تحریر : سلمان غنی تاریخ اشاعت     24-06-2026

برگن سٹاک مذاکرات کی نتیجہ خیزی

امریکہ ایران مذاکراتی عمل عالمی محاذ پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں صرف فریقین کے درمیان ہی امن معاہدے کا امکان نہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی اس میں بڑا پیغام یہ ہے کہ مذاکرات اور ڈائیلاگ کی بنیاد پر بڑے سے بڑے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں مذاکراتی عمل کے دوران جہاں امریکہ اور ایران باہمی تنازعات کے حوالے سے سر جوڑے نظر آئے تو وہاں دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روایتی انداز میں دھمکیوں نے ایک دفعہ پھر نازک صورتحال پیدا کر دی۔ ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے اُس بیان کے حوالے سے کہا کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو آج وہ مایوسی کے اس مقام پر نہ پہنچتے۔ مذاکراتی عمل کے دوران کئی اتار چڑھائو آئے‘ ایک دوسرے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا لیکن ڈائیلاگ کے عمل کا یہی فائدہ ہوتا ہے کہ جہاں تحفظات ظاہر کیے جاتے ہیں وہاں ان کا ازالہ بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ بہرحال مذاکراتی عمل میں سامنے آنے والے تحفظات سے درست راستہ نکل آیا اور فریقین میں جنگ بندی کو مؤثر بنانے پر اتفاق رائے ہوا۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان زبردست پیش رفت دکھائی دی اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق رائے ہوا۔ پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں واضح کہا گیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے جبکہ ایران اور امریکہ نے 60 دن کے اندر جنگ کے خاتمہ کے حتمی معاہدے پر پہنچنے کیلئے روڈ میپ تیار کر لیا ہے۔ اس کی تائید ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اپنے ٹویٹ میں یہ کہتے ہوئے کی کہ پاکستان اور قطر کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں لبنان کی جنگ کے خاتمے کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ مفاہمت کی یادداشت کو بنیاد بناتے ہوئے فریقین نے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو اس ثالثی کی سیاسی نگرانی کرے گی۔ مذکورہ کمیٹی نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے روڈ میپ پر بھی اتفاق کیا جس سے تکنیکی مذاکرات کے عمل میں مزید پیش رفت کی بنیاد رکھی گئی۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ فریقین اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے مذاکرات تعمیری ماحول میں جاری رہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے دلکش مقام برگن سٹاک میں ہونے والے مذاکراتی عمل کے حوالے سے اچھی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنیں اور اس میں پاکستان کی لیڈرشپ خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے قائدانہ کردار کا بھرپور اعتراف کیا گیا۔ ماہرین اس عمل کو مذاکرات کی نتیجہ خیزی کے حوالے سے مثبت قرار دے رہے ہیں‘ لیکن مذکورہ عمل کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے اور خصوصاً اس عمل کے دوران صدر ٹرمپ کے طرز عمل اور ان کی جانب سے ایران پر دبائو ڈالنے کے لیے دھمکیوں کے انداز کا تجزیہ کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ کسی اندرونی دبائو کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ طاقت اور قوت کے استعمال کے باوجود انہیں مرضی کے نتائج نہیں مل سکے تو اس مذاکراتی عمل کے نتیجے میں ان کی پوزیشن مزید متاثر نہ ہو اور وہ مسلسل ایران پر دبائو ڈالنے کی حکمت عملی پرعمل پیرا رہیں۔ دوسری جانب مذاکراتی عمل بارے ایران کی سنجیدگی دیکھی جائے تو ایک تو وہ تول کر بولتے نظر آ رہے ہیں اور مشکل صورتِ حال میں بھی ان کی سنجیدگی ان کے طرزِ عمل سے عیاں ہے۔ ویسے بھی زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو جانی اور مالی نقصان کے باوجود ایران کی لیڈرشپ نے حوصلہ نہیں ہارا اور وہ اپنی قوم کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے امن‘ آزادی اور خودمختاری پر کمپرومائز کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ اس صورتِ حال میں بڑھتی امیدوں اور توقعات کا اظہار تو ہو رہا ہے کہ مذاکراتی عمل نتیجہ خیز ہونا چاہیے کیونکہ اس پر دنیا کو درپیش معاشی صورتحال خاص طور پر پٹرولیم کے بحران کے حل کا بہت حد تک انحصار ہے۔
اب تک کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کا بڑا فائدہ ایران کو ملتا نظر آ رہا ہے۔ اس پر سے تجارتی پابندیوں کا خاتمہ اور تیل کی آزادانہ فروخت بھی یقینی بنتی نظر آ رہی ہے‘ اس کے منجمد اثاثوں کی بحالی کی بھی خبریں ہیں‘ لہٰذا اسے کسی طرح بھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے‘ اس لیے کہ یہ مذاکراتی عمل امن کا ضامن ہے اور دنیا اپنا وزن جارحیت کے خلاف امن کے پلڑے میں ڈال چکی ہے۔ دنیا کی سپر پاور امریکہ کو ایران کے خلاف صرف اسرائیل کی مدد مل سکی اور یہی عمل اس کے سیاسی عمل پر اثر انداز ہوا اور پھر امریکہ کو نہ صرف مذاکراتی عمل کی طرف آنا پڑا بلکہ اس نے اس عمل کے لیے جلدی بھی دکھائی۔ پاکستان کو اس صورتِ حال کا یہ فائدہ ہوا کہ پاکستان نے کسی کے ساتھ فریق یا شراکت دار بننے کے بجائے جنگ بندی اور مذاکراتی عمل پر کام کیا۔ دنیا کی تاریخ میں پاکستان کے اس مصالحانہ اور مفاہمانہ طرز عمل کو اچھے لفظوں میں یاد رکھا جائے گا۔ بلاشبہ قطر نے بھی مذاکراتی عمل میں کردار ادا کیا لیکن اس عمل میں بڑ ا کردار پاکستان ہی کا ہے۔ البتہ اس بڑے اور تاریخی کردار کا اصل کریڈٹ تب ملے گا جب فریقین کے درمیان حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔ فی الحال پاکستان کو جو چیلنج درپیش ہے وہ اس مذاکراتی عمل کی نتیجہ خیزی کا ہے جس کیلئے دوست ممالک کی معاونت کے ساتھ تگ ودو جاری رکھنا ہو گی۔
ایک طرف جہاں دنیا کے اہم ممالک سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں تو دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ میں یہودی لابی اس عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے کوشاں نظر آتی ہے۔ امریکی دبائو پر اسرائیل لبنان میں جنگ بندی پر آمادہ ہوا لیکن اس کا طرز عمل بتا رہا ہے کہ وہ چین سے نہیں بیٹھے گا۔ اسرائیلی حکومت کے ذمہ داران مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری جاری رکھیں گے جبکہ ایران یہ واضح کر چکا ہے کہ معاہدے پر اسرائیل سے عمل کرانے کی ذمہ داری امریکہ کی ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ ڈیل کا خواہشمند ہے تو اسے لبنان میں حملے بند رکھنے کیلئے اسرائیل پر دبائو ڈالنا ہو گا۔ امریکہ کو خیال رکھنا پڑے گا کہ اس کے لیے بھی واحد راستہ اب مذاکرات کی کامیابی ہے‘ کیونکہ ایران پر جارحیت کے عمل نے امریکہ کے رعب اور دبدبہ کو متاثر کیا ہے اور بطور سپر پاور اس کی ساکھ مجروح ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کا بیڑا اسرائیلی مفادات کے لیے اٹھایا تھا مگر اس غلط فیصلے نے امریکہ کو اب اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved