اکیسویں صدی کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی‘2026 ء کو دنیا کے ایک ہولناک عالمی جنگ کے دہانے سے واپسی اور سفارت کاری کی بے مثال فتح کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں 100 دنوں سے زائد جاری رہنے والی بدترین جنگی کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان چالیس روزہ براہِ راست تصادم نے پوری دنیا کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا تھا جہاں معیشت منجمد‘ عالمی تجارت مفلوج اور تیسری عالمی جنگ کے خطرات بڑھ چکے تھے۔ شدید جنگی بحران کے دوران اسلام آباد ٹاکس سے شروع ہونے والی امن کوششیں بالآخر سوئٹزرلینڈ میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔ امریکہ اور ایران امن معاہدہ محض دو ملکوں کا باہمی معاملہ یا کوئی روایتی سٹرٹیجک دستاویز نہیں‘ یہ معاہدہ جس قدر متحارب ممالک کیلئے ناگزیر تھا اس سے کہیں زیادہ ان علاقائی ممالک کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا تھا جو اس جنگ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اس کی تپش کو براہِ راست محسوس کر رہے تھے؛ چنانچہ برگن سٹاک سے ابھرنے والی امن کی کرن پوری دنیا کیلئے باعثِ اطمینان ثابت ہوئی ہے۔
متحارب فریقین کو جنگ کے میدان سے نکال کر مذاکرات کی میز تک لانا اور پھر انہیں ایک حتمی یادداشت پر دستخط کرنے کیلئے آمادہ کرنا قطعی طور پر آسان کام نہ تھا۔ ذرا تصور کریں‘ مذاکرات کی ایک ایسی میز جس کے گرد دونوں جانب ایسے رہنما بیٹھے ہوں جن کے دلوں میں دہائیوں پرانی نفرتیں اور دماغوں میں تین ماہ سے زائد کے خونریز بحران کا غصہ ابھر رہا ہو۔ بداعتمادی اور تلخیاں اس انتہا پر تھیں کہ مذاکرات میں فریقین ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے پر بھی آمادہ نہ تھے۔ سفارتی آداب اور رسمی مسکراہٹیں غائب تھیں اور فضا اس قدر بوجھل تھی کہ کسی بھی لمحے مذاکرات کی ڈور ٹوٹ جانے کا خطرہ موجود تھا۔ ان کٹھن حالات میں مصالحت کاروں اور ثالثوں بالخصوص پاکستان اور قطر نے کمال درجے کی برداشت‘ صبر اور سٹرٹیجک بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے سامنے چیلنج صرف یہ نہیں تھا کہ وہ میز پر بیٹھے لوگوں کی تلخ گفتگو سنیں بلکہ اصل امتحان یہ تھا کہ ان تلخیوں کو تعمیری تجاویز میں کیسے بدلا جائے۔ جب بھی کوئی ڈیڈ لاک پیدا ہوتا‘ ثالث ممالک کی عسکری اور سیاسی قیادت پس پردہ متحرک ہو جاتی‘ غصے کو ٹھنڈا کرتی اور دوبارہ بات چیت کا سرا جوڑتی۔ یہ ثالثوں کی انتھک محنت کا ہی حاصل ہے کہ جو رہنما ایک دوسرے کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہ تھے وہ مشترکہ روڈ میپ پر راضی ہو گئے۔
سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت اور تاریخی مقام برگن سٹاک میں ہونے والے ان چار فریقی مذاکرات کی تفصیلات اب دنیا کے سامنے آ چکی ہیں جو پاکستان اور قطر کی مخلصانہ ثالثی کا شاہکار ہیں۔ ثالث ممالک کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس تاریخی امن عمل کو باقاعدہ‘ مربوط اور محفوظ بنانے کیلئے ایک جامع انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے۔ فریقین نے مذاکراتی عمل کی کڑی نگرانی کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے جبکہ اس پورے عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے60 روزہ روڈ میپ کی باقاعدہ منظوری دی جا چکی ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق ایران اور امریکہ کے مابین تکنیکی نوعیت کے مذاکرات کا آغازکر دیا گیا ہے اور یہ تفصیلی نشستیں پورا ہفتہ برگن سٹاک کی پُرسکون فضا میں جاری رہیں گی تاکہ کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے بغیر تمام پیچیدہ امور کو حل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بحری تجارت کو محفوظ بنانے کیلئے ایک انقلابی فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی بلاتعطل اور پُرامن آمدورفت کو یقینی بنانے کیلئے فریقین میں براہِ راست ہاٹ لائن قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے‘ جو مستقبل میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا حادثاتی تصادم کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
مشترکہ اعلامیے کے مندرجات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مذاکرات کو محض بیانات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ ان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ٹھوس سٹرکچر بنایا گیا ہے۔ دو بڑے مسائل یعنی ایٹمی پروگرام اور اقتصادی پابندیوں کے حل کیلئے خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں۔ یہ گروپس اطراف کے تکنیکی اور قانونی ماہرین پر مشتمل ہوں گے جو مرحلہ وار تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر قابلِ عمل تجاویز پیش کریں گے۔ ایک اور انتہائی اہم اور بڑی پیشرفت لبنان میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق لبنان میں فوری جنگ بندی پر سختی سے عمل کرانے کیلئے ایک De-confliction Cell قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ جس میں لبنان کی قیادت کے ساتھ ساتھ ثالث ممالک کے نمائندے بھی شامل ہوں گے جو زمین پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کریں گے۔ ثالث ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ برگن سٹاک کے اس تعمیری اور مثبت ماحول کو برقرار رکھنے کیلئے تمام تر سفارتی توانائیاں بروئے کار لاتے رہیں گے۔ قائم کردہ نگران کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ چیف مذاکرات کار ایٹمی پروگرام‘ پابندیوں کے خاتمے اور تنازعات کے حل سے متعلق تمام ورکنگ گروپس کی قیادت کرتے ہوئے کمیٹی کو باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں تاکہ معاہدے کی ایک ایک شق پر اس کی روح کے مطابق مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات کے مثبت اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ برگن سٹاک بریک تھرو پر اپنے گہرے اور مثبت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان اور قطر کی ثالثی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں لبنان میں جاری خونیں جنگ کے خاتمے کیلئے بڑی اور تاریخی پیشرفت ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں ایران کیلئے تیل اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات پر عائد طویل مدتی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں‘ اور بین الاقوامی بینکوں میں منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کا ایک بڑا حصہ فوری طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر قائم بحری ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے جسکے بعد اب ایران کی معیشت کی ترقی اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کا قومی منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ بحران کا سب سے حساس پہلو توانائی کی منڈی اور بحری راستوں کی سکیورٹی تھا۔ مذاکرات میں شامل ایرانی وفد کے اہم رکن اور ایرانی نیشنل آئل کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر حمید بوارد نے اس حوالے سے انتہائی حوصلہ افزا تفصیلات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان چار فریقی مذاکرات کے دوران ایرانی تیل پر سے پابندیوں کے مستقل خاتمے کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ آگے بڑھایا گیا۔انہوں نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے فوراً بعد خلیج فارس کے روایتی راستے سے ایرانی تیل بردار جہازوں کی بین الاقوامی برآمدات کا سلسلہ بحال ہو گیا ہے۔
برگن سٹاک امن معاہدے کا اعلامیہ اگرچہ پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری کیا گیاہے تاہم ایران اور قطر کی جانب سے پاکستان کو ہی مرکزی مصالحت کار قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس میں ان مذاکرات کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ دیرینہ عداوت کو پائیدار امن میں بدلنے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ ایران علاقائی عدم استحکام کی پالیسی ترک کرے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی سلامتی اور لبنان میں مستقل جنگ بندی کیلئے ہونے والی پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کیلئے ناگزیر قرار دیا اور اس بریک تھرو کو ممکن بنانے پر پاکستان اور قطر کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ مشرقِ وسطیٰ جنگ کا خاتمہ کسی فریق کی فتح یا شکست نہیں بلکہ سفارت کاری کی جیت ہے۔ یوں پاکستان اور قطر نے مل کر عالمی تاریخ کا ایک ایسا قابلِ فخر باب لکھ دیا ہے جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved