تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     20-06-2026

ایران امریکہ ڈیل کے اثرات

ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدۂ امن کیلئے ''اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘‘ پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹرانک دستخط ہو جانے کے بعد دونوں ملکوں میں گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ باضابطہ طور پر ختم ہو گئی ہے۔ دونوں ملکوں نے 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا مگر امریکی افواج کی طرف سے آبنائے ہرمز کے گرد و نواح میں ایرانی دفاعی تنصیبات پر حملوں اور جواب میں ایران کی جانب سے بعض خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملوں کی صورت میں اس عارضی جنگ بندی کی متواتر اور تشویشناک خلاف ورزیاں جاری تھیں۔ اب ایم او یو پر دستخط ہونے سے نہ صرف ان خلاف ورزیوں کا سلسلہ رک گیا ہے اور جن اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے ان پر عمل درآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ مثلاً ایران نے تیل اور گیس کے ٹینکروں اور دیگر کارگو جہازوں پر آبنائے ہرمز سے گزرنے پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی پر مامور جہازوں کو پیچھے ہٹا لیا ہے۔ اب ایران کے تیل بردار ٹینکر اور کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ اسی طرح بیرونِ ملک سے آنے والے بحری جہاز ایران کی بندرگاہوں پر بلا روک ٹوک آ سکتے ہیں۔
ایم او یو کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس پر ایرانی اور امریکی صدور کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے بھی دستخط ثبت ہیں‘ جو اس پورے عمل میں ثالث کی حیثیت سے پاکستان کے مرکزی کردار کا اعتراف ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس اہم دستاویز پر دستخط کیلئے کوئی رسمی تقریب منعقد نہیں کی گئی بلکہ صدر مسعود پزشکیان‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف نے بالترتیب تہران‘جی سیون سربراہی کانفرنس کے دوران فرانس میں اور اسلام آباد میں اس دستاویز پر الیکٹرانک دستخط کیے۔ قبل ازیں 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ایم او یو پر دستخط کی رسمی تقریب کے انعقاد کا پروگرام بنایا گیا تھا جس میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ حکام کے علاوہ پاکستانی وزیراعظم کی شرکت بھی متوقع تھی مگر 18 جون کو تینوں رہنماؤں کے الیکٹرانک دستخط ہو جانے کے بعد سوئٹرزلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں طے شدہ رسمی تقریب کے انعقاد کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
'اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘ کے نام سے جس دستاویز پر دستخط کیے گئے ہیں‘ وہ 14 نکات پر مشتمل صرف ڈیڑھ صفحے کی ایک مختصر مگر انتہائی اہم دستاویز ہے کیونکہ اس میں فریقین (ایران اور امریکہ) نے ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے بعض امور پر اتفاق کیا ہے۔ ان امور کو 14نکات کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دستاویز ایک فریم ورک ہے‘ جس کے اندر رہتے ہوئے ایران اور امریکہ 19جون سے مذاکرات کے سلسلے کا آغاز کریں گے اور اگلے 60 دنوں میں مسائل کے متفقہ حل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات کار 14نکات کی صورت میں بیان کردہ مسائل 60دنوں میں حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ اس ضمن میں ماہرین اور تجزیہ کاروں میں جو متفقہ رائے پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا تمام تر انحصار اسرائیل کی انتہا پسند حکومت اور وزیراعظم نیتن یاہو کے رویے پر ہے۔ اسرائیل نے ایران امریکہ 14نکاتی ڈیل کو مسترد کیا ہے اور جنگ بندی معاہدے اور صدر ٹرمپ کے مطالبے کے باوجود جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ نیتن یاہو حکومت نے صاف کہا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کیلئے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھیں گے۔ حالانکہ معاہدے میں جس سیز فائر کا ذکر کیا گیا تھا‘ اس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ایران نے واضح طور پر اعلان کر رکھا ہے کہ 'معاہدے‘ پر اسرائیل سے عمل کروانے کی ذمہ داری امریکہ کی ہے اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ طے شدہ ڈیل کی کامیابی کا خواہشمند ہے تو اسے لبنان میں حملے بند کرانے کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا پڑے گا۔ اسرائیل کی جانب سے درپیش چیلنج کے علاوہ ماہرین اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ ماضی کے تلخ تجربات اور فریقین کے مابین عدم اعتماد کی وسیع خلیج کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین مذاکرات آسان نہیں ہوں گے کیونکہ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے علاوہ باقی تمام مسائل جوں کے توں موجود ہیں اوریہ انتہائی اہم مسائل ہیں جن پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان اختلافات کو دور کرنے کیلئے 60 دن کی مہلت کافی نہیں‘ اس لیے عام رائے ہے کہ اس مدت میں توسیع ہو سکتی ہے۔
2015ء کے معاہدے کیلئے اوباما دور میں فریقین کے مابین تقریباً ایک سال مذاکرات جاری رہے تھے‘ اس لیے موجودہ ڈیل کے مطابق حتمی معاہدے کے حصول کیلئے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اگر سال بھر نہیں تو کئی ماہ تو ضرور جاری رہ سکتے ہیں۔ مثلاً ایران کی طرف سے مطالبہ کیا جائے گا کہ ڈیل کے مطابق اس پرعائد معاشی پابندیاں فوراً اٹھائی جائیں اور امریکہ نے اس کے جو اثاثے منجمد کر رکھے ہیں انہیں ریلیز کیا جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کا اصرار ہے کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد کی رفتار اور سمت کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ اسی طرح 3.67فیصد سے زیادہ افزودہ یورینیم کو ڈیل کے مطابق ٹھکانے لگانے کیلئے بھی خاصے وسائل درکار ہوں گے کیونکہ یہ مواد ان پہاڑوں کے نیچے محفوظ ہے جن پر صدر ٹرمپ کے حکم سے گزشتہ سال جون میں B2طیاروں کے ذریعے بمباری کی گئی تھی۔
ڈیل کے مندرجات کی تشریح اور اس میں طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے باوجود غالب امکان یہی ہے کہ قلیل اور درمیانی مدت کے دوران خطے میں دوبارہ جنگ نہیں چھڑے گی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں اس ڈیل کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کو امن کی ضرورت ہے۔ ساڑھے تین ماہ کی جنگ میں ایران کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ اسے اپنی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کیلئے پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کی اشد ضرورت ہے‘ جو صرف ڈیل پر پوری دیانتداری اور تیزی کے ساتھ عملدرآمد ہی سے ممکن ہے۔ اسی لیے امریکی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے خلیج فارس سے غیر ملکی ٹینکروں اور کارگو جہازوں کے گزرنے پر عائد پابندیاں اٹھا لی ہیں اور امریکہ نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے بین الاقوامی تیل اور گیس کی منڈیاں بری طرح متاثر ہو رہی تھیں اور صدر ٹرمپ پر اس حوالے سے دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ ایران اور امریکہ کی اس جنگ نے آبنائے ہرمز کی مرکزی حیثیت اور اہمیت کو پوری طرح اجاگر کر دیا ہے کیونکہ اس راستے سے گزرنے والی تیل اور گیس کی ترسیل رکنے سے نہ صرف بین الاقوامی توانائی کی منڈی میں بحران پیدا ہو گیا بلکہ مصنوعی کھاد اور دیگر اشیا کی سپلائی بھی متاثر ہوئی جس کے باعث دنیا میں توانائی کے علاوہ خوراک کی قلت کا اندیشہ بھی بڑھ گیا تھا۔ یہ جنگ امریکہ میں بھی غیر مقبول ہوتی جا رہی تھی اور اس کے سبب صدر ٹرمپ کو سیاسی نقصان پہنچ رہا تھا۔ امریکہ کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے جنگ سے لاتعلقی کے اعلان اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی جانب سے شدید دباؤ کے باعث صدر ٹرمپ کو بالآخر اسرائیل کی خواہشات کے برعکس ایران کے ساتھ ایک ایسی ڈیل پر متفق ہونا پڑا جسے اسرائیل اور امریکی کانگریس میں اسکی حامی لابی ایران کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے رہی ہے۔ لیکن کیا یہ ڈیل امریکہ کی ''شکست‘‘ اور ایران کی ''فتح‘‘ ہے؟ اور کیا یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار اور مستقل امن کا ضامن بن سکتا ہے؟ اس پر اگلے کالم میں بات کی جائے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved