اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں ایک سورت نازل فرمائی جس کا نام اپنے صفاتی نام پر ''الرحمن‘‘ رکھا ۔ اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام اللہ کے بعد جو صفاتی نام ہیں ان میں سرفہرست ''الرحمن‘‘ ہے۔ یعنی صفاتی اسمائے گرامی میں پہلا نام ''الرحمن‘‘ ہے۔ اس اسم گرامی کی تفسیر اللہ کے رسول ﷺ خود فرماتے ہیں۔ پھر یہ جو تفسیری حدیث ہے‘ حدیث کی اقسام میں یہ سرفہرست یعنی ٹاپ پر ہے۔ جی ہاں! حدیث کی اس نمبر وَن قسم کو ''حدیث قدسی‘‘ کہا جاتا ہے۔ حدیث قدسی وہ ہوتی ہے جس کے الفاظ کا الہام اللہ کی طرف سے حضورﷺ کے مبارک دل پر ہوا۔ ''حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں رحمن ہوں اور (یہ جو باہمی رشتہ داریاں ہیں جسے) ''رحم‘‘ (کہا جاتا ہے‘ اس لفظ) کو میں نے اپنے نام (رحمان) سے نکالا ہے۔ جو شخص اس رشتہ داری کو ملا کر رکھے گا میں اسے اپنے ساتھ ملا کر رکھوں گا اور جو شخص اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا میں اس کے پُرزے اڑا کر رکھ دوں گا‘‘۔ (سنن ابو دائود:1694، سندہٗ صحیح)
سورۃ الرحمن کی آیت: 12 میں اللہ تعالیٰ نے اُس اناج کی بات کی ہے جسے انسان کھاتے ہیں اور ان کی زندگی برقرار رہتی ہے۔ اس کو قرآن نے ''حَب‘‘ کہا ہے؛ یعنی گندم‘ جو‘ چاول‘ چنے وغیرہ کہ جن کا دانہ غلاف میں لپٹا ہوتا ہے۔ اس کی جمع '' حبوب‘‘ ہے۔ مگر مذکورہ آیت میں حب کے لفظ کو لا کر جمع کا مطلب لیا گیا ہے۔ اسی آیت کا اگلا اور آخری لفظ ''الریحان‘‘ ہے۔ اس کی جمع ''ریاحین‘‘ ہے۔ یہاں بھی واحد بول کر مراد جمع لی گئی ہے۔ اس کا معنی طرح طرح کی دل پسند خوشبوئیں دینے والے خوبصورت پھول ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ حضورﷺ نے اپنی مبارک زندگی میں کبھی پھولوں کا ذکر کیا ہو‘ اگر کسی کے علم میں ہو تو مجھے ضرور آگاہ فرمائے؛ البتہ ایک بار آپﷺ نے پھولوں کا ذکر فرمایا اور وہ بھی صرف دو پھولوں کا۔ صحیح بخاری میں ہے ''ھُمَا ریحانتای من الدنیا‘‘ یہ دونوں (حضراتِ حسن و حسین کریمین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو خوشبودار پھول ہیں‘‘۔ عربی زبان کے قواعد میں واحد جمع میں واحد کے بعد جوڑا اور پھر جمع کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جوڑے یعنی دو کے لیے ''تثنیہ‘‘ کا لفظ آتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے اس حدیث شریف میں تثنیہ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ بات واضح ہے کہ حضورﷺ کے دو پھول ہیں اور سب کو تلقین ہے کہ دنیا والو! ان پھولوں کا خیال کرنا‘ انہیں کہیں مسل نہ دینا‘ وگرنہ تم دنیا و آخرت میں مسلے جائو گے۔
عظیم انصاری خاتون حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا‘ جو مشہور خادمِ رسول صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ اور رشتے میں حضورﷺ کی خالہ لگتی تھیں‘ وہ بیان کرتی ہیں کہ حضورﷺ انصار کے گھروں میں تشریف لے جایا کرتے تھے تو ان کے گھر میں بھی تشریف فرما ہو جاتے تھے۔ ایک بار آپﷺ تشریف لے گئے تو تھوڑے آرام کے لیے لیٹ گئے۔ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے ایسا گدّا بچھایا جس کا غلاف صاف ستھرے چمڑے کا تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا‘ حضور ﷺ کا پسینہ مبارک گدے کے وسط میں ایسی جگہ اکٹھا ہو گیا جہاں قدرے نشیب تھا۔ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو اس پسینے مبارک کو ایک شیشی میں بھر لیا۔ صحیح بخاری اور حدیث کی دیگر کتب میں ہے کہ حضورﷺ کی آنکھ مبارک کھلی تو آپﷺ نے حضرت اُم سلیمؓ کے ہاتھ میں وہ شیشی دیکھی تو پوچھا کہ آپ یہ کیا کر رہی ہیں؟ تو عظیم صحابیہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ کے پسینے کو ہم لوگ اپنی خوشبوئوں میں ملاتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں۔ آپﷺ کا پسینہ بذاتِ خود زبردست خوشبو ہے۔ جی ہاں! جس طرح ہم لوگ اعلیٰ ترین خوشبو جو مہنگی اور نایاب ہوتی ہے‘ اس کے تھوڑے سے حصے کو کسی معمولی خوشبو والے تیل میں ملا دیتے ہیں تو اعلیٰ ترین خوشبو سے وہ تیل مزید خوشبودار ہو جاتا ہے۔ حضورﷺ کے پسینہ مبارک میں کستوری سے کہیں بڑھ کر نایاب خوشبو تھی۔ اس کا ایک قطرہ بھی دوسری شیشی میں پڑ جاتا تو ساری شیشی خوشبودار بن جاتی۔ سوچتا ہوں حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے شیشی بھر لی ہو گی‘ نجانے کتنی انصاری خواتین نے اپنی اپنی شیشیوں میں ایک ایک قطرہ حضرت اُم سلیمؓ سے لیا ہوگا۔
حضرات حسن و حسین کریمین رضی اللہ عنہما اپنے نانا جان کے جگر گوشے ہیں۔ حضورﷺ سجدے میں جاتے ہیں تو آپﷺ کی کمر مبارک پر سوار ہو کر کھیلتے ہیں۔ حضورﷺ سجدہ لمبا کر دیتے ہیں۔ آپﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے ہیں تو حضرت فاطمۃ الزہرا بتول رضی اللہ عنہا اپنے دونوں جگر گوشوں کو تیار کر کے مسجد میں بھیج دیتی ہیں۔ دونوں ہنستے کھیلتے اپنے نانا جان کی طرف بڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دونوں کو دیکھتے ہیں تو خوش ہو کر جگہ دیتے چلے جاتے ہیں۔
آج مسجد نبوی شریف میں عجب منظر ہے۔ فرشتے بھی خطبہ جمعہ سننے آئے ہیں۔ عرش والا رب تعالیٰ بھی یہ منظر دیکھ رہا ہے۔ حضورﷺ منبر سے اترتے ہیں‘ آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ اللہ! ان دو پھولوں کی خاطر سجدہ بھی لمبا اور حضورﷺ منبر پر تشریف فرما ہوں تو منبر چھوڑ دیا۔ اے کرسی والو! ذرا غور کرنا! حضورﷺ جنت کے سرداروں کے استقبال میں منبر چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں اور دونوں کو لے کر منبر پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اللہ کی قسم! یہ ایک پیغام تھا اس ملعون عاص بن وائل کے لیے جس نے حضورﷺ کے صاحبزادے کی وفات پر مکہ میں کہا تھا کہ محمد (ﷺ) کا نام لیوا اب کوئی نہیں رہا۔ اسی بدبخت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے سورۃ الکوثر کا نزول فرمایا اور واضح کر دیا کہ ''ان شانئک ھو الابتر‘‘۔ بے شک آپ کا دشمن اور آپ سے بغض رکھنے والے ہی بے نام و نشان رہیں گے۔ یہ تو ختم نبوت کا تقاضا تھا کہ حضورﷺ کا صلبی بیٹا باقی نہ رہے مگر حضرات حسن و حسین کریمین رضی اللہ عنہما کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسولﷺ کے بیٹے قرار دیا۔ آج دنیا میں عترتِ رسول‘ ساداتِ مصطفی لاتعداد ہیں۔ جی ہاں! اللہ کے رسولﷺ اپنے ان دونوں جگر گوشوں کو چومتے تھے‘ حسن و حسین کریمین رضی اللہ عنہما کی خوشبو کو سونگھتے تھے۔
الحمدللہ! مسلمانانِ پاکستان اللہ کے رسول کے ان دونوں پھولوں سے محبت کرنے والے ہیں۔ ان دونوں پھولوں سے صحابہ کرامؓ بھی محبت کرتے تھے۔ ہم ان سب کے ماننے والے اور ان سے محبت کرنے والے ہیں۔ حضورﷺ کی ازواجِ مطہرات‘ مومنوں کی مائیں دونوں پھولوں سے بے پناہ محبت کرتی تھیں۔ یہ عظیم مائیں‘ صحابہ کرام‘ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم‘ یہ سب ہمارے دلوں کا سرور ہیں‘ آنکھوں کا نور ہیں۔ سب کی نسبتیں اس ہستی کے ساتھ ہیں جو ہم سب کے لیے گرامی قدر ہے‘ یعنی حضور محمد مصطفیﷺ۔
نئے اسلامی سال کا آغاز ہوا ہے۔ محرم الحرام کا حرمت والا مہینہ آیا ہے۔ آئیے! باہم سب حرمتوں کے پاسبان بن جائیں۔ پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا کردار ادا کریں۔ پاک وطن کی قیادت نے جس طرح دنیا کو جنگ کے بھنور سے نکالا ہے‘ مشرق وسطیٰ میں بدامنی کو تالا لگایا ہے‘ اسی چابی کو اپنی عزت اور فخر قرار دے کر پاک وطن کو پُرامن بنائیں۔ معاشی خوشحالی کی سیڑھیوں کے زینے دکھائی دینے لگ گئے ہیں۔ ان پر اکٹھے ہو کر قدم رنجہ فرمائیں۔ یا اللہ! پاک وطن کو اتحاد و یگانگت کا گلشن بنا دے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved