معاہدہ ہو گیا۔ اب کس کی عقل کا ماتم کیا جائے اور کس کی بصیرت کو عقیدت کا خراج پیش کیا جائے؟
فتح و شکست کے تعین سے پہلے بطور مقدمہ عرض ہے کہ یہ بحران ایک شخص کا پیدا کردہ تھا‘ جس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔ بلاسبب اس نے ایک جنگ کا آغاز کیا۔ بہت سوں کی جان لی۔ ساری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کیا۔ امریکہ کے اربوں ڈالر برباد کیے اور اس کے بدلے میں کیا خریدا: ذلت‘ رسوائی اور جگ ہنسائی۔ یہ کام مفت میں بھی ہو سکتا تھا مگر اس تاجر نے چونکہ زندگی بھر 'ڈیل‘ کی ہے‘ اس لیے اُسے اطمینان اسی وقت ہوا جب یہ سب کچھ ایک ڈیل کے نتیجے میں حاصل ہوا۔ لگتا ہے کہ اس کا جی ابھی بھرا نہیں ہے۔ اس کا ارادہ یہی ہے کہ یہ سلسلہ ختم ہو نے کو نہ آئے۔ جب تک عالمی منصب سے امریکہ کی مکمل معزولی نہیں ہو جاتی ہے‘ وہ ڈیل پہ ڈیل کرتا رہے گا۔ چونکہ ذلت کا یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا اس لیے دستخطوں کے بعد بھی‘ شکوک کے بادل بدستور منڈلا رہے ہیں۔ امریکی خاکستر میں ایسی چنگاری بھی تھی‘ کس نے سوچا ہو گا۔
شکست بہرحال امریکہ کے حصے میں آئی۔ تو کیا ایران کو فاتح قرار دے دیا جائے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے کچھ توقف کرنا پڑے گا‘ اگرچہ اس وقت اس کا پلڑا بھاری ہے۔ یا یوں کہیے کہ اگر صرف چند ماہ کے جنگی دورانیے کو سامنے رکھا جا ئے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایران نے یہ جنگ جیت لی۔ اس حوالے سے بھی اسے ایران کی جیت کہا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جن مقاصد کے حصول کے لیے یہ جنگ چھیڑی تھی وہ اسے حاصل نہ ہو سکے۔ ایران میں مذہبی طبقے کا اقتدار نہ صرف قائم ہے بلکہ اقتدار پر اس کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے۔ اس کی معاشی حالت جتنی پہلے خراب تھی‘ اب بھی اتنی ہی ہے۔ اس کا دفاعی نظام ڈرون ٹیکنالوجی پر منحصر تھا اور اس کی یہ صلاحیت باقی ہے۔ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول اب بھی ہے۔ امریکہ اس سے یہ ہتھیار چھین نہیں سکا۔ اس کا ایٹمی پروگرم بھی پھر زندہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے چند ماہ کی یہ معرکہ آرائی سامنے رہے تو اسے فاتح کہا جا سکتا ہے۔
وسع تر تناظر میں البتہ یہ فتح مشکوک ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جنگ میں اب فتح و شکست کے روایتی معیارات بدل گئے ہیں۔ ایران شکست وریخت کے ایک ایسے عمل سے گزرا ہے جس نے اس کے داخلی ڈھانچے کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات متحقق ہو گئی ہے کہ اگر جنگی جہاز اس کی سرزمین کو نشانہ بنائیں تو وہ انہیں روکنے پر قادر نہیں ہے۔ وہ یہ تو کر سکتا ہے کہ اپنے میزائلوں سے مخالف کو ہدف بنائے‘ اگر وہ ان کی زد میں آ جائیں لیکن باہر سے آنے والے جہازوں کو روک سکتا ہے نہ میزائلوں کو۔ اس کے شہروں کے سر برہنہ ہیں۔ یہ بات ساری دنیا کو معلوم ہو گئی۔ دفاع کے باب میں بھرم کی اپنی اہمیت ہے‘ جسے باقی رہنا چاہیے۔
تیسرا یہ کہ ایران کو اپنی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر اور برسہا برس درکار ہیں۔ معاہدے کے باوصف‘ امریکہ اس کا بآسانی پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ اسے تین سو بلین ڈالر کی جو امید دلائی جا رہی ہے‘ اس کے ساتھ کچھ ایسی شرائط منسلک ہوں گی جنہیں پورا کرنا ایران کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ یوں یہ معاملہ لٹکتا جائے گا۔ اس جنگ نے ایران کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ معاشی حالات نے جنگ سے پہلے جس داخلی خلفشار کو جنم دیا تھا وہ پھر سے سر اٹھا سکتا ہے۔ ایرانی حکومت نے طاقت سے اس کو روک لیا تھا اور پھر جنگ نے بھی احتجاجی لہر کو کمزور کرنے میں ایک کردار ادا کیا۔ یہ لہر پھر اٹھ سکتی ہے۔ اس کا کوئی امکان نہیں کہ ایران اپنی پراکسیز بند کر دے‘ بالخصوص لبنان میں۔ یہ عمل وسائل طلب ہے۔ اس لیے معاشی مسائل کم نہیں ہوں گے اور نتیجے میں عوامی اضطراب بھی۔ اس کو سامنے رکھیں تو فتح کا وہ احساس گہنا جاتا ہے جس سے ایران اور اس کے دوست سرشار ہیں۔ ایرانی قیادت کے بیانات میں جارحیت کا عنصر بھی نیک شگون نہیں۔
جو لوگ بغیر وجہ کے اس جنگ سے متاثر ہوئے‘ وہ عرب ممالک ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو اڈے بنانے کے لیے جگہ دی تاکہ وہ مخالفین سے ان کی حفاظت کرے۔ نہ صرف یہ کہ امریکہ ان کی حفاظت نہیں کر سکا‘ انہیں ان اڈوں کی قیمت ان حملوں کا سامنا کر کے ادا کرنا پڑی جو ایران کی طرف سے ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کا نقصان دو طرفہ ہے کہ دبئی کا معاشی مستقبل شکوک وشبہات کی زد میں ہے۔ خطے میں ایک بڑی سیاسی وجغرافیائی تبدیلی کا امکان پیدا ہو گیا ہے جو عرب امارات کے لیے نیک شگون نہیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ایران کی تعمیرِ نو کے لیے تین سو بلین ڈالر بھی یہی دیں گے۔ مجھے شبہ ہے کہ وہ اس پر آمادہ ہوں گے۔ معاہدے میں چونکہ اس کے لیے کوئی حکمتِ عملی طے نہیں کی گئی‘ اس لیے گمان ہے کہ یہ مشروط ہو گا۔ شرط یہ ہو گی کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں اپنی پراکسیز ختم کرے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو ایک مضبوط ایران عرب ممالک کے لیے پہلے کی طرح خطرے کی علامت بنا رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عرب اتنے سادہ لوح ہیں کہ ا یران کو پھر سے مضبوط بنانے کے لیے اتنے وسائل فراہم کر دیں گے؟
سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو پہنچا ہے۔ میرا احساس ہے کہ شیعہ سنی تقسیم پھر سے زندہ ہو گئی ہے۔ اس جنگ کا ابتدائی تناظر ایک تھا۔ یہ ایران بمقابلہ امریکہ تھا۔ اس موقع پر سب مسلمانوں کی ہمدردی‘ الّا ماشاء اللہ‘ ایران کے ساتھ تھی۔ بعد میں اس کے تناظرات میں اضافہ ہوتا گیا۔ بعض عاقبت نااندیشوں نے اسے گروہی مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہا اور ایرانی انقلاب کی طرح اسے 'شیعہ احیا‘ کا وسیلہ بنانے کی کوشش کی۔ ایسی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا گیا جو مسلکی شناخت کے اظہار کے لیے ہیں۔ اس کا ردعمل بھی ہوا‘ ویسے ہی جیسے انقلاب کے وقت ہوا تھا‘ جب اس کو پھیلانے کی بات کی گئی تھی۔ مجھے خدشہ ہے کہ مسلم ملکوں میں معاشی مسائل کے ساتھ سماجی اضطراب میں بھی ا ضافہ ہو گا۔ پاکستان نے ایران کے لیے ایک باعزت راستہ تلاش کرنے میں جو کردار ادا کیا‘ ایک گروہ کو اس کا ادراک نہیں جو مسلک کی عینک پہنے ہوئے ہے۔ وہ سیاسی و عسکری قیادت پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ یہ اس جنگ کا وہ نتیجہ ہے جو مسلمانوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
پس ثابت ہوا کہ اس جنگ کاحقیقی معنوں میں کوئی فاتح نہیں۔ سب متاثرین ہیں۔ کوئی کم‘ کوئی زیادہ۔ ایک شخص کی حماقت نے عالمِ انسانیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی کو ایسے منصب پر بٹھاتے وقت سو بار سوچنا چاہیے‘ جس کا تعلق لوگوں کی زندگی اور جان ومال سے ہے۔ ٹرمپ نے امریکی ذلت ہی کا سامان نہیں کیا ساری دنیا کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ جب تک امریکہ عالمی طاقت ہے‘ ضرورت ہے کہ اس کے صدر کا انتخاب کرنے والوں کی تربیت کی جائے۔ امریکہ ساری دنیا میں جمہوریت کے فروغ کے لیے وسائل فراہم کرتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ان وسائل کو اپنے عوام کے سیاسی شعور کی بہتری پر صرف کرے۔ انہیں اس کی اشد ضرورت ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved