تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     21-06-2026

پذیرائی ہوگئی اب آگے کی سوچیں

بہت کچھ باقی ہے لیکن شروع کا معاہدہ تو ہو گیا۔ اس ضمن میں امریکی صدر پاکستان اور اس کی قیادت کا بارہا ذکر کر چکے ہیں۔ پاکستان کا بہت اچھا کردار رہا لیکن اسی کو سمیٹ کے تو نہیں بیٹھ جانا‘ ہمارے اپنے جھمیلے بہت ہیں‘ ان کے بارے میں کچھ غور و فکر ہونا چاہیے۔ مسائل کی بحث میں جانے سے پہلے ایک اور بات کرنی ضروری ہے‘ یہ جو یہاں کے لوگ کہتے نہیں تھکتے کہ سفارتی محاذ پر پاکستان کا یہ دوسرا بڑا کارنامہ ہے۔ پہلا کارنامہ وہ تھا جب امریکہ اور چین کو قریب لانے میں پاکستان نے ایک پل کا کردار ادا کیا۔ اس کارنامے کا اتنا ذکر نہ ہی ہو تو بہتر ہے۔ جولائی 1971ء میں جنرل یحییٰ خان نے ڈاکٹر ہنری کسنجر کی چین اڑان کے لیے سہولت کاری کی اور اُسی سال دسمبر میں مشرقی پاکستان پر ہندوستانی فوج کی چڑھائی ہوگئی اور پاکستان دولخت ہو گیا۔ اس معاہدے میں سہولت کار دیگر بھی رہے ہیں مگر ہمارا کلیدی کردار رہا ۔ لیکن بات ہو گئی‘ میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر دستخط ہو گئے۔ بہت سے پہلوؤں پر مذاکرات ہونے ہیں‘ اور ابھی سے معاہدے کے بارے میں اسرائیل میں بہت غصہ ہے اور امریکہ میں بھی صہیونی لابی سیخ پا ہے۔ یعنی ابھی بہت کچھ باقی رہتا ہے۔ ہم سہولت کار رہے‘ بہت اچھا کیا لیکن اب اپنے مسائل کی طرف بھی کچھ توجہ ہو جائے۔ جب باہر اتنی سہولت کاری رہی تو اندرون بھی کچھ کارنامے ہو جائیں تو وطنِ عزیز بہتری کی طرف چلنے لگے۔ اتنا تو ظاہر ہے کہ محض سہولت کاری سے نہ ڈالر آنے ہیں نہ معاشی بہتری ہونی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے وہ ایک فریم ورک ہے۔ اس فریم ورک میں رہتے ہوئے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اندرونی سیاسی مسئلوں کے لیے بھی کچھ فریم ورک ترتیب دے دیا جائے تو کتنا ہی بہتر ہو۔ کچھ تو پتا چلے کہ یہاں کے سیاسی مسائل کس انداز سے نبھائے جانے ہیں۔ بانیانِ پاکستان کا تصور تو کچھ ایسا تھا کہ یہاں کے مسائل عوام کی مرضی کے مطابق حل کیے جائیں گے۔ یعنی حکومتیں عوامی رائے سے بنیں گی اور پھر عوام کے نمائندے سوچ بچار کرکے کچھ ترتیب بنائیں گے کہ قومی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں اور انہیں پورا کس احسن طریقے سے کرنا ہے۔ آئین تو اب بھی یہی کہتا ہے کہ اتنے وقفے بعد عوام کی طرف رجوع ہو اور حکومت سازی عوام کی رائے کے مطابق ہو۔ اب یہ دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ پچھلے الیکشنوں میں کیا ہوا اور انتخابات کے نام پر کیا تماشے رچائے گئے اور کیا کھلواڑ کیا گیا۔ تو سوال یہ ہے کہ پچھلی دفعہ تو ہو گیا لیکن آئندہ کیا ہونا ہے۔ آئندہ کس فارم 45یا فارم 47سے کام چلایا جانا ہے؟
ہمیں معلوم ہے سعودیہ میں کون سا نظام رائج ہے۔ بادشاہت ہے اور اسی کے مطابق وہاں سب کچھ چلتا ہے۔ وہاں کا نظام یہ ہے۔ قطر‘ یواے ای‘ کویت‘ بحرین اور عمان میں بھی خاندانی بادشاہتیں قائم ہیں۔ ایران میں ایک الگ نظام ہے۔ اسلامی ریاست ہے جو اپنی قبولیت 1979ء کے ایرانی انقلاب سے جوڑتی ہے۔ انتخابات وہاں ہوتے ہیں لیکن آخری فیصلہ سپریم لیڈر اور غیر منتخب شدہ کونسل آف گارڈینز کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ہمارا نظام بالکل مختلف ہے‘ یہاں قانون میں کوئی رہبر اعلیٰ کا تصور نہیں۔ حاکمیت اللہ کے احکام کو سامنے رکھ کر اللہ کے بندوں کے ذریعے چلائی جانی ہے۔ کم از کم فلسفہ یہ ہے‘ حالانکہ جیسا کہ ہم دیکھتے آئے ہیں آئین اور قانون کہتے کچھ ہیں اور ہوتا یہاں کچھ اور ہے۔ کبھی رہبر اعلیٰ فیلڈ مارشل ایوب خان کی صورت میں سامنے آ جاتا ہے‘ کبھی نصیب میں کوئی جنرل ضیا الحق لکھا ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ کوئی محض ادبی مسئلہ نہیں پریکٹیکل مسئلہ ہے کہ حضور کون سا نظام یہاں چلنا ہے؟جن رہبروں کا نظام ہم نے دیکھا ان کی اجتماعی بصیرت اور کاوشوں سے جو قوم کا حشر ہوا وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ یہ نظام اتنا ہی اچھا ہوتا تو کسی رہبر کے نام پر یہاں بادشاہت قائم ہو جاتی اور انتخابات کے جھنجھٹ سے قوم کو نجات مل جاتی۔
ایسے رہبروں کا ظہور صرف اسی سرزمین پر نہیں ہوا۔ تقریباً سارے مشرقی ایشیا میں جمہوریت کم اورغیر جمہوری حکومتیں زیادہ رہیں۔ تائیوان کا ظہور بھی کچھ اسی قسم کے حالات میں ہوا تھا۔ لیکن وہاں ہر لحاظ سے ترقی ہوئی۔ وہاں کی ساری قومیں ہم سے پیچھے تھیں۔ آج دیکھیں تو ترقی کی ایسی ایسی منزلیں اُن قوموں نے طے کی ہیں اور ہمارا گزارا مانگے تانگے پر چل رہا ہے۔ کبھی کسنجر بیجنگ بھیج رہے ہیں اور کبھی افغان جہاد کی تپش اور تنور میں چھلانگ لگا رہے ہیں۔ اور اسی پر ناز کر رہے ہیں کیونکہ تھپکیاں مل رہی ہیں اور اسی پر شادیانے بج رہے ہیں۔ ضیا الحق اور مشرف کا زمانہ نہیں بھولنا چاہیے۔ افغانستان میں امریکہ کو ہماری ضرورت تھی اور وہ ضرورت پورا کرنے کے لیے ہمارے حکمران بے قرار تھے۔ قوم کا سب کچھ اُس فرمانبرداری میں لگا دیا‘ کچھ توپ و تفنگ ملا‘ کچھ ڈالر اور ریال آئے اور ہمارے حکمران پھولے نہ سماتے کہ دیکھیں ہماری مدابرانہ صلاحیتوں کو کہ مغربی دارالحکومتوں میں ہماری کتنی پذیرائی ہے۔ دونوں موقعوں پر امریکہ نے افغانستان میں اپنا کام نکالا اور کام نکالنے کے بعد ہمیں پَرے کر دیا۔ اور ہمارے حکمران بے وفائی کا رونا روتے رہے۔ یہ ڈرامہ اتنی بار دیکھا جا چکا ہے لیکن پھر بھی قومی روش نہیں بدلی کہ ہمارے اکابرین ایسے ٹوٹکوں پر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایک بات تو پاکستانی قوم نے اس جنگ میں دیکھی ہو گی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ایران کتنا آگے ہے۔ یہ سارے میزائل اور ڈرون جو ایران کے پاس ہیں وہ وہاں کے بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے ایران کے شاہد ڈرون کا ماڈل سامنے رکھ کر اپنے ڈرون بنائے ہیں۔ اس سے کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تعلیم اور سائنسی تحقیق کا معیار ایران میں کتنا اعلیٰ ہے۔ تعلیم میں جو ترقی ایران نے کی ہے وہ ایرانی انقلاب کی وجہ سے ہے۔ تعلیم کے اوپر وہاں کے نظام نے پیسے خرچ کیے۔ اپنے عوام کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا۔ ایرانی انقلاب کا ایک واضح حکم تھا کہ تعلیم پر توجہ دینی ہے۔ یہاں ایسا کیوں نہ ہوا؟ تعلیم ایک قومی ترجیح کیوں نہ بنی؟ ایران کے پاس تو تیل کی دولت ہے۔ یہاں تو ایسی کوئی چیز نہیں۔ محدود وسائل کا پھر بہتر استعمال ہونا چاہیے تھا۔ لیکن یہاں کے وسائل جیسے بھی تھے اللے تللوں پر لگتے رہے۔ امیر طبقات امیر ہوتے رہے اور جہاں قومی دولت لگنی چاہیے تھی وہاں ایسا نہ ہوا۔ اتنے ہی روشن خیال اور دور اندیش ہمارے رہبر ہوتے تو تعلیم اور صحت پر توجہ دیتے۔ دفاع مضبوط ہوتا‘ ایٹم بم بھی بنتا مگر ریاستی امور میں کچھ سادگی نظر آتی۔ لیکن اندازِ حکمرانی یہاں دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ یہاں کے اللے تللوں نے کبھی ختم نہیں ہونا۔
کہنے کا مطلب یہ کہ ریاست کے نظام میں کوئی بہتری آنی چاہیے۔ عیاشی اور فضول خرچی کم ہو‘ جتنے بھی وسائل ہیں حقیقی ضروریات پر صرف ہوں۔ تعلیم وغیرہ میں پاکستانی قوم آگے ہو۔ سکول یونیورسٹیاں اچھی ہوںہسپتال اچھے ہوں۔ غربت اتنی نہ ہو جتنی کہ ہے۔ مختلف علاقوں میں جو بے چینی پھیلی ہوئی ہے وہ نہ ہو۔ شورش کی گھن گرج جو مغربی صوبوں میں سنائی دیتی ہے اس کا کچھ سدباب ہو سکے۔ آزاد کشمیر میں جو بے چینی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں اُن کا کچھ کیا جائے۔ اس بے قرار سرزمین کو سیاسی استحکام کیسے نصیب ہو اس کا کچھ سوچا جائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved