تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     28-06-2026

دیکھ موسم کہاں جا رہا ہے

مملکتِ خداداد کے اکابرینِ کرام یہ بات ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں کہ اس وقت جب گرمی جوبن پر ہے پاکستان کا موسم برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس‘ اٹلی اور سپین سے بہتر ہے۔ پنجابی کے لحاظ سے یہ ہاڑ کا مہینہ ہے جو سب سے گرم مہینہ تصور کیا جاتا ہے۔ جیٹھ ہاڑ کی گرمی اور پھر ساون کی بارشیں جن سے زمین میں ٹھنڈک آتی ہے اور آگے کی فصلوں کی تیاری ہوتی ہے۔ یہ پرانا تصور تھا جب موسم جوں کا توں صدیوں تک ایک ہی انداز سے چل رہا تھا۔ یہ ہم انسانوں نے اس میں گڑبڑ کر دی جس کی وجہ سے موسمیاتی تغیر نے ہر چیز کو الٹ پلٹ کر دیا ہے۔ اس بار آپ دیکھیں کہ جون کا مہینہ بیشتر‘ اوپر کے ملک میں کتنا خوشگوار رہا ہے۔ گرمی ایک دو روز ہوتی بھی تو چند روز بعد جھکڑ اور بارش آ جاتی اور موسم بہتر ہو جاتا۔ یعنی اس دفعہ ایسا ہوا کہ جون کا مہینہ ایک لحاظ سے بے مثال رہا۔
اس کے برعکس یورپ کا حال دیکھیں‘ پیرس میں ٹمپریچر 40‘ 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک گیا ہے اور ایک مقام فرانس کے جنوب میں ایسا ہے کہ وہاں ٹمپریچر 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔ ہمارے لیے پھر بھی 40‘ 41 ڈگری کی گرمی اتنی زیادہ نہیں‘ اس کے ہم عادی ہیں۔ لیکن یورپ میں جہاں گھر سردی کے موسم کیلئے بنے ہوں نہ پنکھے نہ ایئر کنڈیشن‘ اتنی تپتی دھوپ میں کیا حال ہو گا‘ خاص طور پر اُن لوگوں کیلئے جو اس گرمی کے بالکل عادی نہیں۔ روم میں حالت یہ ہے کہ جہاں کہیں فوارہ ہو سیاح اپنے منہ پر پانی پھینکنے لگتے ہیں۔ اس سال گرمی کی وجہ سے اُن دیسوں میں سیاحت کا سارا حلیہ بدل رہا ہے اور ٹور گائیڈ جب کسی شہر میں پیدل سفر کی پلاننگ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہاں چھاؤں ہے اور کہاں کسی مقام پر ایئرکنڈیشن کی سہولت مل جائے تو سیاحوں کو وہاں دھکیل دیں۔ یعنی حساب اب بالکل اُلٹ ہو گیا ہے‘ گرمی کے مارے ہم لوگ ہوا کرتے تھے اور یورپی جب اپنی برتری کے نکات پیش کرتے تھے تو اُس میں یہ نکتہ بھی ہوتا کہ یہاں کا سرد موسم ہمیں چست اور توانا رکھتا ہے۔ اب کلائمیٹ سائنس بتا رہی ہے کہ جہاں ساری دنیا کی تپش بڑھ رہی ہے سب سے زیادہ گرم ہونے والا براعظم یورپ ہے۔ ہمارے ساتھ یہ قدرت کی مہربانی ہے کہ جہاں جون کے مہینے میں موسمی حالات وہاں اتنے خراب رہے ہیں‘ ہمارے ہاں جون نسبتاً بہتر رہا ہے۔ اور یہ ایک ایسا ٹرینڈ ہے جو ریورس ہونے والا نہیں۔
اس بارے ہمیں کچھ سوچنا چاہیے کہ اگر گرمی کا موسم یہاں قدرے خوشگوار ہو رہا ہے تو اپنے ملک کے حالات ایسے بنائے جائیں کہ یورپ میں گرمی سے ستائے ہوئے لوگ یہاں کا رخ کریں۔ پاؤنڈ‘ ڈالر اور یورو یہاں خرچ کریں تاکہ یہاں ایک ٹورسٹ انڈسٹری بن سکے‘ ہماری کمائی بڑھے اور جہاں کشکول لیے ہر دوسرے دروازے پر دستک دیتے ہیں‘ اس سے چھٹکارا حاصل ہو جائے۔ اس وقت روپے کی حالت یہ ہے کہ باہر کا کوئی آدمی پاکستان میں چھٹی منانے آئے تو یہ دنیا کی سستی ترین چھٹی ثابت ہو۔ پاؤنڈ اور ڈالر کی روپوں میں قیمت وہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ روپوں میں تبدیل کرائیں تو روپے ختم نہیں ہوتے۔ قباحت البتہ یہ ہے کہ اوپر بیٹھے ہوئے لوگوں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ ایئرپورٹ سے لے کر ہوٹلوں تک اور وہاں سے لے کر تمام لوازماتِ سیاحت تک‘ ہر چیز کو مشکل بنانا ہے‘ ہر آسانی کو گمبھیر کرنا ہے‘ تاکہ کوئی بھول کے آئے بھی تو کان پکڑ کر تہیہ کرے کہ میری توبہ پھر اس راہ سے نہیں گزرنا۔
یہ بڑا ہی المیہ ہے۔ ہم کہتے نہیں تھکتے کہ ملک بڑا خوبصورت ہے۔ خوبصورت تو ہے لیکن جب ارادہ ہو کہ ہر خوبصورتی کو خراب کرنا ہے اور ہر آسانی کو مشکل بنانا ہے تو اس خوبصورتی کو لے کر انسان کہاں جائے۔ تھائی لینڈ جیسا ملک سیاحت سے اتنا کماتا ہے کہ صرف اس ایک مد میں اُس کی آمدنی ہماری تمام قومی آمدنی سے زیادہ ہے۔ تھائی لینڈکا موسم ہمارے قریب نہیں پھٹکتا‘ لیکن اُنہوں نے ٹورسٹ انڈسٹری کو بنایا ایسا ہے کہ دنیا کا سیاح وہاں جاتا ہے۔ گرمیوں کا پرابلم یہاں ہمیشہ رہا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گرمیوں کی شدت میں کمی آ رہی ہو پھر تو یہ سوچ دماغوں میں بیٹھنی چاہیے کہ ہمارے ساتھ یہ ایک معجزہ ہونے والا ہے۔ لیکن کیا ہم اس کے قابل بھی ہیں؟ کچھ سمجھ بھی رکھتے ہیں کہ اس آنے والے معجزے سے ہم نے کرنا کیا ہے؟
کرنا تو یہ چاہیے کہ پاکستان کے سرکاری دماغوں میں سے ناکارہ سوچ باہر نکالی جائے۔ جن نعروں اور فرسودہ خیالات نے اس ملک کو عجیب سا ملک بنایا ہوا ہے اُن کو ذہنوں سے نکالا جائے۔ پارسائی کے قوانین جن سے کوئی پارسائی آئی نہیں اُن کے بیوقوفانہ عمل کو ختم کیا جائے۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ اس کیلئے کوئی انقلابی قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں‘ بس تھوڑی سی عقل اور تحمل مزاجی کا سہارا لیا جائے۔ قوانین اگر ہیں بھی اور اُن میں تبدیلی لانا سیاسی طور پر اگر اتنا آسان نہ ہو پھر بھی اُن کے اطلاق میں تبدیلی لائی جائے۔ حالت یہاں یہ ہے کہ باہر کا کوئی آدمی یہاں کے کسی بڑے ہوٹل میں ٹھہرے تو اُسے گمان ہوتا ہے کہ کسی ویرانے میں آ گیا ہے۔ ایک بات یہاں بہت اچھی ہوئی ہے کہ ہمارے دیس کی جو کئی لٹھ بردار تنظیمیں ہیں‘ جنہوں نے اپنا یہ فرضِ اولیٰ سمجھا ہوا تھا کہ وقت بے وقت پارسائی کے نام پر ڈنڈا چلانا ہے اُن کی سیاسی حیثیت میں کمی آئی ہے۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر حکومتوں کو بھی کچھ ہمت دکھانی چاہیے کہ پاکستان کا مجموعی ماحول اچھا بنے تو اس میں ملک کی بہتری ہے۔
مسئلہ یہاں یہ ہے کہ جو طبقہ حکومتوں میں بیٹھتا آیا ہے ایک تو وہ اتنے ویژن کا مالک نہیں اور دوسرا جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں‘ وہ اپنے مفادات کے چکر میں زیادہ توانائیاں صرف کرتا ہے۔ اس سے زیادہ کیا کہا جائے۔ اقتدار کے ٹولے میں ایسے عناصر بھی رہے ہیں کہ نماز کا وقت آئے تو اُن سے بڑا کوئی دیندار نہیں لگتا‘ پیسے بنانے کے حوالے سے اُن کے کرتوتوں پر نظر جائے تو انسان محوِ حیرت ہو جائے۔ ایسے طبقۂ اقتدار سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟ اور یہی یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حکومتوں سے ہٹ کر اجتماعی طور پر یہاں ذوق کی خاصی کمی ہے۔ قدرتی لحاظ سے کوئی اچھا مقام ہو تو مزاج کچھ ایسا بن چکا ہے کہ چین نہیں آتا جب تک کہ اُس کے قدرتی حسن کو برباد نہ کر دیا جائے۔ مری کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟ گلیات کا حال دیکھ لیں۔ نتھیا گلی کا حسن کیا تھا اور اب کیا ہے۔ ہم نے ناران کاغان کو نہیں بخشا۔ ناران میں ہوٹلوں کی بھرمار ہو گئی ہے‘ نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ کوئی صحیح راہ دکھانے والا۔ سوات کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ جہاں کسی کا دل چاہتا ہے ایک بلڈنگ کھڑی کر دی جاتی ہے۔ کتابوں میں قانون ہے‘ پابندیاں ہیں لیکن عملاً ایسی بربادی ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ قانون اگر ہے تو صرف محدود سیاسی مقاصد کیلئے‘ کسی بڑے اجتماعی عزم کیلئے نہیں۔
یہ تو پہاڑی علاقوں کا ذکر ہے لیکن ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر جو میدانوں میں تباہیاں پھیلائی گئی ہیں اور پھیلائی جا رہی ہیں وہ سب نظارے ہمارے سامنے ہیں۔ ایسا ہی ہوتا رہا تو موسم کی تبدیلی ہمارے حق میں ہو بھی تو اُس کا ہم کیا کر سکیں گے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved