تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     30-06-2026

باقی ساری دنیا گئی بھاڑ میں

اقوام متحدہ کے نیویارک میں صدر دفتر صدر کے علاوہ ویانا (آسٹریا)‘ جنیوا (سوئٹزرلینڈ) اور نیروبی (کینیا) میں تین ذیلی دفاتر بھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں اگرچہ بے شمار ادارے اور شعبے موجود ہیں‘ اور ان کے سربراہان بھی ہیں لیکن عالمی سطح پر سیکرٹری جنرل ہی سب سے نمایاں شخص سمجھا جاتا ہے۔ پانچ سال کیلئے منتخب ہونے والا اقوام متحدہ کا یہ انتظامی سربراہ دنیا کے مختلف خطوں سے باری باری منتخب کیا جاتا ہے۔ سیکرٹری جنرل کیلئے مختلف خطوں سے باری باری انتخاب کرنے کی کوئی تحریری‘ قانونی یا لازمی پابندی نہیں تاہم یہ ایک روایت ہے جس پر کئی عشروں سے عمل ہوتا آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی مدت پانچ سال کیلئے ہوتی ہے تاہم تقریباً ہر سیکرٹری جنرل علاوہ بتروس غالی‘ دو مرتبہ منتخب ہوئے۔ ناروے سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کے پہلے سیکرٹری جنرل Trygve Lie نے قریب سات سال تک اس عہدے پر کام کرنے کے بعد استعفیٰ دیا۔ اس کے بعد سویڈن سے تعلق رکھنے والے ڈاگ ہامر شولڈ اس عہدے کیلئے دو بار منتخب ہوئے تاہم وہ اپنی دوسری مدت پوری کرنے سے قبل کانگو امن مشن کے سلسلے میں سفر کے دوران شمالی رہوڈیشیا ( موجودہ زیمبیا) میں ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ ان کے بعد برما سے تعلق رکھنے والے اوتھانٹ دو ٹرم کیلئے اس عہدے پر فائز رہے۔ میں نے بچپن میں جب حرف و لفظ سے آشنائی کے بعد اخبار پڑھنا شروع کیا تب اوتھانٹ کا ذکر اپنے گھر آنے والے اخبار کوہستان میں پڑھا۔ کوہستان اخبار کے ایڈیٹر تاریخی ناولوں کے حوالے سے نہایت ہی مشہور اور مقبول مصنف نسیم حجازی ہوا کرتے تھے۔
سیکرٹری جنرل کے عہدے کیلئے امیدوار کو سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ امریکہ‘ چین‘ روس‘ فرانس اور برطانیہ اس کی نامزدگی کی منظوری دیتے ہیں جس کے بعد جنرل اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا‘ تقریباً ہر سیکرٹری جنرل کو دوسری مدت کیلئے بھی منتخب کیا گیا تاہم مصر سے تعلق رکھنے والے بتروس غالی کی دوسری بار کی امیدواری کو امریکہ نے ویٹو کر دیا تھا جبکہ آسٹریا سے تعلق رکھنے والے کرٹ والڈ ہائم کی تیسری مدت کی امیدواری کو چین نے ویٹو کر دیا۔ ان چند استثنائی مواقع کے علاوہ یہ معاملہ عمومی طور پر باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ چلتا رہا ہے۔ کرٹ والڈ ہائم کی تیسری مدت پر پڑنے والے رولے کے بعد یہ ایک غیرتحریری قسم کی روایت ہے کہ سیکرٹری جنرل دس سال پر مبنی اپنی دو مدتیں گزارنے کے بعد گھر چلا جائے گا۔ اسی تناظر میں یہ طے ہے کہ موجودہ سیکرٹری جنرل‘ پرتگال کے سابق وزیراعظم اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سابق سربراہ انتونیو گوتریس اپنی دوسری پانچ سالہ ٹرم مکمل کرنے کے بعد رواں سال دسمبر میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ روایتی طور پر اب یہ عہدہ جنوبی امریکہ کے خطے سے کسی امیدوار کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے نئے سربراہ کے انتخاب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس دفعہ باری لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے کی ہے۔ اس لیے اس دفعہ سامنے آنے والے چھ امیدواروں میں سے پانچ کا تعلق لاطینی امریکہ سے اور روایت کے برخلاف ایک امیدوار افریقہ سے بھی سامنے آئے ہیں جو سنیگال کے سابق صدر میکی سال ہیں۔ باقی امیدواروں میں چلی کی سابق صدر مشیل بیشلے‘ ایکواڈور کی سفارتکار ماریہ فرنینڈا اسپینوزا‘ ارجنٹائن کے سفارتکار اور آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی‘ کوسٹا ریکا کی سابقہ نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کی موجودہ سیکرٹری جنرل ربیکا گرینسپین‘ اور گیانا کی سابقہ وزیر خارجہ کیرولین روڈرگز برکٹ شامل ہیں۔ رافیل گروسی بظاہر اس دوڑ میں دیگر امیدواروں سے نسبتاً آگے سمجھے جا رہے ہیں لیکن یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ اس دفعہ کسی خاتون کو اقوام متحدہ کا سربراہ ہونا چاہیے۔
اس بار اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے چھ امیداروں میں سے چار امیدوار خواتین ہیں۔ چاروں خواتین امیدوار خاص طور پر ربیکا گرینسپین اور میشل بیشلے یو این سسٹم میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ اگرچہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کیلئے مرد یا عورت ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے لیکن آج تک اس منصب پر کوئی خاتون منتخب نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے بہت سے چھوٹے ممالک یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس بار یہ منصب کسی خاتون کو ملنا چاہیے۔دوسری جانب بعض حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس جیسی مغربی طاقتیں رافیل گروسی کی حمایت کر سکتی ہیں۔ ان کی مغرب نواز پالیسیوں اور خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ان کے مؤقف کی وجہ سے وہ مغربی ممالک اور ایران مخالف حلقوں میں خاصے مقبول سمجھے جاتے ہیں۔ حالیہ ایران امریکہ تنازع کے اختتام پر جنگ بندی شروع ہوتے ہی رافیل گروسی نے مطالبہ داغ دیا کہ ایران اپنی ایٹمی جوہری تنصیبات بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنے کیلئے کھول دے۔ ایران نے 2021ء سے 2023ء کے دوران آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے داخلے پر بتدریج پابندیاں لگائی تھیں۔ جون 2025ء میں اسرائیل نے ایران کی عسکری لیڈر شپ اور ایٹمی سائنسدانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی‘ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف محمد باقری اور مرکزی کمان کے سربراہ غلام علی راشد کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام کے اہم ستون فریدون عباسی اور محمد مہدی تہرانچی شہید ہوئے تھے۔ ایران کے مؤقف کے مطابق جون 2025ء میں اس کے جوہری پروگرام سے وابستہ کئی نامور سائنسدانوں کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بناتے ہوئے ان کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی اور ان کارروائیوں میں ان معلومات کا اہم کردار ہے جو اس کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے والے IAEA کے انسپکٹروں کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔ گو کہ آئی اے ای اے کے حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں تاہم ایرانی مؤقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب آئی اے ای اے کا سربراہ جو مغرب اور اسرائیل نواز ممالک کی آنکھ کا تارا ہے‘ اقوام متحدہ کے آئندہ کے جنرل سیکرٹری کا امیدوار ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب جبکہ اقوام متحدہ ایک ایسا ہومیوپیتھک ادارہ بن چکا ہے جو بیک وقت ستو اور دھنیا پی کر سو رہا ہے تو پھر اس کے جنرل سیکرٹری کی کیا حیثیت رہتی ہے جس پر فکر مند ہوا جائے ؟ انتونیوگوتریس بھی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی‘ قتل عام‘ محاصرے اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے خلاف اپنی پیشہ ورانہ مجبوریوں کے باوجود جس حد تک بول سکتا تھا بولتا رہا ہے تو اس سے کیا فرق پڑا ہے ؟ نہ تو وہ غزہ میں ہونے والی تاریخ کے بدترین نسل کشی کو روک سکا اور نہ لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے آگے ہی بند باندھ سکا۔ یہ کرسی اب عملی طور پر بیکار ہو چکی ہے۔ بس اقوام متحدہ کا نام باقی ہے اور اس سے وابستہ ہماری احمقانہ امیدیں ہیں۔ پھر چاہے اس کا سربراہ رافیل گروسی ہو یا سنیگال کا سابق صدر میکی سال ہو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ایک دوست کہنے لگا: یہ آپ کی شدید غلط فہمی ہے۔ جب اقوام متحدہ مغرب اور خاص طور پر امریکی خواہشات کی تکمیل اور اس کے احکامات کی بجا آوری کے مطابق حکم صادر کرے گا تو اس کو اس عالمی ادارے کی تقدیس کی چادر پہنا کر فی الفور لاگو کر دیا جائے گا۔ افغانستان‘ ایران اور دیگر ممالک پر اسی کو بہانہ بنا کر چڑھائی کی گئی تھی۔ مغرب کے کوئی اصول نہیں‘ ان کو جو چیز وارے کھاتی ہے وہی درست ہے اور جو پسند نہیں آتی وہ سراسر غلط ہے۔ ان کے نزدیک غلط اور صحیح کا فیصلہ کرنے کا کلی اختیار صرف انہی کے پاس ہے۔ باقی ساری دنیا گئی بھاڑ میں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved