آج جب پوری دنیا میں یومِ والد منایا جا رہا ہے تو میں مسلسل اس سوچ میں ہوں کہ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنی اولاد اور اپنے اہلِ خانہ کی نذر کر دینے والی عظیم ہستی کے لیے سال بھر میں صرف ایک دن منانا کہاں کا خراجِ تحسین ہے؟ ہم اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور اپنی کمائی گئی دولت کا ایک ایک پیسہ بھی اپنے والد کی خواہشات پوری کرنے کے لیے صرف کر دیں تو شاید پھر بھی اس کے احسانات کا بدلہ نہ دے سکیں‘ اپنے اولاد ہونے اور اس کے باپ ہونے کا حق ادا نہ کر سکیں۔
ہم مسلمانوں کے لیے نبی اکرمﷺ کے احکامات اور ارشادات سے بڑھ کچھ نہیں۔ سنن ابنِ ماجہ میں درج ایک حدیث کا مفہوم یوں ہے: تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں۔ اسی موضوع کے تسلسل میں یہ ارشاد ہوا: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ۔ مفہوم یہ ہے کہ والدین کے لیے اپنی اولاد کی کمائی میں سے اپنی ضرورت کے لیے کچھ لینا ان کا حق ہے۔ والد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولاد کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ والد اولاد کے لیے اپنے اندر ایثار و وفا‘ الفت و شفقت‘ لطف و کرم‘ دانائی اور دست گیری کے گہرے سمندر سموئے ہوئے ہوتا ہے‘ اسی لیے وہ اولاد کی ضروریات پوری کرتے کبھی نہیں تھکتا۔ اگر اولاد والد کی اطاعت و فرماں برداری اور خدمت کرے تو اس کا یہ عمل اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے حصول کا سبب بن جاتا ہے۔
والد ایک ایسا شجر ہے جو سایہ دار ہی نہیں ثمر بار بھی ہوتا ہے۔ وہ زمانے کی گرم و سرد خود سہتا ہے لیکن اولاد کو صرف پھل اور سایہ مہیا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا شفیق اور عظیم رشتہ ہے جو محبت‘ ایثار اور قربانی کا پیکر ہوتا ہے۔ باپ ایک ایسا سائبان ہوتا ہے جس کے سائے میں اولاد پوری بے فکری کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔ باپ ایک سورج کی مانند ہے جس سے بچے توانائی حاصل کرتے ہیں اور روشنی بھی‘ خواب حاصل کرتے ہیں اور خوابوں کی تعبیر بھی۔ اسی لیے باپ کے نہ ہونے سے ساری دنیا اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے۔ باپ کے ہوتے ہوئے بچے بے فکری کی زندگی بسر کرتے ہیں اور جیسے ہی باپ کا سایۂ عافیت سر سے اٹھتا ہے فوراً اولاد کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے سر پر کتنا بوجھ آن پڑا ہے۔
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
زندگی دھوپ تم گھنا سایہ
جاوید اختر نے یہ شعر بلکہ یہ غزل کسی اور سیاق و سباق‘ کسی اور پیرائے میں لکھی ہو گی لیکن جب بھی یومِ والد آتا ہے مجھے اس لیے رہ رہ کر یاد آتے ہیں کہ میرے نزدیک زندگی کی کڑی دھوپ میں والد سے گھنا سایہ اور کوئی نہیں۔ والد سایہ ہی نہیں وہ ستون بھی ہوتا ہے جس کے گرد پورے گھر‘ پورے خاندان کے تاروپود بُنے ہوتے ہیں۔ وہ خاموش رہتا ہے۔ وہ بچوں کی پرورش‘ تحفظ اور بہتر مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ وہ خود کچھ نہ کھا کر بچوں کا پیٹ بھرتا ہے۔ وہ اپنے کپڑے نہ خرید کر بچوں کو ہر عید پر نئے کپڑے ضرور دلاتا ہے۔ وہ تمام تر مشکلات خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنا سکے۔ غرض جس پہلو سے بھی دیکھیں والد کی شخصیت ایک بے لوث محبت کرنے والے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ ایک ایسا محبت کرنے والا جو خاموشی سے اپنی محبتیں نچھاور کرتا چلا جاتا ہے اور پتا بھی نہیں چلنے دیتا۔ پتا تب چلتا ہے جب وہ اس دنیا سے چلا جاتا اور زندگی کا پہیہ چلتے چلتے ایسا رکتا ہے کہ پھر گھومنے کا نام نہیں لیتا۔ تب بھری دنیا میں آپ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں اور اس احساس کی شدت کا کوئی پیمانہ اب تک بنا نہیں ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ آج تک ایسے لفظ ہی وضع نہیں کیے جا سکے جو بچوں کے لیے والد کی محبت کی شدت کو ٹھیک ٹھیک بیان کر سکیں۔
میاں محمد بخش نے کیا خوب کہا ہے:
باپ مرے سر ننگا ہووے تے ویر مرن کنڈ خالی
ماواں باجھ محمد بخشا کون کرے رکھوالی
ماں مرے تے ماپے مکدے پیو مرے گھرویلا
شالا مرن نہ ویر کسے دے اجڑ جاندا جے میلہ
بھائی بھائیاں دے دردی ہوندے
تے بھائی بھائیاں دیاں بانہواں
باپ سراں دے تاج محمد
تے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ باپ کی شفقت‘ ڈسپلن اور قربانیاں شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کوئی والد اولاد کو یہ نہیں بتاتا کہ زندگی کیسے گزارنی ہے‘ وہ خود ایسے جیتا ہے جسے دیکھ کر اور پرکھ کر بچے خود بخود جینا سیکھیں۔ باپ بظاہر اپنے بچوں سے لاتعلق سا نظر آتا ہے لیکن یقین رکھیں اس کی نظر بچوں کی ہر ہر حرکت پر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی بچہ بہکنے لگتا ہے تو سب سے پہلے باپ ہی اسے سہارا دیتا اور درست راستے پر لاتا ہے۔
جن کے والدین زندہ ہیں وہ براہِ کرم اس نعمت کو انجوائے کریں‘ قیمتی لمحوں کو ضائع نہ جانے دیں۔ ان کے پاس بیٹھیں۔ ان سے باتیں کریں۔ ہنسی مذاق کریں۔ ان سے فرمائشیں کریں۔ ان کے ساتھ لاڈ کریں۔ ان کے ساتھ کوئی گیم کھیلیں۔ ان کے ساتھ مل کر ٹی وی دیکھیں۔ کمپیوٹر پر ان کے زمانے کی کوئی فلم لگائیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر خود انجوائے کریں اور انہیں بھی انجوائے کرائیں۔ آپ اگر جوان یا بوڑھے ہو چکے ہیں تو بھی اپنے والدین کے لیے آپ پیدائش کے پہلے دن والے بچے ہیں۔ وہ چلے گئے تو یقین کریں باقی کچھ نہیں بچے گا۔ ماں باپ چلے جائیں تو یقین جانیں زندگی طنابیں کٹے ہوئے خیمے کی طرح زمین بوس ہو جاتی ہے۔
میں والد یا والدہ کے نام سے ایک دن منانے کے حق میں نہیں ہوں۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایک ایک لمحہ‘ زندگی کا ایک ایک سانس ان کی یاد میں گزرتا ہے اور پھر بھی یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ والدین کے حقوق کی ادائی میں کہیں کوئی غلطی‘ کوئی کوتاہی تو نہیں ہو گئی جو پکڑ کا باعث بنے۔
راکب مختار یاد آتے ہیں:
دھڑکن تھے‘ دعا تھے میرے ہونے کا یقین تھے
خوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھے
دکھ یہ ہے میرا یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
اے بادِ ستم خیز تیری خیر کہ تُو نے
پنچھی وہ اڑائے جو اڑنے کے نہیں تھے
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved