تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     28-06-2026

پاکستان کی معاشی ترقی کا نیا دروازہ

گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی معیشت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں توانائی کا بحران‘ زرِمبادلہ کی کمی‘ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور سست معاشی نمو ایک دوسرے سے منسلک مسائل بن چکے ہیں۔ تاہم پاکستان کی تزویراتی‘سفارتی وعسکری کامیابیوں اور ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے اور امن عمل کی کاوشوں نے اس نازک موڑ کو ترقی وخوشحالی کی جانب موڑ دیا ہے۔ امریکہ سے جنگ بندی اور ایران پر امریکی معاشی قدغنوں میں نرمی کے بعد ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا ایک روزہ دورۂ اسلام آباد نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ دونوں ملکوں کے ہزاروں برس پر محیط اسلامی‘ تاریخی اور ثقافتی وتہذیبی تعلقات میں ایک نئے روشن باب کا آغاز ہے۔ پاکستان نے ایرانی صدر کے فقید المثال استقبال سے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان اور ایران محض ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ اسلامی بھائی چارے کی اعلیٰ مثال اور 'یک جان دو قالب‘ ہیں۔ ایرانی صدر کے ایک روزہ دورے کا مقصد امریکہ ایران معاہدے اور خطے میں امن کے قیام کیلئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ایرانی عوام کی جانب سے اظہارِ تشکر تھا۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر ایک مضبوط مسلم بلاک کے قیام پر بھی زور دیا۔ پاک ایران برادرانہ تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی امن واستحکام کے فروغ کے علاوہ مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا جو خوش آئند ہے۔
اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ اسرائیل اور امریکہ سے جنگ کے دوران ایران کو اپنے مخلص دوستوں اور دشمنوں کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے۔ ایرانی صدر کا دورہ محض رسمی دورہ نہیں تھا بلکہ سٹرٹیجک سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی پیشرفت مستقل شکل اختیار کرتی ہے اور ایران پر عائد امریکی معاشی پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو پاکستان کیلئے ایسا سنہری معاشی موقع جنم لے سکتا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں کا سب سے بڑا موقع ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی عالمی منڈی میں فروخت سے متعلق بعض پابندیوں میں وقتی نرمی اور کچھ منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ خطے میں معاشی سرگرمیاں ایک نئی سمت اختیار کر سکتی ہیں۔ اگر یہ عمل آگے بڑھتا ہے تو پاکستان اور ایران کے مابین 900کلومیٹر طویل سرحد محض جغرافیائی حد بندی نہیں رہے گی بلکہ معاشی تقدیر بدلنے کی علاقائی شاہراہ ثابت ہو گی۔ بدقسمتی سے یہ سرحد کئی برسوں سے غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ کا گڑھ بنی رہی ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق ایران سے سالانہ 1.2ارب ڈالر مالیت کا پٹرول‘ ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات غیر قانونی راستوں سے پاکستان پہنچتی ہیں‘ دیگر اشیا کی سمگلنگ اس کے علاوہ ہے‘ جس سے نہ صرف قومی خزانے کو تقریباً سالانہ 820 ملین ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے بلکہ قانونی کاروبار بھی متاثر ہوتا ہے۔ اب ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کے نتیجے میں پاک ایران سرحد پر قانونی تجارت کے امکانات روشن ہوئے ہیں‘ جس سے حکومت کو محصولات حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اور توانائی کی رسد زیادہ مستحکم ہو سکے گی۔
ایران نہ صرف پاکستان کا برادر اسلامی ہمسایہ ملک ہے‘ بلکہ یہ تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے‘ قدرتی گیس کے ذخائر میں روس کے بعد یہ دوسرے نمبر پر ہے۔ اسے وطن عزیز کی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ توانائی کی اتنی بڑی دولت سرحد سے متصل ہونے کے باوجود ہم اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے مہنگی عالمی منڈی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟ اب اگر امریکی پابندیوں میں مستقل نرمی آتی ہے تو خام تیل‘ پٹرول‘ ڈیزل‘ ایل پی جی اور دیگر پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی قانونی درآمد میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل پاکستان کی توانائی کی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لا سکتی ہے۔ اس منصوبے کے فعال ہونے سے مہنگی ایل این جی کی درآمد پر انحصار کم ہو گا‘ نیفتھا (Naphtha)‘ ایتھین اور دیگر پیٹرو کیمیکل کی تجارت کئی ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ صرف توانائی سے متعلق باہمی تجارت ہی سالانہ 9 سے 14 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔ اس طرح بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی اور صنعتی شعبے کو سستی توانائی دستیاب ہو سکے گی۔ اگر ریفائنڈ فیول کی ترسیل کیلئے جدید پائپ لائنیں تعمیر کی جائیں تو نقل وحمل کے اخراجات کم ہوں گے‘ سپلائی چین بہتر ہو گی اور درآمدی نقصانات میں بھی کمی آئے گی۔ دوسری جانب گوادر بندرگاہ کو اگر ایرانی توانائی کے ذخیرہ‘ پراسیسنگ اور ٹرانزٹ مرکز کے طور پر ترقی دی جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی جغرافیائی اہمیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے بلکہ چین‘ وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے مابین توانائی کی تجارت کا ایک اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔
صرف توانائی ہی نہیں بلکہ پیٹرو کیمیکل صنعت بھی پاکستان کیلئے غیر معمولی امکانات رکھتی ہے۔ سستی ایرانی گیس اور خام مال کی بنیاد پر کھاد‘ پلاسٹک‘ پولیمر اور دیگر صنعتی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں‘ جس سے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ یوں پاکستان اپنی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کے جائزوں کے مطابق اگر یہ تمام مواقع مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ بروئے کار لائے جائیں تو پاکستان کو سالانہ 23سے 36ارب ڈالر تک کا مجموعی معاشی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ اعداد وشمار مختلف مفروضوں پر مبنی ہیں‘ تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قانونی توانائی تجارت‘ گیس درآمدات‘ ٹرانزٹ فیس اور صنعتی ترقی پاکستان کیلئے غیر معمولی معاشی امکانات پیدا کر سکتی ہیں۔ تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں کا مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے‘ امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کسی بھی وقت صورتحال کو بدل سکتی ہے‘ جبکہ پاکستان کے اندر پالیسیوں کا عدم تسلسل‘ ادارہ جاتی پیچیدگیاں اور سرمایہ کاروں کا کمزور اعتماد بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اس لیے صرف سفارتی پیشرفت کافی نہیں بلکہ پاکستان کو داخلی سطح پر بھی تیز رفتار اور مربوط اصلاحات کرنا ہوں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ توانائی کے منصوبوں کیلئے واضح حکومتی ضمانتیں فراہم کرے‘ سرمایہ کاروں کیلئے سنگل وِنڈو سسٹم قائم کرے‘ پائپ لائنوں‘ ریفائنریوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر پیشگی تیاری کرے اور گوادر کو ایک حقیقی علاقائی توانائی مرکز بنانے کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کرے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ پیسے کی کمی نہیں بلکہ ڈالر کی قلت ہے۔ اگر توانائی کی درآمدات پر ہونے والے اربوں ڈالر کے اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر زرِمبادلہ کے ذخائر‘ روپے کے استحکام اور مجموعی معاشی صورتحال پر پڑے گا۔ آنے والے مہینے اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ایران پر پابندیوں میں مستقل نرمی آتی ہے اور پاکستان بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کرتا ہے تو سالانہ 23 سے 36 ارب ڈالر کا ممکنہ فائدہ‘ جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً آٹھ فیصد کے برابر ہے‘ صرف ایک تجارتی ہندسہ نہیں بلکہ ایک معاشی انقلاب کی نوید بن سکتا ہے۔ پھر 900 کلومیٹر طویل پاک ایران سرحد محض ایک جغرافیائی لکیر نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کی معاشی بحالی اور علاقائی اقتصادی استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے۔ تاہم اگر اب بھی ہم تاخیر‘ غیر یقینی پالیسیوں اور انتظامی کوتاہیوں کا شکار ہوئے تو یہ سنہری موقع بھی ماضی کے کئی ضائع شدہ مواقع کی طرح ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved