تحریر : اسد طاہر جپہ تاریخ اشاعت     19-06-2026

شریکا اک زہر قاتل

شریکا لفظ شریک سے ماخوذ ہے اور اس کے دائرے میں ہر وہ شخص شامل ہے جو ایک خاندان‘ ذات اور برادری سے تعلق رکھتا ہو اور حسب نسب‘ وراثتی زمین‘ جائیداد اور خاندانی عزت و وقار میں شریک یا حصہ دار ہو۔ ایک ہی ذات برادری اور باپ دادا کی اولاد ہونے کے باعث ایک خاندان کے تمام افراد بنیادی طور پر خود کو برابر سمجھتے ہیں مگر عملی طور پر سب برابر نہیں ہو سکتے۔ ہر شخص کی ذہانت‘ محنت اور صلاحیت دوسروں سے مختلف ہوتی ہیں جس کے باعث عملی زندگی کی دوڑ میں سب برابر نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے علاوہ ہر شخص کا اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے۔ یہ امر بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی کسی کو اپنا نصیب نہیں دے سکتا۔ ان تمام عوامل کے باعث ایک ہی خاندان اور والدین کی اولاد میں کامیابی کا معیار اور تناسب مختلف ہو سکتا ہے جس کے باعث سماجی مقام و مرتبہ اور معاشی آسودگی کے معیار بھی مختلف ہو جاتے ہیں۔ یوں حیثیت‘ عزت‘ دولت اور شہرت کے پیمانے یکساں نہیں رہتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا کی تقسیم پر اختلاف شروع ہو جاتا ہے اور جنہیں دستِ قدرت نے دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر دیا ہو انہیں ان کے اپنے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور شریکے کا شیش ناگ پھنکارنے لگتا ہے‘ اپنوں کی کامیابی ناگن بن کر ڈسنے لگتی ہے اور نفرت کا زہر انسانی جسم کی رگ و پے میں سرایت کرنے لگتا ہے۔ ایک ہی خاندان اور ذات برادری سے تعلق رکھنے والوں کو برابری کا وہم ہو جاتا ہے اور یہی حسد کی جڑ بن جاتا ہے۔ ایک ہی باپ کی اولاد ہونے کے باعث سب خود کو برابر سمجھتے ہیں اور یہی سب سے خطرناک نکتہ ہے۔ اللہ نے صلاحیت‘ رزق اور نصیب انسانوں میں تقسیم کر دیے ہیں لیکن ہم برادری کے نام پر زبردستی برابری مانگتے ہیں۔ یہ فطری عمل ہے کہ جو زیادہ ذہین ہے وہ آگے نکل جائے گا‘ زیادہ محنت اور لگن سے کام کرنے والا اپنے اردگرد نکمے اور نکھٹو لوگوں کو میلوں پیچھے چھوڑتے ہوئے شاہراہِ زیست پر بہت آگے نکل جائے تو باقی اس کی کامیابی پر ناز اور فخر کرنے کے بجائے اس سے حسد کرنے لگتے ہیں اور دن رات اس کی ٹانگیں کھینچ کر اسے گرانے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ یوں شریکے کی لت میں مبتلا خدا کی تقسیم کے منکرین بھی ہیں اور حاسدین بھی جو ہمہ وقت خود سے یہ کہتے رہتے ہیں کہ اسے ہی سب کچھ کیوں ملا‘ اور مجھے یہ کیوں نہیں مل سکا۔ تو گویا وہ لاشعوری طور پر یہ کہہ رہے ہوتے ہیں ''یا اللہ! تیری تقسیم غلط ہے‘‘۔ نعوذ باللہ! اس لیے نبی کریمﷺ نے حسد کو نیکیاں کھانے والی آگ کے مترادف قرار دیا ہے۔ اکثر اہلِ علم نے لکھا کہ حسد شرکِ خفی کی ایک شکل ہے۔
شریکا ہماری معاشرتی زندگی میں ایک تلخ حقیقت اور جان لیوا مرض بن چکا ہے۔ شریکے کا مریض ہمہ وقت دوسرے کی نعمت‘ کامیابی اور خوشی چھننے کی دعا بھی کرتا ہے اور ہر ممکن کوشش بھی۔ یہ زہر ہمارے خونی رشتوں سے لے کر برادری اور مقامی وسیب کی سانجھ کے خدو خال میں سرایت کر چکا ہے۔ خاندانی سطح پر ساس بہو‘ دیورانی جیٹھانی اور بہن بھائیوں کے درمیان مسابقت اکثر اوقات مخاصمت میں بدل جاتی ہے جس کے نتیجے میں گھر ٹوٹ جاتے ہیں اور خونی رشتے عمر بھر کیلئے چھوٹ جاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق طلاق کی 30 فیصد وجوہات میں قریبی رشتہ داروں کا عمل دخل شامل ہوتا ہے جنہیں اس شادی سے شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں معاشرتی سطح پر ٹانگیں کھینچنا ہمارا قومی کھیل بن گیا ہے۔ شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں شریکے کا زہر زیادہ پھیل چکا ہے۔ اگر کوئی اپنی شبانہ روز اَنتھک محنت سے کامیابی حاصل کر لے یا ترقی کر جائے تو اس کے اپنے اسے دعا نہیں دیتے بلکہ اسے گرانے اور نقصان پہنچانے کی سازش کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں لوگ کامیاب ہو کر اپنا گاؤں چھوڑ دیتے ہیں اور ہمیشہ کیلئے شہروں کے باسی بن جاتے ہیں۔ اکثر اوقات یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ایک کسان محنت کرتے ہوئے خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو تو اس کے شریک اس کی پکی فصل کو آگ لگا دیتے ہیں۔ اسی طرح اب جانوروں کو زہر دینے کا مذموم دھندہ بھی چل نکلا ہے۔ اسی طرح کاروباری لحاظ سے ایک شخص ترقی کرتا نظر آئے تو دوسرے اس کے خلاف منفی پراپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص مقام و مرتبہ پا کر معاشرے میں باعزت بن جائے تو اس کے شریک سارا دن لوگوں کے سامنے اس کی عیب جوئی کرتے نہیں تھکتے۔ شریکا دراصل حسد ہی کی ایک شکل ہے اور روحانی کینسر ہے۔
شریکا دراصل جہالت کی ایک بھیانک تصویر ہے اور ہمارے معاشرے میں لوگوں کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔ ہمارے ہاں ایک کی ترقی دوسرے کی توہین سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے کوئی بھی کسی دوسرے کو خود سے بڑا نہیں ہونے دیتا اور نہ ہی کسی کی خوشی اور خوشحالی برداشت کی جاتی ہے۔ لوگ اپنا زیادہ تر وقت‘ توانائی اور صلاحیت اپنی بہتری اور ترقی کے بجائے کامیاب ہونے والے افراد کی راہوں میں کانٹے بچھانے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ دوسروں کا چہرہ سرخ دیکھ کر اپنا منہ تھپڑوں سے لال کر لیتے ہیں۔ شریکوں کو گراتے ہوئے بسا اوقات لوگ خود کو برباد کر لیتے ہیں جس کا انہیں ادراک ہوتا ہے اور نہ کوئی ملال۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں یونیکورن‘ یعنی بلین ڈالر سٹارٹ اپس نہیں بنتے کیونکہ چند لوگ مل کر ہر باصلاحیت فرد کو گرانے پر تل جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو جب برادری کا کوئی بچہ سکالرشپ لے تو خاندان کے ساتھ ساتھ پورے گاؤں کی عزت بڑھتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی کسان جدید طریقہ اپنائے اور اپنی پیدوار بڑھانے میں کامیاب ہو جائے تو اس کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر پورے علاقے کی پیداوار بڑھ سکتی ہے۔ محض میں کی جگہ ہم کی سوچ آ جائے تو شریکا خوشحالی اور ترقی کا موجب بن سکتا ہے اور رکاوٹ نہیں رہتا۔ اب سوشل میڈیا کی چمک دمک اور مصنوعی نمود و نمائش نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور شریکوں کے ظاہر و باطن میں مزید آگ بھڑکا دی ہے۔ ہمارے بیرونِ ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں نے اپنی محنت کی کمائی واپس بھیج کر اپنے آبائی علاقوں میں عالیشان محلات نما گھر اور ڈیرے تعمیر کیے‘ مہنگی گاڑیاں خرید کر چودھراہٹ کی ایک نئی دوڑ شروع کر دی ہے۔ اگر آپ میرپور‘ گجرات اور منڈی بہاء الدین اور نواحی علاقوں میں جائیں تو وہاں شریکے کے اظہار کو عملی طور پر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ ان اضلاع کے متعدد افراد برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں آباد ہیں۔ اب ان کی شادی بیاہ کی تقریبات میں غیرملکی کرنسی کا بے دریغ استعمال ہونے لگا ہے اور اسے قصداً سوشل میڈیا پر وائرل کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ شریکوں کو آگ لگانے کیلئے ایندھن کا کام دیتا ہے۔ ہاں مگر شریکے کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ شریکوں کی دیکھا دیکھی لوگوں میں آگے بڑھنے کی تڑپ پیدا ہوتی ہے اور یوں ترقی کی وہ منازل بھی طے کر جاتے ہیں جو شریکوں کی عدم موجودگی میں شاید ممکن نہ ہو پاتیں۔ دوسرے لفظوں میں اب سوشل میڈیا نے شریکے کے زہر کو گاؤں سے نکال کر پوری دنیا میں پھیلا دیا ہے۔ پہلے لوگ اپنے چچا کے بیٹے کی ترقی سے جلتے تھے‘ اب ایلون مسک سے جلتے ہوں گے۔ یوں شریکے کا دائرہ عمل بڑا ہو گیا ہے مگر زہر وہی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved