تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     29-06-2026

انرجی کوریڈورکے معاشی اثرات

پاکستان اور ایران کے تعلقات پر جب بھی گفتگو ہوتی ہے تو ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر ضرور توجہ مرکوز ہوتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے لیکن بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی معاشی حقیقتوں میں صرف ایک پائپ لائن کے بارے میں سوچنا اب کافی نہیں۔ پاکستان اپنی حکمت عملی کو وسیع کرتے ہوئے ایران پاکستان انرجی کوریڈور کے تصور کی طرف بڑھ سکتا ہے اور ایران کے ساتھ پاور گرڈ رابطے کو وسعت دے سکتا ہے۔ ابتدائی سطح پر درآمدات کو 500 میگاواٹ پھر ایک ہزار میگاواٹ اور بعد ازاں تین ہزار میگاواٹ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں گوادر‘ پسنی‘ اورماڑہ اور کراچی تک پاکستان ایران انرجی بیلٹ قائم کی جا سکتی ہے۔ ایرانی گیس اور بجلی کو صرف گھریلو استعمال کے لیے نہیں بلکہ معدنیات کی پراسیسنگ‘ فشریز‘ کولڈ سٹوریج‘ ڈی سیلینیشن پلانٹس اور ایکسپورٹ زونز کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گوادر کے قریب ایک مشترکہ پیٹروکیمیکل اور بلیو امونیا ہب بھی قائم کیا جا سکتا ہے جہاں ایرانی گیس کو کھاد‘ میتھانول‘ امونیا اور شپنگ فیول میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس ویژن کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے تو صرف پاکستان ایران پاور گرڈ سے سالانہ دو سے تین ارب ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے۔ انرجی بیلٹ سے تین سے پانچ ارب ڈالر‘ بلیو امونیا ہب سے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر‘ بارڈر انڈسٹریل پارکس سے دو سے چار ارب ڈالر‘ منی ایل این جی کوریڈور سے دو سے تین ارب ڈالر‘ گوادر چاہ بہار ماڈل سے دو سے چار ارب ڈالر‘ گیس پائپ لائن سے چار سے چھ ارب ڈالر‘ تجارتی حجم میں اضافے سے چھ سے 10 ارب ڈالر جبکہ ریفائنری اور پیٹروکیمیکل منصوبوں سے مزید چھ سے 10 ارب ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے۔محتاط اندازوں کے مطابق یہ مجموعی طور پر 30 سے 35 ارب ڈالر سالانہ کی معاشی صلاحیت بنتی ہے جبکہ مکمل انرجی کوریڈور ماڈل 40 سے 45 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتا ہے۔
دنیا کی کامیاب مثالیں سب کے سامنے ہیں۔ روٹرڈیم‘ سنگاپور اور فجیرہ صرف بندرگاہیں نہیں بلکہ توانائی کے عالمی مراکز بن چکے ہیں۔ ان کی کامیابی کا راز صرف ایک پائپ لائن یا ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک مکمل انرجی ایکو سسٹم ہے جس میں ذخیرہ اندوزی‘ ریفائننگ‘ لاجسٹکس‘ ٹرانزٹ اور صنعت شامل ہیں۔ پاکستان کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ پرانی سوچ ایران پاکستان گیس پائپ لائن ہے‘ نئی سوچ ایران پاکستان انرجی کوریڈور ہوسکتی ہے۔ ایک پائپ لائن کمزور ہو سکتی ہے لیکن ایک کوریڈور سرمایہ کاری کو متوجہ کر سکتا ہے‘ روزگار پیدا کر سکتا ہے‘ برآمدات بڑھا سکتا ہے اور ملک کو علاقائی معاشی مرکز میں تبدیل کر سکتا ہے ۔ اس معاشی ترقی کے لیے پیپلز پارٹی کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی کامیابی کے لیے صدر زرداری نے امریکی دباؤ کے باوجود راستہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت‘ مصنوعی ذہانت‘ فائیو جی‘ ڈیٹا سنٹرز اور آئی ٹی برآمدات کی بات تو بہت ہوتی ہے لیکن ایک بنیادی حقیقت کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت تک حقیقی ڈیجیٹل معیشت نہیں بن سکتا جب تک فائبر آپٹک نیٹ ورکس‘ موبائل ٹاورز اور فائیو جی انفراسٹرکچر کو مقامی اجازت ناموں‘ انتظامی رکاوٹوں اور مختلف اداروں کی منظوریوں کے پیچیدہ نظام سے آزاد نہیں کرایا جاتا۔ حکومت کئی سال سے فائیو جی سروس متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ملک میں موبائل صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 16 کروڑ سے زیادہ ہے۔ ملک بھر میں تقریباً 60 ہزار سے زائد سیلولر سائٹس اور موبائل ٹاورز موجود ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں فائبرائزیشن کی شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ فائیو جی صرف نئی فریکوئنسی یا جدید موبائل ٹاورز کا نام نہیں بلکہ اس کی اصل بنیاد فائبر آپٹک نیٹ ورک ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں 70 سے 90 فیصد موبائل ٹاورز فائبر نیٹ ورک سے منسلک ہیں جبکہ پاکستان میں یہ شرح اب بھی محدود ہے۔ مطلوبہ فائبر انفراسٹرکچر کے بغیر صارفین کو حقیقی فائیو جی رفتار اور معیار فراہم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 2024-25ء کے دوران تقریباً 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ حکومت آئندہ چند برسوں میں انہیں 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کمزور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ساتھ یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے؟ سافٹ ویئر ہاؤسز‘ کلاؤڈ سروسز‘ مصنوعی ذہانت اور فِن ٹیک شعبوں کو تیز رفتار‘ مستحکم اور سستا انٹرنیٹ درکار ہوتا ہے۔ اگر فائبر بچھانے کے لیے مہینوں یا برسوں تک مختلف سرکاری اور نجی اداروں سے اجازت لینا پڑے تو سرمایہ کاری کی رفتار بڑھنے کے بجائے سست ہو سکتی ہے۔
ادھرآڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ 399 صفحات پر مشتمل رپورٹ ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی ہے یا گورننس کی خرابی؟ وزارت داخلہ اور انسدادِ منشیات نے 65 آڈٹ اعتراضات کے ساتھ تمام وفاقی اداروں میں پہلا نمبرحاصل کیا ہے۔ سب سے نمایاں اعتراض 3421 اسلحہ لائسنسوں سے وصول کیے گئے تقریباً پانچ کروڑ 60 لاکھ روپے کا سرکاری خزانے میں جمع نہ ہونا ہے۔ اگرچہ پانچ کروڑ 60 لاکھ روپے وفاقی بجٹ کا صرف 0.0003 فیصد بنتے ہیں‘ لیکن اصل مسئلہ رقم کا حجم نہیں بلکہ مالیاتی نظم وضبط کا فقدان ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ یہ رقم کہاں گئی بلکہ یہ ہے کہ ایسا نظام کیسے موجود ہے جس میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے سرکاری ریکارڈ اور خزانے کے درمیان غائب ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک وزارت کے اندر چند کروڑ روپے کی وصولیوں کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں تو اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری خریداریوں کی نگرانی کتنی مؤثر ہو گی‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن پر 31‘ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر 18 اور وزارت قومی غذائی تحفظ پر 17 آڈٹ اعتراضات موجود ہیں۔ مسئلہ کسی ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ پورے حکومتی ڈھانچے میں موجود ہے۔ پاکستان اس وقت مالی مشکلات‘ کمزور ٹیکس وصولیوں اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست ہر ممکنہ آمدنی کے ذرائع تلاش کر رہی ہے‘ لیکن دوسری طرف آڈٹ رپورٹس مسلسل یہ بتا رہی ہیں کہ موجودہ وسائل کا مؤثر انتظام بھی نہیں ہو پا رہا۔ موٹروے کی صورتحال بھی مختلف نہیں ۔ حکومت نے 205 ارب روپے مالیت کے 117 کلومیٹر طویل کھاریاں راولپنڈی موٹروے منصوبے کا ٹھیکا دینے کا فیصلہ کیا ہے جس نے شفافیت اور سرکاری خریداری کے اصولوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ منصوبہ اس وقت پاکستان کی تاریخ کے مہنگے ترین موٹروے منصوبوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ جنوری 2022ء میں ایکنک نے اس منصوبے کی منظوری 96 ارب روپے کی لاگت سے دی تھی لیکن اپریل2026ء تک یہی لاگت بڑھ کر 203 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ یعنی صرف چار برسوں میں منصوبے کی لاگت میں تقریباً 112 فیصد اضافہ ہوا۔لاگت میں تقریباً 109 ارب روپے کا اضافہ کئی وفاقی وزارتوں کے سالانہ ترقیاتی بجٹ اور رواں سال کے ترقیاتی بجٹ کے 20 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ سوال صرف سڑک بنانے کا نہیں بلکہ اس کے بنانے کے طریقہ کار کا ہے۔ اپریل 2026ء میں ایکنک نے اس منصوبے کے لیے International Competitive Bidding کی ہدایت دی تھی لیکن اب مذاکراتی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ یہ بظاہر معمولی فیصلہ لگ رہا ہے لیکن اس کے پیچھے اربوں روپوں کی مالی بے ضابطگیاں ہو سکتی ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved