تحریر : حافظ محمد ادریس تاریخ اشاعت     23-06-2026

سٹوڈنٹ یونین الیکشن اور ہنگامہ آرائی

جنوری 1970ء میں جامعہ پنجاب کے سٹوڈنٹ یونین الیکشن میں پولنگ سٹیشن کافی بڑی تعداد میں تھے۔ بڑے ڈپارٹمنٹس میں متعدد پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے۔ پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہر پولنگ سٹیشن پر ریٹرننگ افسر (جو جامعہ کے اساتذہ تھے) کی نگرانی میں پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی ہوتی۔ گنتی مکمل ہونے پر ہر امیدوار کے پولنگ ایجنٹ سے پیپر پر لکھی ہوئی تعداد کی تصدیق کرائی جاتی اور دستخط لیے جاتے۔ پھر پولنگ افسر پروفیسر بھی دستخط کرتے اور مہر لگاتے۔ اس کے بعد نتیجے والا پیپر سر بمہر لفافے میں مرکزی الیکشن کمیشن کے دفتر‘ نیو کیمپس جمع کرا دیا جاتا۔ اس کارروائی اور گنتی کے بعد ایس ٹی سی میں دوبارہ مجموعی گنتی چیف الیکشن کمشنر اور چیف پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں ہوتی۔
ہم نے ہر سٹیشن پر کارکنوں کی ٹیمیں مقرر کر رکھی تھیں‘ جونہی کوئی نتیجہ برآمد ہوتا وہ فوراً مرکزی دفتر اور لاء کالج ہاسٹل میں اطلاع پہنچاتے۔ آخری گنتی کے دوران میں لاء کالج ہاسٹل میں تھا۔ رات آٹھ بجے تک صورتحال واضح ہو چکی تھی۔ ہم الیکشن جیت چکے تھے‘ اگرچہ مقابلہ خاصا سخت ہوا تھا۔ آٹھ بجے کے بعد میں ایک دوست کے ہاں آرام کرنے کی غرض سے چلا گیا۔ رات بارہ بجے کچھ ساتھی وہاں آئے اور کہا کہ چلو نیو کیمپس میں تمہارا انتظار ہو رہا ہے۔ ایک دوست کی گاڑی میں ہم نیوکیمپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ نتائج تیار ہو چکے ہیں اور مخالف پارٹی کے کچھ لوگ غیر طالب علم غنڈوں کی معیت میں ایس ٹی سی کے باہر جمع ہو کر نتائج کا اعلان رکوانے کیلئے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہمارے ساتھی ان کے مقابلے پر بہادری سے ڈٹے ہوئے تھے۔ ہم رات قریب ایک بجے ایس ٹی سی پہنچے۔ رات انتہائی خنک تھی اور ہر طرف دھند اور کہر تھی۔ ایک عجیب ہنگامہ آرائی کا منظر تھا۔ جونہی کارکنوں نے مجھے دیکھا تو جوش وخروش سے نعرے لگانے لگے۔ ہال کے اندر جب اطلاع پہنچی کہ میں آ گیا ہوں تو پرنسپل لاء کالج‘ پروفیسر امتیاز علی شیخ (جو بعد میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی مقرر ہوئے) اس الیکشن میں چیف الیکشن کمشنر تھے۔ وہ اسسٹنٹ الیکشن کمشنر خواجہ غلام صادق کے ہمراہ ہال سے باہر نکلے۔ دونوں اساتذہ خاصے تھکے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ خواجہ غلام صادق کے ہاتھ میں ایک پرچہ تھا۔ اس پرچے میں ہر سیٹ کا نتیجہ درج تھا۔ اس میں سے انہوں نے نتائج کی تفصیل پڑھ کر سنائی۔ اعلان کے مطابق مجھے 2296 ووٹ ملے تھے اور جہانگیر بدر کے ووٹ 2100 تھے۔ باقی پوسٹوں پر تنویر تابش (نائب صدر) اور عثمان غنی خان (جوائنٹ سیکرٹری) منتخب ہوئے تھے۔ انجمن خواتین میں ہماری نمائندہ طالبہ سائرہ کریم کامیاب قرار پائیں۔
الیکشن کے دوسرے دن یعنی 27 جنوری کو ہم نے اولڈ کیمپس سے ایک ریلی نکالی اور اسمبلی ہال کے سامنے تقریریں کر کے منتشر ہو گئے۔ اسی روز شام کو مختلف ہاسٹلوں میں جا کر ووٹروں کا شکریہ ادا کیا۔ ہیلے کالج ہاسٹل میں عجیب منظر تھا۔ وہ منظر آج تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہاسٹلوں کی بالکونیوں‘ گیلریوں اور برآمدوں میں ہر جانب موم بتیوں سے چراغاں کیا گیا تھا۔ تمام لڑکوں نے اپنے اپنے روم اور اپنی ڈارمیٹریوں کے اندر بھی موم بتیاں جلا رکھی تھیں۔ ہاسٹلوں کے طلبہ ہمارے زبردست حامی تھے مگر ان کی تعداد خاصی کم تھی۔ ہیلے کالج ہاسٹل ہی میں ہمیں اطلاع ملی کہ مخالف گروپ نے دن کو ایک میٹنگ کی ہے‘ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیکرٹری کا انتخاب نہ ہونے دیا جائے۔ پولنگ کے دوران پولنگ سٹیشنوں پر حملے کر کے بیلٹ بکس اٹھا لیے جائیں۔ سیکرٹری کا الیکشن اگلے دن یعنی 28 جنوری کو ہونا قرار پایا تھا۔ یہ خبر ملتے ہی میں نے اسی وقت ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر محمد ابراہیم کے ہائوس میں جا کر ان کی اجازت سے وائس چانسلر علامہ علاء الدین صدیقی (مرحوم) سے فون پر بات کی اور مخالف گروپ کی ہیلے کالج میں ہونے والی میٹنگ کا تذکرہ کیا۔ میں نے علامہ صاحب سے واضح طور پر کہاکہ اس معاملے میں یا تو جامعہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کیے جائیں یا ہم لوگ خود حفاظتی انتظامات کر لیں۔ انہوں نے بڑے وثوق سے کہا: پہلی بات تو یہ ہے کہ اس افواہ میں مجھے کوئی وزن نظر نہیں آتا۔ دوسرا‘ ہم تمام حفاظتی اقدامات کر لیں گے آپ کوئی فکر نہ کریں‘ آپ لوگوں کو بلاوجہ اشتعال دلانے کیلئے یہ افواہ پھیلائی گئی ہے۔
جن جن دوستوں تک ہم پیغام پہنچا سکے‘ انہیں اطلاع دے دی گئی کہ کل گڑبڑ کا خطرہ ہے مگر زیادہ تر طلبہ کو اطلاع نہ مل سکی کیونکہ اس زمانے میں موبائل تو دور کی بات‘ ہر جگہ اور ہر شخص کے پاس لینڈ لائن فون کی سہولت بھی نہ ہوتی تھی۔ دوسرے روز علی الصباح جب پولنگ کا عمل شروع ہوا تو ہیلے کالج سے حسب پروگرام شکست خوردہ پارٹی نے پولنگ سٹیشنوں پر حملہ کر کے بیلٹ بکس اٹھا لیے۔ جامعہ کے عام الیکشن میں ہر ووٹر کو عہدیداران اور کونسلرز سمیت تقریباً 14 یا 15 امیدواران کے ناموں کے سامنے نشان لگانا ہوتا تھا‘ اس لیے اس میں کافی وقت لگ جاتا مگر اُس روز چونکہ ہر ووٹر کو صرف ایک ہی جگہ مہر لگانا تھی‘ اس لیے ایک گھنٹے کے اندر اندر کم وبیش پولنگ کا بیشتر کام ختم ہو چکا تھا اور اکثر شعبوں میں پریذائیڈنگ افسر اور پولنگ ایجنٹوں کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔
ہیلے کالج سے بیلٹ بکس اٹھا کر جلوس کی صورت میں یہ لو گ اولڈ کیمپس آئے اور اکثر شعبوں میں گھس کر مخالف ایجنٹوں کو زدوکوب کیا۔ اساتذہ کو برا بھلا کہا گیا اور بیلٹ بکس اٹھا لیے۔ میں اس وقت اپنا ووٹ ڈال رہا تھا‘ جب یہ لوگ شعبہ اسلامیات پہنچے۔ ہمارے شعبے میں زیادہ تعداد طالبات کی تھی مگر الحمدللہ ہم نے اپنے سٹیشن پر بیلٹ بکسوں کی حفاظت کی۔ کئی دیگر شعبوں میں طلبہ نے بروقت پہنچ کر حملہ آوروں کو ناکام بنا دیا۔ ہنگامہ آرائی نیوکیمپس میں بھی اسی وقت شروع ہوئی جب اولڈ کیمپس اور ہیلے کالج کیمپس میں اس کا آغاز ہوا۔ یہ باقاعدہ سوچی سمجھی سکیم تھی۔ بیلٹ بکس توڑنے کے بعد ہنگامہ آرا غائب ہو گئے۔ بیلٹ پیپرز جو ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے‘ بعض جگہوں سے ہمارے کارکنوں نے جمع کیے۔ بیلٹ پیپروں پر اکثر ووٹ حفیظ خان کے حق میں ڈالے گئے تھے۔ میں اسی روز وائس چانسلر صاحب سے ان کے دفتر میں جا کر ملا۔ طلبہ کا ایک وفد میرے ساتھ تھا۔ میں نے وائس چانسلر صاحب کے ساتھ ملاقات میں ان کو گزشتہ شب والی ٹیلی فون گفتگو یاد دلائی اور کسی قدر شکایت کے لہجے میں کہا کہ سر! ہم سے دھوکا ہوا ہے‘ آپ اس پر کوئی ایکشن نہیں لے رہے۔اس روز کی طویل گفتگو میں ہمارا ناقابل تبدیل موقف یہ تھا کہ (1) جس قدر بھی بیلٹ بکس محفوظ رہ گئے ہیں‘ ان کی گنتی کر کے نتائج کا اعلان کر دیا جائے۔ (2) ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف فوراً کارروائی کا اعلان کیا جائے۔ (3) یونین کی حلف برداری کی تاریخ مقرر کی جائے۔ ہمارے مطالبات سننے پر وائس چانسلر صاحب کا جواب تھا کہ (1) چھ سات ہزار ووٹروں کے ادارے میں چار پانچ یا سات آٹھ سو محفوظ ووٹوں پر کس طرح جیت ہار کا اعلان کیا جائے۔ (2) کارروائی کے لیے انتظامیہ لازماً عنقریب غور کرے گی۔ (3) غیر مکمل یونین کی حلف برداری کیسے ممکن ہے۔ علامہ صاحب خدا کو پیارے ہو چکے ہیں‘ اللہ تعالیٰ ان کو جوار رحمت میں جگہ دے۔ میں اس وقت اپنے اور ان کے موقف کے حسن و قبح پر کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ وہ ہمارے بزرگ بھی تھے‘ استاد بھی اور باہمی احترام وشفقت کا رشتہ بھی دو سال سے قائم تھا۔ میں نے صرف اتنا عرض کیا کہ سر! جب ہم نے آپ کو اطلاع دی تھی کہ شکست خوردہ فریق کا ہنگامہ آرائی کا پلان ہے تو آپ کا کہنا تھا کہ تم لوگ فکر نہ کرو‘ نہ کوئی کارروائی کرو‘ اس سے باہم تصادم ہو گا، ہم خود صورتحال کو کنٹرول کر لیں گے۔ پھر انتظامیہ نے کیوں غفلت برتی؟ اس پر استاد محترم نے کہا ''تم زیادہ بحث میں نہ پڑو، ہمیں کچھ کرنے دو! مزید کچھ کہنے پر قدرے بلند آواز میں جواب ملا: فضول بحث اور تکرار کو چھوڑو اور انتظار کرو۔ ہم کیا کر سکتے تھے‘ مجلس سے اٹھ کر باہر آ گئے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved