کچھ عرصے سے محسوس کیا ہے کہ خواجہ آصف نے آخرکار برسوں کی تپسیا (سخت محنت) کے بعد ایک لفظ سیکھ کر اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلی دفعہ اس لفظ کے اثرات قومی اسمبلی میں بدھ کے روز نظر آئے جب بلاول بھٹو زرداری اپنا سارا غصہ وزیر دفاع خواجہ آصف پر نکال رہے تھے اور خواجہ صاحب ایسے بے نیازی سے بیٹھے تھے جیسے بلاول کا مخاطب کوئی اور ہے۔ یہ لفظ (well left) میں نے سنا یا پڑھا تو شاید بہت پہلے ہو گا لیکن اس کا مطلب مجھے میرے مرحوم دوست ڈاکٹر ظفرالطاف نے کرکٹ کی زبان میں سمجھایا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اچھا بیٹسمین فاسٹ باؤلر کی ہر تیز اور مشکل گیند کو نہیں چھیڑتا بلکہ وہ اسے سمجھداری سے وکٹ کیپر کو جانے دیتا ہے اور باؤلر کو بھی ستائشی نظروں سے دیکھتا ہے کہ کیا خوبصورت گیند کرائی تھی جو وہ نہیں کھیل سکتا تھا لیکن سمجھداری سے اسے چھوڑ سکتا تھا تاکہ کسی اور لُوز بال کا انتظار کرے اور اسے کھیلے۔ ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے‘ جو بیٹسمین ہر گیند کو ہر حال میں کھیلنے کا شوقین ہوتا ہے وہ بہت جلدی آؤٹ ہو جاتا ہے۔ سمجھدار بیٹسمین سمجھداری سے ایک ایک گیند کا انتخاب کرتا ہے اور وہ لمبی اننگز کھیلتا ہے۔ اور یہ سمجھداری آتے آتے بڑا وقت لگتا ہے اور اس دوران آپ کئی دفعہ ایسی گیندوں پر آؤٹ ہو چکے ہوتے ہیں جو اَب چھوڑ دیتے ہیں کہ اس گیند کو کھیلنے میں خطرہ ہے۔ اس پر سٹروک کھیلا تو ممکن ہے چوکا بھی لگ جائے لیکن زیادہ امکان آؤٹ ہونے کا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ویل لیفٹ کو پسند کرتے تھے۔ یہ بات صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی ہم سب کے کام آتی ہے لیکن وہی بات کہ کوئی بھی یہ خوبی پیدائشی لے کر اس دنیا میں نہیں آتا۔ تجربوں کے بعد ہی آپ زندگی میں ویل لیفٹ کرنا سیکھتے ہیں۔ میں خود اب عمر کے اس حصے میں آکر ویل لیفٹ فلاسفی پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور بڑی حد تک کامیاب بھی ہوں۔ اس پالیسی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے پر محنت بہت کرنی پڑتی ہے اور خود کو روکنا بڑا مشکل ہوتا ہے لیکن جو فوراً ردِعمل دینے سے خود کو روک لیں ان کیلئے سب سے بڑا تحفہ ان کا ذہنی سکون ہوتا ہے۔ میرے اندر یہ خامی رہی ہے اور اب بھی کسی حد تک ہے کہ میں بہت سارے ردِعمل فوراً دینے کی کوشش کرتا آیا ہوں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سوشل میڈیا پر بہت قریبی دوستوں سے تعلقات خراب ہوئے۔ کئی کئی نئی دشمنیاں بن گئی۔ بلکہ اب تو میں اکثر کہتا ہوں کہ کچھ صحافت اور کچھ میری اپنی وجہ سے آدھے شہر سے میں نہیں ملنا چاہتا اور آدھا شہر مجھ سے نہیں ملنا چاہتا۔ یہ بھی میری ویل لیفٹ سوچ کا نتیجہ تھا کہ ان لوگوں سے ملنا چھوڑ دیں جن سے آپ کو Toxic feeling آنا شروع ہو جائے یا جن کی کمپنی اب آپ انجوائے نہ کرتے ہوں یا وہ انجوائے نہ کرتے ہوں۔ خود پر زبردستی نہ کریں نہ دوسرے کو مجبور کریں کہ وہ آپ کے ساتھ چمٹا رہے۔ اگر آپ کچھ دیر کیلئے کسی کی بات کو اگنور کر دیں گے تو کچھ دیر بعد آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ نے اچھا فیصلہ کیا تھا۔ میں نے خود نوٹ کیا ہے کہ جب جب فوری ردعمل دیا مجھے ہمیشہ تکلیف ہوئی۔ نقصان اٹھایا اور فائدہ شاید ہی کبھی ہوا ہو۔ فائدہ شاید آپ کے اندر قید اس جانور کو ہوتا ہے جو فوراً اگلے کو چبانا چاہتا ہے۔ اب اس جانور کو کیسے کنٹرول کیا جائے‘ اسے ویل لیفٹ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے جب خواجہ آصف بے نیازی یا خاموشی سے بلاول بھٹو زرداری کی اپنے خلاف سخت تقریر سُن رہے تھے تو پریس گیلری سے انہیں دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ خواجہ صاحب اس وقت کیا سوچ رہے ہوں گے؟ میں خواجہ صاحب کو جنرل مشرف کی اکتوبر 2000ء کی پارلیمنٹ سے جانتا ہوں۔ تقریباً 24برس سے ان کو قریب سے دیکھا‘ سنا اور سمجھا ہے۔ جو پارلیمنٹرینز کسی کے ساتھ ویل لیفٹ پر یقین نہیں رکھتے تھے ان میں دو سرفہرست تھے۔ ایک خواجہ آصف اور دوسرے چوہدری نثار علی خان۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی ان پر بات کر جائے اور وہ اسے ویل لیفٹ کر دیں۔ انہوں نے جواب دینا ہی دینا ہے۔ شاید خواجہ صاحب نے کبھی کبھار کسی کو بخش دیا ہو لیکن چوہدری نثار علی تو کسی کو رعایت دینے کے قائل نہ تھے۔
مجھے یاد آیا۔ 2015ء کی بات ہے‘ چوہدری نثار علی خان وزیر داخلہ تھے۔ میں ایک ٹی وی پر رات دس بجے شو کرتا تھا۔ ایک صبح پنجاب ہاؤس کے آپریٹر نے فون پر کہا کہ وزیر داخلہ بات کریں گے۔ کچھ دیر بعد چوہدری صاحب فون لائن پر تھے۔ بڑے عرصے کے بعد بات ہو رہی تھی۔ وہ اکثر ناراض ہی رہتے تھے۔ انہوں نے فوراً گلہ شکوہ کیا کہ میں نے کل رات کے پروگرام میں ان کے ایک فیملی ممبر پر گفتگو کی اور یہ بات نامناسب تھی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ انہوں نے میرا شو نہیں دیکھا تھا ورنہ میں سمجھا تھا وہ فون میرا شکریہ ادا کرنے کیلئے تھا کیونکہ اس شو میں ان کی فیملی کے پوائنٹ آف ویو کی حمایت کی تھی۔ ان کو کسی نے بتایا تو انہوں نے بغیر پروگرام دیکھے مجھے ردِعمل دیا اور ناراضگی سے فون کال کی۔ میں نے کہا‘ آپ نے خود شو دیکھا ہے تو کہنے لگے کہ کسی نے بتایا تھا‘ خود پروگرام نہیں دیکھا۔ میں نے کہا‘ افسوس کی بات ہے ملک کا وزیر داخلہ سنی سنائی بات پر مجھے فون کر کے گلہ کر کے ناراض ہو رہا ہے۔ میں نے کہا‘ پہلے پروگرام دیکھ لیں‘ اگر آپ کو لگے کہ آپ کی فیملی بارے کوئی ایسی قابلِ اعتراض بات کی گئی ہو تو میں اپنے شو میں معذرت کر لوں گا۔ کہنے لگے‘ دیکھ کر آپ کو کال کرتا ہوں۔ مجھے اندازہ تھا ان کا معذرت بھرا فون آئے گا اور ساتھ شکریہ۔ اس بات کو آج گیارہ برس گزر گئے ان کی فون کال آج تک نہیں آئی کہ کہیں اپنی مِس انڈر سٹینڈنگ پر معذرت اور شکریہ ادا نہ کرنا پڑے۔ چوہدری نثار علی خان کو طویل عرصے میں صرف ایک دفعہ ویل لیفٹ کرتے دیکھا اور شاید وہ اب تک اس پر پچھتاتے ہوں گے کہ اُس دن وہ چپ کیوں رہے‘ کیوں انہوں نے چوہدری اعتزاز احسن کو موقع دیا کہ وہ ان کے خلاف ہاؤس میں تقریر کرتے رہیں اور نواز شریف جو وزیراعظم تھے‘ انہیں بولنے سے روک دیں۔ مجھے یقین ہے چوہدری نثار علی خان کو کتنی سخت محنت کرنی پڑی ہو گی کہ وہ چوہدری اعتزاز احسن کے ذاتی حملوں کو ویل لیفٹ کر دیں۔ اگرچہ ہمارے دوست میجر عامر ہمیشہ چوہدری نثار علی خان کے اس صبر اور ضبط کی داد دیتے رہے ہیں کہ انہوں نے جواب نہ دے کر اچھا کیا تھا لیکن میرے خیال میں جب بات آپ کی ذات پر الزامات تک آ جائے تو پھر آپ کو تمام تر نتائج کو ایک طرف رکھ کر جواب دینا چاہیے یا وضاحت دینی چاہیے تاکہ ریکارڈ درست رہے۔ لیکن شاید وقت سکھا دیتا ہے کہ ہر بات پر ری ایکٹ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ ایک دن کی بات ہوتی ہے اگلے دن نیا دن اور کوئی نیا ہنگامہ۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں یہ بڑی نارمل سی بات ہے کہ لوگ شام تک بڑی سے بڑی خبر یا لڑائی بھول جاتے ہیں۔
خواجہ آصف کو بلاول کے زبانی حملوں کے جواب میں خاموش دیکھ کر خیال آیا کہ وقت کے ساتھ وہ بھی سمجھداری سے کام لینا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کا پہلا سائن اس وقت نظر آیا تھا جب وزیر ریلوے حنیف عباسی کی سخت تقریر کے بعد جواب نہ دیا‘ یہ سنجیدگی اور بدلتے مزاج کو ظاہر کرتا ہے ورنہ یہ کب ممکن تھا کہ خواجہ آصف خاموش رہتے۔ آج دوسری دفعہ خواجہ آصف کو بلاول کی تقریر پر ویل لیفٹ کرتے دیکھا۔ شاید خواجہ صاحب نے سوچا ہو کہ اب بھلا بلاول سے کیا سینگ اڑائیں۔ شاید پرانی یادیں آ رہی ہوں کہ یہیں کبھی وہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر سخت تقریریں کرتے تھے‘ بدلتے وقت کے ساتھ آج ان کا بیٹا وہی زبانی Belt treatment انہیں دے رہا تھا جو خواجہ صاحب برسوں سے دوسروں کو دیتے آئے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved