ہیں: ادائیگیوں کا توازن حکومت کے حق میں ہو‘ برآمدات درآمدات سے زیادہ یا کم از کم مساوی ہوں۔ افراطِ زر قابو میں ہو‘ ملکی کرنسی کی قیمت مستحکم ہو‘ حکومت کا کرنٹ اکائونٹ اور بجٹ کا خسارہ حد میں ہو‘ قرضے قابلِ برداشت سطح پر ہوں‘ سرمایہ کاری کا ماحول مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے قابلِ اعتماد ہو‘ سرمایہ اور سرمایہ دار کو تحفظ ملے‘ بیروزگاری عالمی معیشت کی اوسط شرح سے زیادہ نہ ہو‘ مجموعی قومی پیداوار میں معتد بہ سالانہ اضافہ ہوتا رہے جو آبادی میں اضافے کے تناسب سے زیادہ ہو‘ پیشہ ورانہ شعبوں میں تعلیم کا معیار اوسط عالمی معیار کے برابر یا اس سے بہتر ہو‘ امن وامان کی صورتحال قابو میں ہو جبکہ برسرِ زمین صورتحال اس کے برعکس ہے۔ الغرض حکومت کے اپنے پیش کردہ اقتصادی جائزے اور آئندہ سال کا بجٹ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قومی اور ملکی معیشت کی حقیقی تصویر کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
ہم کسی ایک حکومت کو مطعون کر کے گریز کی راہ اختیار نہیں کر سکتے۔ حکومتوں کی کارکردگی اُنیس بیس یا اٹھارہ بیس کے فرق کے ساتھ یکساں رہی ہے اور ہر حکومت نے اپنے حصے کا بوجھ قومی معیشت پر ڈالا ہے اور قومی قرضوں کی مقدار میں اضافہ ہی کیا ہے۔ کوئی حکومت یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس نے اپنے دورِ حکومت میں قرضوں کی مقدار کو کم کیا ہے۔ حکومت بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والے اداروں کی لوٹ مار سے ہی قوم کو نجات دلا دیتی تو غنیمت ہوتا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved