جب سے ایران اور امریکہ کے بیچ پاکستان نے ثالثی ابتدا کی ہے ہر روز نئے زاویے آشکار ہو رہے ہیں۔ ہر نئے دن نئی نزاکتیں سامنے آ رہی ہیں۔ ویسے تو عام لوگوں کے درمیان بھی معاملات سلجھانے کے لیے مذاکرات بہت صبر آزما ہوتے ہیں۔ محلے میں رہنے والے دو آدمیوں کی لڑائی ہو جائے تو کئی لوگ چھڑانے اور بیچ بچاؤ کرانے نکل آتے ہیں۔ ہمارے ہاں بیچ بچاؤ کرانے والوں کا کام صرف یہی ہوتا ہے کہ وہ فوری طور لڑنے والوں کو الگ الگ کر دیں۔ یہ کام کرکے وہ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اس سے زیادہ کچھ بس میں ہوتا ہی نہیں۔ اور جب لڑائی دو تین ملکوں کی ہو‘ جس میں کئی اور ملک بھی بالواسطہ ملوث ہوں تو آپ اس کی پیچیدگیوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے میں سب سے بڑی پیچیدگی کا منبع اور مرکز صرف ایک شخص تھا۔ وہ جو اس وقت اسرائیل کا وزیراعظم ہے۔ میرا خیال ہے کہ بینجمن نیتن ہاہو کی جگہ اسرائیل کا کوئی دوسرا وزیراعظم ہوتا تو یہ معاہدہ بہت پہلے اور بہت سہولت سے ہو جاتا۔ غزہ اور لبنان میں ایسی خونریزی بھی کوئی عام وزیراعظم نہ کرتا جیسی اس سفاک شخص نے کی ہے۔ لیکن بالآخر اس کی سفاکی‘ سنگدلی‘ ضد اور بے لچک مزاج نے اسرائیل کو اتنا نقصان پہنچا دیا ہے جو شاید کوئی بیرونی دشمن نہیں پہنچا سکتا تھا۔ اس شر میں سے خیر یہ برآمد ہوا ہے کہ اسرائیل کے منصوبے اور علاقائی غنڈے کی حیثیت بہت کمزور ہو گئی۔ یہ کام اللہ نے کر دیا ورنہ یہ عربوں کے بس کا تو نہ تھا۔
جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں ایرانی وفد سوئٹزر لینڈ پہنچ چکا۔ جے ڈی وینس بھی وہاں ہیں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف بھی پہنچ چکے ہیں۔ یہ ملاقات پہلے سے طے شدہ تھی یا اب طے ہوئی ہے‘ کہنا مشکل ہے‘ لیکن جس طرح کی رازداری اس معاملے میں چل رہی ہے‘ بظاہر یہ طے تھا۔ درصل اس معاہدے کو سبوتاژ کئے جانے کے بہت خطرات تھے۔ ماضی میں کئی بار ایسا ہو بھی چکا۔ یہ بات بالکل واضح تھی کہ اسرائیل یہ معاہدہ نہیں چاہتا‘ خاص طور پر اس مرحلے پر جب ایران کی پوزیشن مضبوط ہے۔ نیتن یاہو ہر مرحلے پر اپنی مرضی کے فیصلے کرانا چاہتا تھا۔ یہ صرف اندازہ ہی نہیں‘ اسلام آباد مذاکرات کے دوران یہ ہوا بھی کہ امریکی نائب صدر کو مبینہ طور پر نیتن یاہو کی کال آئی اور وہ ایک گھنٹے کے اندر مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچائے بغیر واپس امریکہ روانہ ہو گئے۔ اس لیے پاکستان پر یہ واضح ہو چکا تھا کہ جب تک نیتن یاہو درمیان میں موجود رہے گا تصفیہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ لیکن نیتن یاہو کو امریکہ اور اس کے فیصلوں سے الگ کروانا ایک ناممکن سا کام تھا۔ یہ کبھی پوری تاریخ میں نہیں ہوا کہ امریکہ اسرائیل کے مشورے بلکہ اس کے مفاد کو پس پشت ڈال کر کوئی معاہدہ کر لے۔ لیکن یہ ناممکن کام پاکستان نے ممکن بنا دیا۔ کبھی اس کی تفصیلات ضرور منظر عام پر آئیں گی کہ یہ کام ہوا کیسے۔ لیکن پاکستانی رہنماؤں کو اس سلسلے میں چار باتوں نے بہت مدد دی: ایک تو اسرائیل اور نیتن یاہو کی عالمی تنہائی اور مغربی دنیا کا اس سے الگ ہو جانا۔ دوسرے صدر ٹرمپ کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف پر غیر معمولی اعتماد اور ان کے مشوروں پر بھروسہ کہ وہ ایران کو بہتر سمجھتے ہیں۔ تیسرے امریکہ کی عسکری ناکامی اور چوتھے صدر ٹرمپ کی سیاسی مجبوریاں۔ یہ سب عوامل مل کر اس مرحلے تک لے آئے کہ دستخط شدہ معاہدے کے نکات پہلے سے اسرائیل کو نہ بھیجے گئے اور نہ ہی اس سے مشورہ لیا گیا۔ یہ غیر معمولی واقعہ ہے۔
اس سلسلے میں غیر معمولی رازداری برتی گئی۔ یہ بہت ضروری تھی۔ پاکستان کی طرف سے مبہم اور نامکمل بیانات نے اس تمام عمل پر پردہ ڈالے رکھا۔ سیاسیات اور سفارت کاری میں یہ اصطلاح Constructive Ambiguity کہلاتی ہے‘ یعنی جان بوجھ کر مکمل معلومات نہ دینا‘ مبہم بیانات جاری کرنایا تاریخوں اور مقامات کے بارے میں محدود اطلاعات جاری کرنا تاکہ مخالف قوتیں پورے عمل کو متاثر نہ کر سکیں۔ یہ بتایا جا رہا ہے کہ تمام بات چیت کو انتہائی خفیہ رکھنے کیلئے کمپیوٹر ای میل اور الیکٹرانک ڈیوائسز کو استعمال نہیں کیا گیا۔ پاکستانی رہنما ہاتھ سے لکھے پیغامات کو خود تہران لے کر جاتے رہے اور پھر وہ کاغذ ضائع کر دیا جاتا تھا۔ رازداری اتنی کڑی تھی کہ معروف صحافی اور میڈیا گروپس بھی ٹامک ٹوئیاں مارتے اور قیاس آرائیاں کرتے رہے‘ کسی کواصل بات کی ہوا نہیں لگی۔ سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے مذاکرات کس دن اور کن لوگوں کے بیچ ہوں گے یہ بھی بار بار تبدیل کیا جاتا رہا اور رازداری ہی کے باعث سوئس حکومت کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے شرکا اور ایجنڈے کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی کیونکہ ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے confidentiality ضروری ہے۔ مذاکرات کی تاریخ میں مسلسل تبدیلی کی جاتی رہی اور اصل تاریخ اور دن صرف چند لوگوں کو معلوم تھا۔ اس رازداری اور ابہام کی ضرورت ایرانی رہنماؤں کی حفاظت کیلئے بھی تھی۔ اسلام آباد مذاکرات کے دنوں میں پاکستان نے مہمانوں کے گھر کے دروازے سے لے کر واپس وہیں پہنچانے تک غیر معمولی اقدامات کیے۔ یورپ کے بارے میں عام تاثر تھا کہ ایرانی رہنما وہاں اپنی حفاظت کے حوالے سے مطمئن نہیں‘ اس لیے وہ خود وہاں نہیں جا رہے بلکہ الیکٹرانک دستخط کر دیے گئے‘ لیکن اب یکدم سب کاوہاں پہنچ جانا یہ بتاتا ہے کہ یا تو پہلے سے یہ طے شدہ تھا یا پھر سکیورٹی کی ضمانتیں لے لی گئی ہیں۔
اس نازک عالمی مسئلے پر پاکستان کی ثالثی سے کتنے ناممکن کام ممکن ہو گئے۔ معاہدے پر ایران کے اندر سخت گیر اور معتدل حلقوں کا متفق ہو جانا‘ ایران امریکہ جنگ بندی ہو جانا‘ اسرائیل امریکہ کے تعلقات تاریخی نچلی ترین سطح پر آ جانا۔ پہلی بار کسی امریکی حکومت نے یہودی لابی کو نظر انداز کرکے فیصلے کیے ہیں۔ اور نیتن یا ہو کے بارے میں سخت باتیں کی ہیں۔ یہ اب ان کی مجبوری بھی بن چکی تھی۔ خود امریکہ میں نیتن یاہو کے لیے بہت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرے‘ نہ کہ اسرائیلی مفاد کے تابع ہو جائے۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ وہ جے ڈی وینس جو ایک فون کال پر اسلام آباد سے واپس روانہ ہو گئے تھے‘ انہی نے معاہدے کے چند دن پہلے اپنی پریس کانفرنس اور انٹرویوز میں نیتن یاہو کو وہ جھاڑ پلائی اور ایسے سخت جملے استعمال کیے ہیں جن کی پوری امریکی‘ اسرائیلی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے۔ اب اس وقت اسرائیل اور نیتن یاہو سخت پیچ وتاب کھا رہے ہیں لیکن ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ امریکہ ان کا واحد حلیف رہ گیا تھا‘ نیتن یاہو نے وہ بھی کھو دیا اور ٹرمپ کے موجودہ دور میں شاید یہ تعلقات پرانی سطح پر بحال نہ ہو سکیں۔ جو گرہ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے دل میں پڑ گئی ہے اور جس میں عام امریکی بھی شریک ہیں‘ جلدی نہیں کھلے گی۔ امریکی صدر‘ نائب صدر اور دیگر سرکاری عہدیدار بچ بچا کر الفاظ استعمال کر رہے ہیں لیکن تلخی چھپائے نہیں چھپتی۔ یہی حال اسرائیل کا ہے۔ اسرائیلیوں کو اس صدمے سے نکلنے میں بہت وقت لگے گا کہ نہ صرف امریکہ نے ان کے مفادات کے خلاف فیصلہ کیا بلکہ اس سلسلے میں معاہدے کے نکات تک چھپائے گئے۔ اسرائیل میں امریکہ کے خلاف بہت آوازیں اُٹھ رہی ہیں اور امریکہ نے ان بیانات کا سخت نوٹس بھی لیا ہے۔ اس کا اثر یقینا اسرائیل میں آئندہ انتخابات پر بھی پڑے گا۔ بظاہر اسرائیل کا باشعور طبقہ جو انتہا پسند صہیونی نہیں ہے‘ نیتن یاہو سے خوش نہیں۔ اگر نیتن یاہو اقتدار سے باہر ہو جاتا ہے تو اسے اندرونی اور بیرونی کئی مقدموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غزہ کے شہیدوں کا خون کب رنگ لائے گا‘ ابھی وقت کو اس کا انتظار ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved