واقعۂ کربلا ہمیں باطل کے سامنے ڈٹ جانے‘ اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے اور دین کی خاطر ہر قربانی حتیٰ کہ جان کی قربانی دینے کا ابدی اور آفاقی درس دیتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دن کو رات‘ اجالے کو اندھیرے‘ سچ کو جھوٹ اور حق کو باطل سے کیسے جدا کیا اور رکھا جاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کتنے ہی کٹھن حالات ہوں‘ حق اور سچائی کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے اور ظلم کے آگے جھکنے کے بجائے ثابت قدم رہنا چاہیے چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر باطل اقتدار کی بیعت سے انکار کیا اور پھر پوری استقامت کے ساتھ اپنے اس فیصلے پر قائم رہے۔ اس فیصلے کی تائید میں میدانِ کربلا میں مشکلات‘ مصائب‘ بھوک‘ پیاس اور وسائل کے لحاظ سے تہی دامنی کے باوجود اہلِ بیت نے جس قدر صبر کا مظاہرہ کیا‘ وہ ہر مشکل گھڑی میں حوصلہ قائم رکھنے کی بہترین مثال‘ بہترین سبق ہے۔
ظلم اور برائی کو روکنے کے تناظر میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک مشہور اور جامع حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے جس میں ان دونوں خباثتوں (ظلم اور برائی) کو روکنے کے تین درجات بیان کیے گئے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: (مفہوم) تم میں سے جو کوئی کسی برائی (یا ظلم) کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ (یعنی طاقت) سے اسے روکے‘ اگر وہ برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے یعنی برائی کو اپنی زبان سے روکے‘ اور اگر زبان سے روکنے کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ ظلم یا برائی کو اپنے دل میں برا جانے‘ اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ پہلا درجہ برائی کے خلاف طاقت کے استعمال کا ہے۔ اگر کسی شخص یا ادارے کے پاس ظلم کو روکنے کی عملی طاقت اور اختیار موجود ہیں تو اسے ظالم کا ہاتھ پکڑ کر ظلم کو روکنا چاہیے۔ دوسرا درجہ یعنی زبان کا استعمال یہ ہے کہ بول کر‘ لکھ کر‘ یا پُرامن احتجاج کے ذریعے ظالم کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ تیسرا درجہ یعنی دل میں برا جاننا لیکن خاموش رہنا یہ ہے کہ اگر حالات ایسے ہوں کہ زبان سے بھی کچھ کہنا جان کے لیے خطرے کا باعث بنے تو کم از کم دل میں اس ظلم کو غلط اور ناپسندیدہ ضرور سمجھیں۔ لاریب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے جبر اور نا انصافی کے خلاف حدیثِ بالا کے مطابق پہلے درجے کا جہاد کیا اور جان جانے کے خطرے کے باوجود ظالم کے ظلم کے سامنے بند باندھنے کی حتی المقدور کوشش کی جو ہر لحاظ سے اللہ کو منظور بھی ہے اور اللہ کے ہاں مقبول بھی۔
ایک اور مقام پر نبی کریمﷺ نے ظالم کو ظلم سے نہ روکنے کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی۔ سنن ترمذی کی حدیث کے مطابق آپﷺ نے فرمایا: (مفہوم) لوگ جب ظالم کو ظلم کرتا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے اپنی اور اپنے عزیز رفقا کی جانوں کی قربانی دے کر امتِ مسلمہ کو اللہ کے اس بڑے عذاب سے بچایا جس کی طرف حدیثِ مبارکہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ بہت بڑی قربانی ہے‘ انسانی تاریخ میں جس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔
یہ جملے لکھتے ہوئے مجھے خوف محسوس ہو رہا ہے کہ برائی کو روکنے کے حوالے سے ہم کس درجے کے مسلمان ہیں۔ شاید تیسرے درجے کے بھی نہیں۔ یزید‘ فرعون اور شداد ہر دور اور ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔ ہمارے زمانے میں بھی ہوں گے۔ تو ان کو روکنے میں ہم کس درجے کے مومن اور مسلمان ثابت ہوئے ہیں؟ غالباً تیسرے درجے کے بلکہ اس سے بھی نیچے کوئی درجہ ہوتا تو شاید اس درجے پہ فائز ہوتے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ہمیں تعلیم کیا دی گئی تھی اور ہم جا کہاں رہے ہیں۔ یہ راستہ کامیابی کی منزل کی طرف نہیں جاتا۔ کامیابی کا راستہ وہی ہے جو کربلا میں تشنہ لبوں نے اختیار کیا تھا۔
کربلا کا واقعہ انسانی تاریخ میں صبر‘ ثابت قدمی اور وفاداری کی ایسی داستان ہے جس کی مثال نسلِ انسانی کی پوری تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھی شدید پیاس‘ بھوک اور مشکلات کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ عاشورا محرم ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی میں مشکلات اور آزمائشیں آتی رہتی ہیں لیکن مومن کو ہمیشہ صبر کرنا چاہیے اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ ان مشکلات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ حضرت امام حسینؓ کی سیرت ہمیں ثابت قدمی‘ اخلاقی جرأت اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کا درس دیتی ہے۔ آج کے دور میں جب معاشرے میں ناانصافی‘ بدعنوانی اور دیگر اخلاقی کمزوریاں پائی جاتی ہیں تو کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ عاشورا کے موقع پر مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس دن کی حقیقی روح کو سمجھیں۔ روزہ رکھیں‘ نوافل پڑھیں‘ قرآنِ مجید کی تلاوت کریں اور سیدنا امام حسینؓ اور ان کے رفقا کی قربانیوں کو یاد کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کا جائزہ لے کر شہدائے کربلا کی بے مثل قربانیوں میں پنہاں پیغام کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو اس پیغام کے مطابق ڈھالنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے کہ یہی حق اور فتح کا راستہ ہے۔ اس راستے میں تشنہ لبی تو ہے لیکن ابدیت بھی ہے۔ اس راستے میں شہادت تو ہے لیکن حقیقی فتح بھی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم میں کم از کم اتنی جرأت تو ہونی چاہیے کہ برے کو برا‘ کرپٹ کو کرپٹ اور ظالم کو ظالم کہہ سکیں کہ معاشرے کو ایک حقیقی جمہوری اور فلاہی معاشرہ بنانے کے لیے اس کی بے حد ضرورت ہے۔ حقیقت یہ کہ امتِ مسلمہ کو بحیثیت مجموعی آج کے دور کے یزیدوں کا سامنا ہے جن کا مقابلہ متحد ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ صدی کے ربع آخر میں افغانستان میں رونما ہونے والے انقلابات اور غیر ملکی یلغاروں سے لے کر غزہ میں اب تک جاری آگ اور خون کا کھیل‘ عراق‘ شام‘ لبنان کی تباہی اور ایران پر مسلسل مسلط کی جانے والی جنگوں تک ماضی قریب کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو سب کچھ واضح ہو جاتا ہے کہ کون سی قوتیں روئے ارض پر کون سی تبدیلیاں کن مقاصد کے تحت لانا چاہتی ہیں۔ یومِ عاشور کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر جاری ان سازشوں کو سمجھا جائے‘ پرکھا جائے اور ان سازشوں کو فرو کرنے کے لیے ہر سطح پر تیاریاں کی جائیں۔ یہ تیاریاں طاقت کی ہونی چاہئیں کہ ہمیں اپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ تیاریاں ابلاغ کی سطح پر ہونی چاہئیں کہ دشمن کی سازشوں کا توڑ تلاش کیا جا سکے اور اگر کچھ نہیں ہو سکتا تو عالمی سطح پر جو کچھ غلط ہو رہا ہے اسے غلط ضرور سمجھنا چاہیے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved