تقریباً ساڑھے تین ماہ کی جنگ کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی سمجھوتے کیلئے مذاکراتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ مذاکرات کے اس سلسلے کی پہلی نشست سوئٹزرلینڈ میں ہوئی جس میں ایرانی وفد کی قیادت سپیکر اسمبلی باقر قالیباف اور امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی۔ ان کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جبکہ قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی بھی ثالث کی حیثیت سے وہاں موجود تھے۔ مذاکرات کا مقصد آئندہ 60 دنوں میں ایک طے شدہ فریم ورک کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان متعدد تنازعات کا حتمی حل تلاش کرنا ہے۔ ان میں سب سے اہم ایران کے جوہری پروگرام پر ایک ایسے سمجھوتے کا حصول ہے جس کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کے ایٹمی طاقت بننے کے امکان کو ختم کرنا مقصود ہے۔
آج سے تقریباً بارہ برس قبل بھی اسی مقصد کیلئے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے‘ مگر اس معاہدے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران مئی 2018ء میں ختم کر دیا تھا۔ سابق صدر اوباما کے دور کے معاہدے اور موجودہ مجوزہ ڈیل کے درمیان ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ پہلے معاہدے کے مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل اراکین چین‘ روس‘ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ یورپی یونین کے نمائندے کی حیثیت سے جرمنی بھی شریک تھا جبکہ 21 جون 2026ء کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہوئے۔ اس کامیاب سیشن کے بعد آئندہ 60 دنوں کے روڈ میپ کے مطابق مختلف تکنیکی کمیٹیاں جن متنازع امور پر غور کریں گی ان کی سہولت کاری کیلئے بھی پاکستان اور قطر کے حکام موجود رہیں گے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار‘ جنہوں نے حال ہی میں قاہرہ میں مصر‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے ساتھ R-4 فورم کے تحت ملاقات کی‘ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر ایران امریکہ مذاکرات میں ثالث کی حیثیت سے جو کردار ادا کر رہے ہیں‘ اسے R-4 کے رکن ممالک کے علاوہ دیگر علاقائی ممالک کی بھی تائید حاصل ہے۔ ان کے مطابق مذاکراتی عمل کو مستحکم بنیاد فراہم کرنے اور اسے درست سمت میں برقرار رکھنے کیلئے پاکستان‘ ترکیہ اور مصر سمیت دیگر علاقائی ممالک مثلاً قطر‘ کویت‘ متحدہ عرب امارات اور عمان نے جو کردار ادا کیا ہے وہ مشرقِ وسطیٰ کو جنگ سے بچانے اور فریقین یعنی ایران اور امریکہ کو امن کی راہ پر لانے میں منفرد اور انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اوباما دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یورپی یونین کے نمائندے کی حیثیت سے جرمنی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کا کردار نمایاں تھا مگر علاقائی ممالک کو نہ شامل کیا گیا‘ نہ ان سے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی ان کے قومی سلامتی مفادات کو پیشِ نظر رکھا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کو روکنے کیلئے علاقائی ممالک نے عملی اقدامات کیے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ سے باز رہنے اور امن کو ایک اور موقع دینے پر آمادہ کیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ امریکہ اور ایران کی جانب سے بھی یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر 14نکاتی میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر متفق کروا کر پاکستان نے 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کیلئے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کیا۔ اس کے بغیر ان مذاکرات کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن نے پاکستان کے کردار کی اہمیت بیان کرتے ہوئے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ اگر اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ نہ ہوتا تو ہم آج یہاں‘ یعنی سوئٹزرلینڈ میں موجود نہ ہوتے کیونکہ اسی مفاہمتی یادداشت کی بدولت جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔ اس کامیابی کی بنیاد 8 اپریل کو رکھی گئی تھی جب چالیس دن کی مسلسل جنگ کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف دی ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے۔ قطر نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران میں تعمیرِ نو اور معیشت کی بحالی کیلئے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کے قیام کی تجویز قطر ہی کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ اسی تجویز نے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر امریکی صدر کے دستخط کی راہ ہموار کی کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کے اختیار پر اصرار کے باعث ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا۔
وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان‘ قطر اور ترکیہ کی جانب سے ایران امریکہ جنگ رکوانے میں ادا کیا گیا کردار نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی جنگ اور امن کے معاملات میں علاقائی ممالک کی جانب سے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ نیٹو ایران کے خلاف جنگ میں صدر ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دے گا؟ اس سے قبل کوریا‘ ویتنام اور افغانستان کی جنگوں میں نیٹو نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ 1955 ء کے بغداد پیکٹ (بعد ازاں سینٹو) اور سیٹو میں بھی امریکہ کے کہنے پر برطانیہ اور فرانس نے شمولیت اختیار کی تھی حالانکہ ان معاہدوں کا ان ممالک کے اپنے سکیورٹی مفادات سے براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ تاہم ستر برس سے زائد عرصہ گزر جانے اور خصوصاً سرد جنگ کے خاتمے کے بعد قوموں کی ترجیحات میں بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اب حکومتوں کے سامنے اپنے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنا‘ خوشحالی کو عام کرنا اور معیشتوں کو مضبوط بنانا زیادہ اہم اہداف ہیں۔ اور انہیں بخوبی علم ہے کہ یہ مقاصد جنگ کے ماحول میں نہیں بلکہ امن‘ استحکام اور تعاون کی فضا میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے ممالک براہِ راست اور بالواسطہ طور پر 1948ء سے اب تک اسرائیل کے ساتھ ہونے والی چار جنگوں کی تباہ کاریوں سے متاثر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ تقریباً تین برسوں سے غزہ میں اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف مسلسل خونریز کارروائیاں کر رہا ہے۔ عراق اور شام میں بھی بڑی مشکل سے امن قائم ہوا ہے۔ اس پورے خطے میں خلیج فارس کی عرب ریاستیں کچھ عرصے سے امن اور استحکام کی فضا میں زندگی گزار رہی تھیں‘ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنے ہمسایہ اور دیگر ممالک کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات استوار کیے۔ مغربی ممالک کے علاوہ چین نے بھی ان ریاستوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں یہ ممالک جدید کمرشل مراکز اور جدید ترین انفراسٹرکچر کے قیام میں کامیاب ہوئے ہیں۔تاہم ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مؤقف سے متاثر ہو کر ایران کے خلاف ایک ایسی جنگ کا آغاز کیا جو امریکی عوام کی نظر میں بھی بلاجواز‘ غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔اس صورتحال میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان‘ ترکیہ اور مصر نے مل کر ایک ایسا پریشر گروپ تشکیل دیا کہ امریکی صدر کو بالآخر اپنی جنگجویانہ پالیسی ترک کرنا پڑی اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved