اولاد اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ جو لوگ اولاد کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں ان کو زندگی کے مختلف ادوار میں بے قراری اور اداسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے مقابل صاحبِ اولاد لوگ نہ صرف مطمئن اور شاد ہوتے ہیں بلکہ اولاد کی کامیابی ان کی خوشیوں میں اضافے کا بڑا سبب بن جاتی ہے۔ کتاب وسنت میں جہاں والدین کے حقوق کو بکثرت بیان کیا گیا ہے وہیں اولاد کے حقوق کو بھی احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جب ہم کتاب وسنت کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء کرام نے ہمیشہ نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور اس کی قبولیت کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الصافات کی آیات: 100 تا 101میں یوں بیان کیا ہے: ''اے میرے رب عطا کر تو مجھے (بیٹا) جو صالحین میں سے ہو۔ سو بشارت دی ہم نے ایک بردبار لڑکے کی‘‘۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اولادِ صالحہ کے حصول کیلئے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ نیک اور پاک اولاد کیلئے دعا کرتے رہے۔ سورۃ الانبیاء کی آیت: 89 میں اس دعا کا ذکر کچھ یوں آیا: ''اور زکریا کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تُو ہی سب سے بہتر وارث ہے‘‘۔
اولاد کی ولادت کے بعد اس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کا اچھا نام رکھا جائے۔ احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عبداللہ اور عبدالرحمن بہترین نام ہیں۔ ان کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام‘ صحابہ کرام‘ اہل بیت اطہار اور ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں پر اولادکے نام رکھنا بھی ایک بہترین عمل ہے۔ اولاد کی اچھی تربیت اور نان و نفقے کی ضروریات کو پورا کرنا والد کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے والدین کو بھرپور انداز سے تگ ودو کرنی چاہیے۔
اولاد کے بڑا ہونے پر ان کو اچھی باتوں کی نصیحت کرنا اور اچھے امور کی تلقین کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحتوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ لقمان کی آیت: 13 تا 19 میں ارشاد فرمایا: ''اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیٹا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا‘ بیشک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔ اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے‘ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو (انسان) میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے‘ (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور اگر تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں تو میرے ساتھ اس کو شریک بنائے جس کو تُو جانتا بھی نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مان‘ اور دنیا میں ان کے ساتھ نیکی سے پیش آ‘ اور ان لوگوں کی راہ پر چل جو میری طرف رجوع ہوگئے‘ پھر تمہیں لوٹ کر میرے ہی پاس آنا ہے پھر میں تمہیں بتائوں گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے۔ بیٹا! اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو پھر وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا وہ آسمان کے اندر ہو یا زمین کے اندر ہو‘ تب بھی اللہ اس کو حاضر کر دے گا‘ بیشک اللہ بڑا باریک بین باخبر ہے۔ بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت آئے اس پر صبر کیا کر‘ بیشک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہیں۔ اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر اور زمین پر اترا کر نہ چل‘ بیشک اللہ کسی تکبر کرنے والے‘ فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر‘ بیشک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے‘‘۔
اولاد کو اچھے کاموں کی نصیحت کرنے کے ساتھ انہیں اپنے ساتھ اچھے کاموں میں شریک بھی کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کا ذکر کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر بیت اللہ کے وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی اپنے ہمراہ شریک کر لیا تھا۔ اس واقعے کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 127 میں یوں کیا ہے : ''اور جب ابراہیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے‘ (تو دعا کر رہے تھے) اے ہمارے رب ہم سے قبول کر‘ بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے‘‘۔
اپنی اولاد کو جہاں نیکی کے کام کی تلقین کرنی چاہیے وہیں اولاد کیلئے اچھے رشتے کا بندوبست کرنے کی بھی بھرپور انداز سے کوشش کرنی چاہیے۔ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل علیہما السلام کو ناشکری بیوی سے علیحدگی اختیار کرنے اور صابرہ شاکرہ عورت سے وابستگی اور پختگی کے ساتھ جڑائو رکھنے کی تلقین کی تھی۔
انسان کو اپنی اولاد کے درمیان تحفہ وتحائف دیتے ہوئے تفریق نہیں کرنی چاہیے۔ اسے اپنی اولاد میں تحائف اور ہدیہ کو یکساں تقسیم کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ان کے والد انہیں لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام تحفے میں دیا ہے‘ جو میرا تھا‘ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اس جیسا تحفہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں! اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اسے واپس لو۔
اولاد کی دنیاوی واخروی کامیابی کیلئے والدین کو ہر وقت دعاگو رہنا چاہیے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام کیلئے کی جانے والی خوبصورت دعائوں کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ ابراہیم کی آیات: 35 تا 41 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جس وقت ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا کر دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ اے میرے رب! انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے‘ پس جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہے‘ اور جس نے نافرمانی کی پس تحقیق تُو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد تیرے عزت والے گھر کے پاس ایسے میدان میں بسائی ہے جہاں کھیتی نہیں‘ اے ہمارے رب! تاکہ (وہ) نماز کو قائم رکھیں‘ پھر کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں میووں کی روزی دے تاکہ وہ شکر کریں۔ اے ہمارے رب! بیشک تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں‘ اور اللہ پر کوئی چیز زمین اور آسمان میں پوشیدہ نہیں۔ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اتنی بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے‘ بیشک میرا رب دعائوں کا سننے والا ہے۔ اے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دے‘ اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور ایمانداروں کو حساب قائم ہونے کے دن بخش دے‘‘۔
جب انسان اس دنیا سے رخصت ہونے لگے تو اس کو اپنی اولاد کو ہمیشہ خیر کے کاموں کی وصیت کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام کی وصیت کا ذکر کیا۔ سورۃ البقرہ کی آیات: 132 تا 133 میں ارشاد فرمایا: ''اور اسی بات کی ابراہیم اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے تمہارے لیے یہ دین چن لیا‘ سو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ کیا تم حاضر تھے جب یعقوب کو موت آئی تب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا ہم آپ کے اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے‘ اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں‘‘۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved