قریب ایک ہفتہ قبل ایک یورپی خاتون صحافی نے برسلز سے ایک پوسٹ شیئر کی کہ آج یہاں درجہ حرارت 22 ڈگری تھا‘ گرمی آخرکار یہاں بھی پہنچ گئی ہے۔ میں نے وہ پوسٹ دیکھی اور بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت 40 ڈگری درجہ حرارت ہے۔ وہ کہنے لگی‘ یہ تو بہت زیادہ ہے‘ تم لوگ کیسے گزر بسر کرتے ہو؟ مجھ سے تو 20 اور 22 ڈگری درجہ حرارت بھی نہیں برداشت ہو رہا۔ میں نے کہا‘ ہم صبر اور شکر کے ساتھ گرمی جھیل رہے ہیں۔ مون سون کے خواب سجائے گرمی کے یہ دن کاٹ رہے ہیں۔ مگر اب مون سون بھی شدت سے آتا ہے اور سیلاب کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ نہ تو عالمی برادری کی اس طرف توجہ ہے اور نہ ہی خود پاکستان اس معاملے کو دنیا کے سامنے اٹھا رہا ہے۔ یہ بہت اہم معاملہ ہے اور اس کی سنگینی کا اندازہ ہمیں گزشتہ برس کے سیلاب سے کر لینا چاہیے تھا مگر کوئی بھی اس بارے نہیں سوچ رہا۔ ہماری سیاست یا تو سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے میں مصروف ہے یا پھر آپسی لڑائیوں میں حقیقی مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا۔
موسمیاتی تبدیلیاں جہاں بھی وقوع پذیر ہوں‘ اثر پوری دنیا پر کرتی ہیں۔ جس خطے میں ہم آباد ہیں پہلے یہاں درجہ حرارت اتنا زیادہ نہیں ہوا کرتا تھا لیکن آبادی بڑھنے‘ بے ہنگم تعمیرات اور درختوں کی کٹائی نے یہاں کا موسم بدل دیا ہے۔ ہم درختوں سے محبت نہیں کرتے۔ دکان‘ دفتر اور گھر کے سامنے سے درخت کاٹ دیتے ہیں کہ گھر کی خوبصورتی چھپ رہی ہے۔ سڑک کشادہ کرنی ہے تو درخت کاٹ دیے‘ انڈر پاس یا فلائی اوور بنانے ہیں تو درخت کاٹ دیے۔ نئی سوسائٹی بنانی ہے تو درخت کاٹ دیے۔ ہمارے پاس درختوں کی کٹائی کی بے شمار وجوہات ہیں۔ حکومت اور افسران یہ سوچتے ہی نہیں کہ درخت ماحول کیلئے کتنے ضروری ہیں۔ یہاں دیسی درختوں سے متعلق مختلف مفروضے پھیلا رکھے ہیں۔ کسی درخت پر جن آتے ہیں تو کسی پر آسیب کا سایہ ہے۔ اب بڑے دیسی درخت نظر ہی نہیں آتے۔ اگر اسی طرح ترقی کے نام پر درخت کٹتے رہے تو ایک وقت آئے گا کہ نئی نسل کو پیپل‘ بیری‘ برگد‘ چیڑ‘ دیودار‘ کیکر‘ نیم اور ارجن جیسے درخت صرف کتابوں میں نظر آئیں گے۔
اب شہروں میں دیسی درخت نظر ہی نہیں آتے‘ جن کی چھائوں میں کبھی لوگ بیٹھا کرتے تھے‘ جن پر جھولے لگا کرتے تھے۔ ان کو کاٹ کر اب غیر ملکی درخت لگا دیے گئے ہیں جو ہمارے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اب گرمی کی یہ صورتحال ہے کہ درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور موسم ناقابلِ برداشت ہو رہا ہے۔ ہر کوئی اے سی افورڈ نہیں کر سکتا۔ نصف سے زیادہ آبادی اپنے کام کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ یا موٹر سائیکل استعمال کرتی ہے یا پھر پیدل کام پر جاتی ہے۔ ان میں کوئی اے سی نہیں ہوتا‘ دھوپ اور سخت گرمی میں وہ کام کرتے ہیں۔ ہیٹ سٹروک اور سَن سٹروک سے سب سے زیادہ اموات مزدوروں اور غریب طبقے کی ہوتی ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں۔ متوسط طبقہ بھی خود کو اس گرمی کا عادی بنا رہا ہے۔ لسی‘ ستو‘ سر سے بال صاف کرا لینے یا تربوزکھانے سے یہ گرمی دور نہیں ہو گی۔ یہ وقتی ٹوٹکے ہیں۔ گرمی کو کم کرنے کیلئے ماحول دوست سرگرمیاں اپنانا ہوں گی۔ ہم سارا وقت اے سی میں نہیں رہ سکتے‘ ویسے بھی یہاں لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کا بھی مسئلہ رہتا ہے۔ اب برسلز میں بھی درجہ حرارت 33 ڈگری ہوگیا ہے اور پورا یورپ ہیٹ ویو کی زد میں ہے۔ کتنے ہی صحافی فرانس‘ نیدرلینڈز‘ یوکے اور یورپ کے دیگر حصوں میں اے سی اور فین گھروں میں لگوانے کی وڈیوز اَپ لوڈ کر رہے ہیں۔ فرانس کے بہت سے لوگوں نے فرائی پین کو دھوپ میں رکھ کر بنا آگ جلائے محض دھوپ کی تپش سے انڈا تل کر دکھایا۔ یورپ میں تاریخی مقامات کے فواروں‘ تالاب اور نہروں میں نہانا منع ہے مگر اس وقت بڑی تعداد میں لوگ ان میں نہا رہے ہیں۔ وہاں صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ جانوروں کیلئے بھی ایڈوائزری جاری ہوئی ہے کہ ان کو گرمی اور دھوپ کی شدت سے کیسے بچانا ہے۔ ایک خبر دیکھی کہ روم میں قائم چڑیا گھر میں جانوروں کو برف میں لگا کر پھل دیے جا رہے تھے۔ یورپ والے تو کوئی نہ کوئی حل نکال ہی لیں گے مگر جنوبی ایشیا کا کیا بنے گا؟ یہاں کبھی شدید گرمی‘ خشک سالی آ جاتی ہے تو کبھی بارش‘ طوفان اور سیلاب تباہی مچا رہے ہوتے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ اپنے لیے چھت تک افورڈ نہیں کر سکتا‘ لوگ کچرے میں کھانا تلاش کر رہے ہوتے ہیں اور کھلے آسمان تلے سوتے ہیں۔ ایسے لوگ سب سے پہلے گرمی کی شدت کا شکار ہوتے ہیں۔ مزدور‘ کان کن‘ کسان‘ ریڑھی بان‘ ڈرائیورز‘ گھریلو ملازمین اور گارڈز اس کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ملازمت پیشہ لوگ‘ موٹر سائیکل سوار‘ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے اور پیدل چلنے والے گرمی کی زد میں زیادہ آتے ہیں۔ اشرافیہ کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں‘ ان کے گھروں اور دفاتر میں سارا وقت اے سی چلتا رہتا ہے‘ بجلی جانے کی صورت میں جنریٹر کا انتظام ہوتا ہے‘ اس لیے ان کو گرمی کا احساس نہیں مگر عوام کے پاس یہ سہولتیں نہیں ہیں۔ سب طاقتوروں کے فیصلوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ہر منصوبے‘ ہر سڑک‘ ہر ایونیو‘ ہر انڈرپاس اور ہر سوسائٹی کیلئے درختوں کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام آباد میں بھی درجہ حرارت 40 ڈگری اور کچھ علاقوں میں 45 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ اے سی لگانا‘ سائے میں رہنا‘ اور ٹھنڈے شربت گرمی کا وقتی توڑ ہیں‘ اس کا حل نہیں۔ اس کا واحد حل سبز انقلاب ہے۔ اگر پچیس کروڑ آبادی میں سے ایک کروڑ لوگ ہی ہر سال درخت لگا لیں تو ملک میں سالانہ ایک کروڑ درختوں کا اضافہ ہو جائے گا۔ لوگ منٹوں میں درختوں کو کاٹ دیتے ہیں جبکہ ایک پودے کو مکمل درخت بننے میں کئی سال بلکہ عشرے لگ جاتے ہیں۔ لہٰذا پودے لگائیں اور اپنے لگائے ہوئے پودوں کا خیال بھی رکھیں۔ پاکستان اپنے آموں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے‘ جہاں بھی سخت گرمی اور خشک موسم ہو‘ وہاں آم کا درخت بہت موزوں ہے۔ جامن‘ امرود‘ انجیر‘ کچنار‘ پپیتا‘ لیموں‘ لوکاٹ‘ شہتوت‘ الیچی‘ آڑو‘ فالسہ‘ مالٹا اور زیتون کے درخت بھی آسانی سے لگ جاتے ہیں اور بڑے ہوکر پھل بھی دیتے ہیں۔ شمالی علاقوں میں بے شمار پھلدار درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ گھروں میں کچن گارڈن بنایا جا سکتا ہے‘ جس سے پھل اور سبزیاں مفت حاصل کی جا سکتی ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ تمام شاہراہوں کے اردگرد درخت لگائے جائیں تاکہ سڑکوں پر سایہ ہو اور درجہ حرارت نیچے آئے۔ ہمیں نیم‘ برگد‘ پیپل‘ املتاس‘ چیڑ‘ کیکر‘ بیری‘ شیشم‘ سنبل‘ بکائن‘ پیلو‘ صنوبر اور دیودار کے درخت لگانے چاہئیں۔ اس وقت جتنی شدید گرمی اسلام آباد میں پڑ رہی ہے انتظامیہ کو چاہیے کہ پائن ٹری لگائے۔ یہ موسم کی شدت کو کم کرتے ہیں اور سخت آندھی اور طوفان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ درخت زمین کو کٹائو سے بچاتا ہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورت لگتا ہے۔ اس کے ساتھ یہاں املتاس‘ کچنار‘ امرود‘ گل نشتر‘ کھجور‘ پپیتا‘ دلو اور پاپولر لگایا جا سکتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں پام ٹری‘ ناریل اور کھجور لگانا چاہیے۔ کراچی میں املتاس‘ برنا‘ نیم‘ گلمہور‘ جامن‘ پیپل‘ ناریل اور اشوکا لگایا جائے۔ پشاور میں شیشم‘ ٹاہلی‘ شریں ‘کچنار‘ پیپل‘ پاپلر‘ امرود‘ لوکاٹ اور آڑو‘ راولپنڈی میں برگد‘ پیپل‘ مورنگا‘ پپیتا‘ کچنار‘ املتاس‘ سرواور نیم کے درخت لگائے جاسکتے ہیں۔ لاہور میں نیم‘ شیشم‘ برگد‘ سکھ چین‘ پیپل‘ جامن‘ کیکر اور شہتوت لگائے جا سکتے ہیں۔ امپورٹڈ درختوں کے بجائے دیسی درخت لگائیں۔ اسی طرح تفریحی مقامات مری‘ سوات‘ نتھیا گلی‘ کالام‘ کاغان اور ناران وغیرہ میں درخت کاٹنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ مون سون شجر کاری کا بہترین وقت ہے۔ گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کا واحد حل درخت ہی ہیں۔ درخت لگائیں‘ ان کی حفاظت کریں اور ان کی کٹائی پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ اب اشرافیہ کوبھی سوچنا چاہیے کہ جس یورپ میں جاکر وہ گرمی سے بچ جایا کرتے تھے اب وہاں بھی درجہ حرارت 35 ڈگری سے اوپر چلا گیا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved