تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     21-06-2026

پاکستان کے بدخواہوں کی شکست

دہائیوں سے عالمی جیو پالیٹکس کے اُفق پر سلگتے قضیے کی حیثیت رکھنے والے مشرقِ وسطیٰ میں 28فروری سے شروع ہونے والے واقعات اور بالآخر 18 جون کو طے پانے والے معاہدے نے روایتی عالمی سیاست کے تمام مروجہ اصولوں کو بدل ڈالا ہے۔ ایران اور امریکہ کے مابین مفاہمتی یادداشت پر فریقین کے دستخط اور ثالث کے طور پر وزیراعظم شہباز شریف کے توثیقی دستخط محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ہے۔ چودہ نکات پر مشتمل اس جامع امن معاہدے کی تمام تر تفصیلات منظرِ عام پر آ چکی ہیں اس لیے یہاں اعادے کی ضرورت نہیں تاہم اس سفارتی معرکے کے بعد پیدا ہونے والا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس طویل اور اعصاب شکن جنگ کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان کو کیا حاصل ہوا؟ کچھ لوگ تو سادگی میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کم از کم اپنے قرضوں میں ہی ریلیف حاصل کر سکتا تھا۔ اگر ہم بنظر عمیق اس کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان نے اس ثالثی کے ذریعے وہ سفارتی سرمایہ حاصل کر لیا ہے جو آنے والی دہائیوں تک ہماری خارجہ پالیسی اور معاشی استحکام کا ضامن رہے گا۔ عالمی سفارت کاری کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ طویل اور بے نتیجہ جنگیں جب فریقین کو تھکا دیتی ہیں تو انہیں میدانِ جنگ سے باعزت واپسی اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے ایک ایسے نجات دہندہ کی ضرورت ہوتی ہے جس کی دیانت اور صلاحیتوں پر اعتماد ہو۔ ایران اور امریکہ اعصاب شکن دلدل سے نکلنے اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے فیس سیونگ کے متلاشی تھے۔ ایسے نازک موڑ پر پاکستان کا بطور ثالث سامنے آنا اور دونوں طاقتوں کو ایک میز پر بٹھا دینا اسلام آباد کی غیرمعمولی سفارتی مہارت کاثبوت ہے۔ تہران اور واشنگٹن کا پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جو ایک اسلامی ریاست اور سپر پاور ہونے کے دعویدار ملک کے ساتھ یکساں سکیورٹی اور سفارتی روابط برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بہت سے ممالک تو اسے بھاری پتھر سمجھ کر پیچھے ہٹ گئے تھے مگر پاکستان نے نہ صرف اپنے کاندھوں پر یہ بوجھ اٹھایا بلکہ حتی الامکان غیر جانبدار رہ کر دکھایا۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اپنے اوپر مشکل وقت میں کیے جانے والے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ احسان شناسی کا یہ اصول بین الاقوامی تعلقات میں طویل المدتی اثاثہ ثابت ہوتا ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ دہائیوں قبل دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ حال جرمنی اور جاپان کی بحالی کا معاملہ ہو یا عوامی جمہوریہ چین کو دنیا سے متعارف کرانے میں سفارتی مدد کا‘ پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ پی آئی اے دنیا کی پہلی غیر کمیونسٹ ایئرلائن تھی جس نے 1964ء میں بیجنگ کے لیے پروازیں شروع کر کے چین کو مغربی دنیا سے جوڑا۔ پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود ان قوموں کے ساتھ تعاون کیا۔ آج دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی برلن‘ ٹوکیو اور بیجنگ کے ایوانوں میں پاکستان کے اس تاریخی کردار کا احترام کیا جاتا ہے اور اسے غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے اس بحران میں پاکستان نے جو سفارتی کردار ادا کیا اس کے سیاسی اور معاشی ثمرات آنے والے وقت میں پاکستان کی تجارتی مراعات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی شکل میں بار آور ہوں گے۔
باضابطہ معاہدے کے بعد اب یہ بحث ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ جنگجو فریقین کو اپنے اہداف کے حصول میں کس حد تک کامیابی ملی۔ جنگوں کے خاتمے پر فتح اور شکست کے دعوے ہمیشہ سیاست کا حصہ رہے ہیں اور دونوں طرف کے بیانیے اپنے اپنے دفاع میں دلائل کے انبار لگاتے رہیں گے لیکن اس پورے منظرنامے کا ناقابل ِتردید سچ یہ ہے کہ دنیا اب پاکستان کو امن کے داعی اور بین الاقوامی بحرانوں کے حل کنندہ کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں پاکستان کا یہ تاثر اس روایتی اور منفی بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کافی ہے جو پاکستان کو ایک طویل عرصے تک محض سکیورٹی ریاست یا بحرانوں کا مرکز بنا کر پیش کرتا رہا ہے۔ اس سفارتی کامیابی کا ایک اور پہلو پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے مابین ہم آہنگی کا اعتراف ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ صرف دو ممالک کا تنازع نہیں تھی بلکہ اس کے اثرات عالمی توانائی کی سپلائی چین‘ بحری تجارتی گزرگاہوں اور دنیا بھر کی معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔ ایسے پیچیدہ اور کثیر الجہتی بحران کو حل کرنے کے لیے جس فہم و فراست‘ سکیورٹی انٹیلی جنس اور سیاسی تدبر کی ضرورت تھی پاکستان کی قیادت نے اسے عالمی سطح پر تسلیم کرایا ہے۔ بین الاقوامی برادری یہ جان چکی ہے کہ پاکستان کی فیصلہ ساز قوتیں نہ صرف اپنے داخلی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ وہ عالمی نظام کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے عالمی سطح کا انتظام بھی سنبھال سکتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے اس تنازع کی جڑیں دہائیوں پرانے نظریاتی اور جغرافیائی اختلافات میں تھیں‘ جو تاریخ کے مختلف ادوار میں سر اٹھاتے رہے۔ ماضی میں اس خطے میں جتنی بھی جنگیں ہوئیں وہ کسی پائیدار امن معاہدے یا تنازع کے مستقل حل کے بغیر‘ عارضی جنگ بندی کے تحت ختم ہوئیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند برسوں کے سکوت کے بعد بارود کی بو دوبارہ پھیل جاتی تھی‘ مگر اس بار روایتی ڈگر سے ہٹ کر کام کیا گیا۔ پاکستان نے فریقین کو محض جنگ بندی پرآمادہ نہیں کیا بلکہ تنازع کی اصل وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسے جامع اور پائیدار فریم ورک پر راضی کیا ہے جو اگر برقرار رہا تو مشرقِ وسطیٰ کو ہمیشہ کے لیے امن اور معاشی خوشحالی کا گہوارہ بنا دے گا۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین پاکستان کے اس کردار کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں جس نے عارضی مرہم رکھنے کے بجائے مرض کا مستقل علاج تجویز کیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں سفارتکاری سے پاکستان کو جو بالواسطہ فائدہ حاصل ہوا ہے وہ روایتی بدخواہوں اور علاقائی حریفوں کو ملنے والا ایک سخت پیغام ہے۔ بھارت اوراسرائیل میں بیٹھے بعض عناصر جو طویل عرصے سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے بین الاقوامی فورمز پر گھیرنے کی سازشوں میں مصروف تھے‘ اب ایک گہرے صدمے کی حالت میں ہیں۔ پاکستان کے خلاف ان قوتوں کا ہر وہ بیانیہ دم توڑ چکا ہے جس کے تحت پاکستان کو ایک غیر مستحکم ریاست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ جب دنیا کا بڑا بحران حل کرنے کے لیے واشنگٹن اور تہران جیسے متضاد مراکز اسلام آباد کی طرف دیکھ رہے ہیں تو نئی دہلی یا کسی اور ملک سے اٹھنے والی پاکستان مخالف آواز عالمی برادری کے لیے اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ عالمی سطح پر کردار کے بعد پاکستان اب سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ترین ملک کے طور پر ابھرے گا‘ سی پیک جیسے عظیم تجارتی منصوبوں کو نئی جلا ملے گی اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے روابط نئی بلندیوں پر پہنچیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ جنگ میں ثالثی نے پاکستان کو عالمی سیاست کے حاشیے سے اٹھا کر مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ کامیابی مستحکم اور معاشی طور پر خود کفیل مستقبل کا پیش خیمہ ہے۔ اب یہ ریاستی اداروں‘ سیاسی قیادت اور عوام پر منحصر ہے کہ وہ اس سفارتی کامیابی سے حاصل ہونے والے وقار کو برقرار رکھیں‘ اپنی داخلی سمت کو درست رکھیں اور سیاسی و معاشی استحکام کے ذریعے اس سنہرے دور کا استقبال کریں جس کا آغاز تفتان سے لے کر واشنگٹن تک پھیلی اس سفارتکاری سے ہو چکا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved