حکومت کی طرف سے آئندہ مالی سال کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے کا مجموعی وفاقی بجٹ پیش کیا جا چکا ہے‘ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقتصادی ترقی‘ ٹیکس ریلیف‘ کم آمدنی والے طبقات‘ مہنگائی پر قابو پانے‘ ہائوسنگ وتعمیرات‘ زراعت وصنعت سمیت مختلف شعبہ جات کیلئے مراعات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے اور بڑے تنخواہ داروں کو ریلیف ملا ہے۔ لیکن بجٹ کا سرسری جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ اس بجٹ کو کسی بھی طرح عوامی بجٹ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے اور صحت وتعلیم کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمہ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید‘ غربت کی شرح‘ غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔ ایک مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت میں 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو 37 ہزار سے بڑھ کر 40 ہزار 700 روپے ہو جائے گی۔ صوبوں میں البتہ کم از کم تنخواہ کا معاملہ مختلف ہے۔ جب کم از کم اجرت 37 ہزار روپے تھی تو میں اپنے ادارے کے ملازمین کو40 ہزار روپے اور جب 40 ہزارروپے ہوئی تب 45 ہزار روپے دے رہا تھا۔ امسال میرے ادارے کے ایک ملازم نے مجھے چار افراد پر مشتمل اپنے گھر کا بجٹ بنا کر دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ آپ 44‘ 45 ہزار روپے کو چھوڑیں‘ 50 ہزار روپے ماہانہ میں صرف چار افراد کے کنبے پر مشتمل ایک عام آدمی کے گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں تو میں آپ کو مان جاؤں گا۔ ملازم کے پیش کردہ بجٹ میں صرف ضروریات کا ذکر ہے‘ کسی سہولت کا تذکرہ یا خرچہ شامل نہیں۔ اس کے گھر میں مائیکرو ویو اوون‘ فریج یا واشنگ مشین نہیں‘ اس کی بیگم 'تھاپے‘ سے کپڑے دھوتی ہے۔ سخت گرمی میں گھر میں صرف ایک پنکھا چلتا ہے اور دو سے تین انرجی سیور ہیں۔ روم کولر کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ پھر بھی 4500 سے پانچ ہزار روپے تک بجلی کا بل آتا ہے۔ گیس اور پانی نہ ملنے کے باوجود بل چار سے پا نچ ہزار روپے ضرور آتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے غریب آدمی پیدا ہی یہ بل اداکرنے کیلئے ہوا ہے۔ چار افراد کیلئے دال روٹی اور سبزی پر مشتمل تین وقت کا کھانا کم از کم ایک ہزار روپے میں تیار ہوتا ہے‘ اس میں کوئی مرغی یا گوشت شامل نہیں‘ وہ تو صرف قربانی پر نصیب ہوتا ہے۔ اس طرح 30 ہزار روپے کھانے پینے پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ دس ہزار روپے دفتر آنے جانے کیلئے موٹر سائیکل کے پٹرول پرصرف ہو جاتے ہیں۔ اس طرح 50 ہزار کا بجٹ پورا ہو جاتا ہے۔ بچے سرکاری سکول میں پڑھتے ہیں‘ اس لیے وہاں پڑھائی ہے نہ کوئی خرچہ۔ بچے بھاری بھرکم سکول بیگ نازک کمر پر لاد کر پیدل سکول جاتے ہیں۔ آئے روز ایک کے بعد دوسرا بچہ گرمی یا سردی سے بیمار ہو جاتا ہے اور دوائی کیلئے پیسے نہیں ہوتے۔ گھر تین مرلے کا اپنا ہے‘ خدا نخواستہ اگر کرایے کا ہوتا تو اس غریب آدمی کا دیوالیہ نکل جاتا۔ مکان کا کرایہ غریب آدمی کی کم توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ میں نے اس کا بجٹ دیکھا تو دم بخود رہ گیا۔ اس کے دعوے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
آدمی جب صبح بیدار ہوتا ہے تو اس کوسب سے پہلے ٹوتھ برش اور پیسٹ چاہیے ہوتا ہے‘ پھر اس کو نہانے کیلئے پانی درکار ہوتا ہے‘ پانی حاصل کرنے کیلئے بجلی کی ضرورت پڑتی ہے‘ اس کے بعد اسے اپنے کپڑوں کیلئے استری اور بجلی چاہیے ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کو ناشتہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک فیملی کے چار لوگ اپنے لیے آدھے آدھے انڈے کا آملیٹ بھی بنائیں تو آپ اندازہ لگا لیں کہ اس پر کتنا خرچ آئے گا۔ اس کے بعد اس نے دفتر جانا ہے اور کھانا اپنا ساتھ لے کر جانا ہے‘ بائیک پر روزانہ کا چار سو روپے کا پٹرول صرف ہوتا ہے۔ اس طرح دس سے بارہ ہزار روپے تو اس کے دفتر آنے جانے کیلئے پٹرول وغیرہ پر خرچ ہو جاتے ہیں اور 40 سے45 ہزار والی تنخواہ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ بائیک کی مرمت کا معاملہ الگ ہے۔ پھر اس کے دوپہر کے کھانے کا معاملہ آتا ہے۔ سستی سے سستی ہانڈی بھی چار سے پانچ سو میں تیار ہو گی۔ اس کے بچوں کو فروٹ بھی میسر نہیں‘ دودھ بھی نہیں کیونکہ وہ افورڈ نہیں کر سکتا۔ جس بچے کو دودھ‘ فروٹ اور گوشت نہیں ملے گا وہ کیا خاک بڑھے گا؟ لہٰذا وہ ایک نوکری سے گزارہ کر ہی نہیں سکتا‘ اس کی بیوی بھی نوکری کرے گی تو کام چلے گا کیونکہ ایک آدمی کی کمائی سے اس کا گھر چل ہی نہیں سکتا۔
بجٹ کے حوالے سے بہت سے لطیفے بھی دیکھنے اور سننے کو ملے۔ آئیے سنیے اور سر دھنیے۔ بجٹ میں ہر بچے کی تعلیم کیلئے سالانہ 136 روپے ہیں جس سے نو پنسلیں‘ جبکہ ہر شہری کی صحت کیلئے سالانہ 92 روپے ہیں جن سے پیناڈول کی چھ گولیاں خریدی جا سکتی ہیں۔ پاکستان کی 65 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے لیکن یہ ملکی تاریخ کا واحد بجٹ ہے جس میں زراعت کیلئے بھی خاطر خواہ بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ بجٹ میں کسانوں کیلئے پانچ ارب جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 850 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یعنی محنت کشوں کیلئے پانچ ارب اور قوم کو بدستور بھکاری بنانے کیلئے850 ارب روپے۔ کیا یہ قوم کے ساتھ مذاق نہیں؟
بات یہ ہے کہ جب تک آپ محنت کرنے والے لوگوں کو پیسے نہیں دیں گے‘ مزدور اور کسان کی زندگی آسان نہیں کریں گے تب تک آپ کا ملک چل نہیں سکتا۔ اس لیے ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کو مڈل کلاس چلاتی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 18 ہے اور اس کیلئے مختص بجٹ تقریباً ساڑھے سات ارب روپے ہے جبکہ آئینی عدالت کے ججز کی تعداد سات ہے اور مختص بجٹ چھ ارب روپے۔ آئینی عدالت کی اپنی عمارت نہیں ہے لیکن سوا ارب روپے اس کی مرمت اور دیکھ بھال کیلئے رکھے گئے ہیں۔ مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز ہے۔ اسی طرح امید ہے کہ غریب کم پیدا ہوں گے جس سے غربت میں اضافے کو بطریق احسن روکا جا سکے گا۔ ملک سے غربت ہر حال میں ختم کرنا ضروری ہے‘ غریب پیدا ہونے سے روک کر یا پھر غریب کو غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں زندہ درگو کر کے۔ اسی طرح تاحیات مراعات لینے والوں نے ایک بیوہ کی پنشن دس سال تک محدود کر دی ہے۔ ہماری اشرافیہ میں شامل ملک کے مقتدر طبقوں نے بجٹ میں اپنے اور ایک دوسرے کے مالی مفادات کا بدرجہ اتم خیال رکھا ہے تاکہ وہ کرپشن کے ذریعے اپنے لیے مختص بھاری بھرکم بجٹ پر دونوں ہاتھ صاف کرتے رہیں۔ میں چار سال سے ایک بات کہہ رہا ہوں کہ پوری قوم صرف ایک کروڑ لوگوں کی غلام بنی ہوئی ہے۔
یہ جو ساڑھے آٹھ سو ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پرلوگوں کو دیتے ہیں اور اس کے بدلے میں یہ لوگوں سے ووٹ لیتے ہیں‘ یعنی یہ لوگوں سے ووٹ لینے کا ایک طریقہ ہے۔ ہرعام شہری مختلف چیزوں کو خریدنے کیلئے روزانہ اوسطاً سات سو روپے حکومت کو ٹیکس دیتا ہے یعنی ماہانہ تقریباً 20 ہزار‘ اور یہ اس کو دس ہزار روپے واپس کر دیتے ہیں اور پھر اس کو کہتے ہیں کہ ہمیں ووٹ بھی دیں۔ لوگوں کو بھکاری بنانے کیلئے تو پیسے دیے جا رہے ہیں لیکن کام کرنے کیلئے لوگوں کو پیسے نہیں دیے جاتے۔ لوگوں کو ہنر سکھانے کیلئے پیسے نہیں دیے جاتے‘ نئی فیکٹریاں نہیں لگائی جاتیں جس سے لوگوں کو روزگار ملے حالانکہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری اور مہنگائی ہے۔ یہ بجٹ بھی مہنگائی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی کرے گا۔ حکمرانوں کو اپنے اللوں تللوں کیلئے مختص بجٹ کو کم کرنا ہو گا۔ یہ بجٹ لوگوں کی صحت اور تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا تب جا کر ملک و قوم کے حالات بدلیں گے۔ بقول مولانا ظفر علی خان:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved