تحریر : افتخار احمد سندھو تاریخ اشاعت     29-06-2026

ایران امریکہ جنگ کا فاتح کون؟

میڈیا‘ خاص طور پر سوشل میڈیا پر ایک بحث بڑی آب وتاب سے جاری ہے کہ ایران جنگ جیت گیا ہے۔ سوشل میڈیا دراصل ایک دجالی فتنہ بن چکا ہے اور اس کا نصب العین سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ بتانا نہیں بلکہ اس کا اولین مقصد سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنا ہے۔ انہیں امت مسلمہ‘ پاکستان یا پاکستانیوں کی بالکل پروا نہیں‘ وی لاگرز کو صرف ویوز کے ذریعے پیسے کمانے کی فکر ہے۔ اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران جنگ کیسے جیت گیا‘ امریکہ نے کون سا ایران پر قبضہ کر لیا تھا جو ایران بزور طاقت واپس لے لیا ہے۔
دراصل دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ بات طے ہو گئی تھی کہ اب کے بعد کوئی ملک کسی دوسرے ملک پر قبضہ نہیں کرے گا بلکہ اس کی معیشت پر قابض ہو گا۔ اور یہی کچھ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ ایران کی معیشت (تیل) پر بزور طاقت قبضہ کیا جائے۔ جیسے امریکہ نے وینزویلا کی معیشت (تیل) پر قبضہ کیا لیکن بھرپور کوشش کے بوجود ایران میں ایسا ممکن نہیں کر سکا مگر اس نے ایران کو بھرپور نقصان پہنچایا ہے‘ تاہم امریکہ اور اسرائیل ایرانی قوم کو تقسیم کرنے میں ناکام رہے اور اہلِ ایران نے متحد ہو کر مقابلہ کیا۔ امریکہ‘ اسرائیل‘ انڈیا اور یواے ای چاروں مل کر بھی ایران کو توڑ نہیں سکے ‘ وہ ہر صورت متحد رہا ہے۔
ہمارے زیادہ تر ویلاگرز بھیڑ چال کے عادی ہیں۔ عوام کو جو مرضی بتا دیں‘ جوکچھ بھی وہ ان کو بتائیں گے وہ سنتے رہیں گے‘ وہ تو گوبھی کے پھول ہیں‘ بالکل بھی نہیں بولیں گے۔ کوئی حرکت یا حیل وحجت پیش نہیں کریں گے‘ اور جب ان کے یہ پروگرام ان کی نسلیں دیکھیں گی تو حیران ہوں گی۔ مزے کی بات یہ کہ اس میں بڑے بڑے نامی گرامی میڈیا پرسنز بھی شامل ہیں۔ یہ پڑھے لکھے لوگ ہیں‘ ایسی بات ہرگز نہیں کہ یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں‘ ہمارے ان دانشوروں کی نظر میں ایران جنگ جیت گیا اور امریکہ یہ جنگ ہار گیا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ وہی کچھ بیچتے ہیں جو بکتا ہے یا بک رہا ہے کیونکہ یہ دکاندار اور دکاندار اپنے گاہکوں کی پسندیدہ چیزیں ہی فروخت کیلئے پیش کرتا ہے لہٰذا یہ پیسے کمانے کے چکر میں قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو ایران کا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے‘ ان کے ادارے تباہ ہو گئے ہیں‘ اس کی تیل کی صنعت کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے‘ اس کے بے شمار اور اہم لوگ بلکہ رہنما مارے گئے ہیں۔ پاکستان میں ایک آسٹریلین بچی قتل ہوئی ہے حالانکہ یہ بچی پاکستانی نژاد تھی یعنی اس کا ''پیکا‘‘ پاکستان ہی ہے۔ ایک بچی کے قتل کا معاملہ خود آسٹریلین وزیراعظم نے اٹھایا ہے کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک ایک جان کی بھی قدرو قیمت ہوتی ہے۔ دوسری طرف ایران میں سینکڑوں نہیں ہزاروں معصوم بچے بچیاں مارے گئے اس کے با وجود ہم کہہ رہے ہیں کہ ایران جنگ جیت گیا ہے۔ لوگوں کے جان و مال کی جو قدر وقیمت ہوتی ہے اس پر ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو دیکھنا یہ ہے کہ یہ جنگ کس مقصد کیلئے تھی جو حاصل کر لیا گیا ہے۔ ایران کا انتظامی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا‘ ایران جیسا امیر ترین ملک بدحالی کا شکار ہو چکا۔ لوگوں کو معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن میری اس بات سے کتنے لوگ اتفاق کرتے ہیں مجھ اس سے کچھ غرض نہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ سب لوگ کسی بات سے اتفاق کر لیں۔ میری با ت کو صرف ایک آدمی بھی غور سے پڑھ لے تو میرے لیے بہت ہے۔
اندازِ بیاں اگرچہ کچھ شوخ نہیں ہے
شاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات
میں تو یہ بات ریکارڈ پر رکھنا چاہتا ہوں کہ جب ہماری آنے والی نسلیں دیکھیں تو انہیں معلوم ہو کہ کون کیا کہہ رہا تھا۔ ایران کی جیت کا دعویٰ کرنے والے کہہ رہے ہیں کہ امریکہ ایران پر قبضہ نہیں کر سکا اس لیے ایران یہ جنگ جیت گیا ہے۔ غور کریں کہ امریکہ نے یمن پر قبضہ نہیں کیا‘ لیکن تباہ برباد کرکے رکھ دیا۔ کیا امریکہ نے اردن پر قبضہ کیا ہے‘ کیا عراق‘ شام اورمصر پر قبضہ کیا ہے؟ دراصل بات یہ ہے کہ اب قبضے کا دور ہی نہیں رہا بلکہ وہ دور ختم ہو گیا ہے‘ امریکہ نے ایران پر قبضہ نہیں کرنا تھا اور نہ اس نے ایسا کیا لیکن انہوں نے ایران کی کمر توڑ دی۔ اس کے بعد ایران وہ ایران نہیں رہے گا جو ایران اس سے پہلے تھا۔ جو ان کی بڑھکیں تھیں‘ جو ان کی تقریریں تھیں‘ جوان کا بیانیہ تھا‘ اس میں خاصی کمی آئے گی۔
اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل بھی جنگ ہار گیا۔ اسرائیل نے لبنان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس کو تباہ وبرباد کرکے فلسطین کی طرح کھنڈرات کا ڈھیر بنا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کو بھی شدید نقصان پہچایا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ لبنان اور ایران نے اسرائیل کا کیا بگاڑا؟ اسرائیل تک ان کے میزائل پہنچ ہی نہیں سکے۔ بلکہ ایران کے حوالے سے ہمارے اس بیانیے کی وجہ سے ایران کا بہت سا نقصان ہوا ہے۔
امریکہ نے مذاق ہی مذاق میں یہ جنگ لڑ کر پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کو نیست ونابود کر دیا۔ اس کھلنڈرے آدمی نے جس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے اور اسی سال اس کی عمر ہے‘ جب آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے تو اسی کیفیت میں چلاجاتا ہے۔ یہ بات میں نہیں کہہ رہا بلکہ قرآن پاک میں اس کا حوالہ موجود ہے۔ جس طرح ایک بچے کو کھیلنے کیلئے کھلونا چاہیے اسی طرح اس بابے نے ایران جیسے ملک کے ساتھ جنگ کا کھیل شروع کر دیا۔ یہ تو اللہ بھلا کرے ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا جواپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کو بڑی تباہی اور بربادی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی ان کوششوں میں بڑی حد تک کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئے ہیں۔ یہ رتبہ بلند جس کو ملنا تھا مل گیا۔ یہ ایران کی جیت ہے نہ امریکہ کی جیت ہے یہ جیت دراصل پاکستان کی جیت ہے‘ یہ جیت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جیت ہے‘ وہ فاتح انسانیت ہیں‘ جنہوں نے ایران امریکہ جنگ کی آگ کو بجھانے کے لیے دن دیکھا نہ رات بلکہ دن رات ایک کیے رکھا ۔اس کے لیے انہوں نے ایران کے پے درپے دورے کئے اور امریکہ‘ چین‘ سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں رہے ‘ تب جا کر وہ یہ جنگ کی آگ بجھانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے دنیا پر واضح کیا ہے‘ بقول ساحر لدھیانوی:
خون اپنا ہو، یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہے کہ مغرب میں
امن عالم کا خون ہے آخر
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved