تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     01-07-2026

تعلیم پر اخراجات: زوال کا سفر جاری ہے

اکنامک سروے 2025-26ء میں تعلیم کے حوالے سے اعداد وشمار کو سرسری نظر سے دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک کا تعلیمی شعبہ غیر معمولی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور تقریباً ہر میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ لیکن جیسے ہی اعداد و شمار کی تہہ میں اتریں تو بالکل مختلف صورتِ حال دکھائی دیتی ہے اور خوش نما اعداد و شمار کے پس منظر میں کئی ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو حکومتی دعوئوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اصل تصویر کو اعداد و شمار کی دبیز تہہ میں چھپا دیا گیا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اعدادو شمار کی اس دھند کو ہٹا کر پاکستان میں شعبہ تعلیم کی حقیقی صورتِ حال کو سمجھا جائے۔
کسی بھی ملک میں تعلیم کی اہمیت کا سب سے بڑا پیمانہ اس شعبے پر ہونے والا سرکاری خرچ ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں ہماری حکومت تعلیم کے شعبے پر کتنا خرچ کر رہی ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق جولائی 24ء تا مارچ 25ء کے دوران تعلیم پر 962.029 ارب روپے خرچ کیے گئے تھے جبکہ 2025-26ء کے اسی عرصے میں یہ رقم گھٹ کر 356.499 ارب روپے رہ گئی۔ یعنی ایک ہی سال میں تعلیم پر اخراجات میں 605.530 ارب روپے سے زیادہ (تقریباً 62 فیصد سے زائد) کمی واقع ہوئی۔ یہ محض ایک عددی فرق نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ کمی کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری ایک مسلسل رجحان کا حصہ ہے۔ اگر مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تناسب سے تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم کو دیکھا جائے تو صورتحال مزید مایوس کن نظر آتی ہے۔ 2018-19ء میں تعلیم پر اخراجات جی ڈی پی کا تقریباً دو فیصد تھے اور پھر یہ شرح سال بہ سال گرتے ہوئے 2024-25ء میں محض 0.8 فیصد تک محدود ہو گئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حالیہ اکنامک سروے نے 2025-26ء کیلئے یہ تناسب فراہم ہی نہیں کیا۔ تاہم دستیاب اعداد وشمار کی بنیاد پر حساب لگایا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ تعلیم پر اخراجات جی ڈی پی کے تناسب سے مزید کم ہو کر شاید ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ کئی دہائیوں سے حکومتیں تعلیم پر جی ڈی پی کا کم ازکم چار فیصد خرچ کرنے کے وعدے کرتی آ رہی ہیں۔ یہ وہ کم از کم حد ہے جس کی سفارش بین الاقوامی ادارے کرتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر ہر حکومت نے ان وعدوں کو محض تقریروں اور پالیسی دستاویزات تک محدود رکھا ہے۔
تعلیم پر کم سرمایہ کاری کے اثرات ملک کے تعلیمی اشاریوں میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سکول سے باہر بچوں کے مسئلے کو ہی دیکھ لیجیے۔ اکنامک سروے میں دعویٰ کیا گیا کہ سکول سے باہر بچوں کی شرح 38فیصد سے کم ہو کر 28فیصد رہ گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند خبر ہے لیکن حیرت انگیز طور پر سروے میں ان بچوں کی اصل تعداد نہیں دی گئی۔ جب تک مطلق تعداد سامنے نہ آئے‘ فیصد کے ذریعے مکمل حقیقت کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا‘ خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہو۔ ابتدائی یعنی پری پرائمری سطح کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ 2022-23ء میں اس سطح پر داخل بچوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ تھی۔ اگلے سال یہ کم ہو کر ایک کروڑ چھ لاکھ ہو گئی۔ اندازہ ہے کہ 2024-25ء میں یہ مزید کم ہو کر تقریباً ایک کروڑ چار لاکھ رہ گئی ہے۔ گویا صرف دو برسوں میں پاکستان ابتدائی تعلیم میں دس لاکھ سے زیادہ بچے کھو چکا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اس کے اثرات آنے والے کئی عشروں تک محسوس کیے جائیں گے۔
سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک کی شرح خواندگی 60.6 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے۔ یقینا شرح خواندگی میں اضافہ خوش آئند ہونا چاہیے لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ واقعی تعلیمی بہتری کا اظہار ہے یا اعداد وشمار جمع کرنے کے طریقہ کار یا آبادی کے تخمینوں میں تبدیلی کا نتیجہ؟ شرح خواندگی جیسے اشاریے عام طور پر آہستہ آہستہ تبدیل ہوتے ہیں‘ خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور ڈراپ آئوٹ کی شرح بلند ہو۔ حیرت انگیز طور پر اکنامک سروے اس اضافے کی کوئی وضاحت فراہم نہیں کرتا۔ داخلوں کے اعداد وشمار بھی کئی سوالات پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ سروے کے مطابق مڈل‘ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطح پر داخلوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن جب نیٹ انرولمنٹ ریٹ (NER) دیکھا جائے تو بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ پرائمری سطح پر NER 54 فیصد‘ مڈل میں 23 فیصد اور میٹرک میں محض 16 فیصد ہے۔ گزشتہ سال یہی شرحیں بالترتیب 64‘ 37 اور 27 فیصد تھیں۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ بڑی تعداد میں بچے یا تو مناسب عمر میں سکول میں داخل نہیں ہوتے یا مختلف جماعتوں میں رک جاتے ہیں‘ یا پھر تعلیم مکمل کیے بغیر نظام سے باہر ہو جاتے ہیں۔ صرف داخلوں میں اضافہ تعلیمی کامیابی نہیں کہلا سکتا جب تک کہ بچے سکول میں متعین مدت پوری نہ کریں۔
ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی تفاوت بھی نہایت واضح ہے۔ پنجاب میں شرح خواندگی 68فیصد ہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا‘ دونوں 58فیصد پر ہیں۔ بلوچستان سب سے نیچے ہے جہاں شرح خواندگی محض 49فیصد ہے۔ یہ تفاوت صرف اعداد وشمار کا فرق نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان میں تعلیم تک رسائی آج بھی جغرافیے کی مرہونِ منت ہے۔ ایسے حالات میں نہ سماجی انصاف ممکن ہے اور نہ ہی قومی یکجہتی۔ صنفی تفاوت بھی برقرار ہے۔ مردوں میں شرح خواندگی 73فیصد جبکہ خواتین میں محض 54فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں خواتین کی شرح خواندگی مزید کم ہو کر 44فیصد رہ جاتی ہے۔ یہ اعداد وشمار اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عشروں پر محیط پالیسی اعلانات اور منصوبوں کے باوجود تعلیمی صنفی مساوات اب بھی ایک ادھورا خواب ہے۔
سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی صورتحال بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ ملک کے 35فیصد سکول بجلی‘ 24فیصد پینے کے صاف پانی‘ 23فیصد بیت الخلا اور 25فیصد چار دیواری جیسی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں۔ بلوچستان کی صورتحال تو مزید تشویشناک ہے جہاں سرکاری سکولوں میں بیت الخلا کی دستیابی صرف 0.3فیصد بتائی گئی ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی اگر بچوں کو بجلی‘ پانی‘ بیت الخلا اور محفوظ عمارت جیسی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جا سکیں تو اس سے ریاستی ترجیحات کا پتا چلتا ہے۔ پاکستان کی مجموعی تعلیمی صورت حال کا اندازہ انسانی ترقی کے اشاریے (HDI) سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان میں متوقع تعلیمی مدت صرف 7.9 سال ہے‘ جو جنوبی ایشیائی خطے میں سب سے کم ہے جبکہ اوسط تعلیمی مدت محض 4.3 سال ہے۔ یہ اعداد وشمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہمارا تعلیمی بحران صرف وسائل کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ پالیسی کے عدم تسلسل‘ کمزور عملدرآمد اور سیاسی ترجیحات کا بھی نتیجہ ہے۔
اکنامک سروے 2025-26ء کئی سوالات کھڑے کرتا ہے لیکن ان سوالوں کے تسلی بخش جوابات فراہم نہیں کرتا۔ اگر ہم واقعی ایک باصلاحیت‘ باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں نمائشی کامیابیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے ان بنیادی سوالات کا سامنا کرنا ہوگا کہ آخر کیوں پاکستان آج بھی تعلیم کے بنیادی اشاریوں میں اپنے ہمسایہ ممالک سے پیچھے ہے؟ جب تک تعلیم کو قومی ترجیح نہیں بنایا جاتا اور اس پر سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی‘ ترقی کے تمام خوش نما دعوے محض صحرا میں چمکتے سراب ثابت ہوں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved