تحریر : جاوید حفیظ تاریخ اشاعت     01-07-2026

جنگ اور امن میں معلق مشرقِ و سطیٰ

ابھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جھڑپیں پھر سے شروع ہو گئیں۔ امریکہ اور ایران کی مخاصمت اتنی گہری ہو چکی ہے کہ یہ دوچار ماہ کی مصالحتی کوششوں سے کسی قدر ہی کم ہوئی ہے مگر وہ کوششیں جو پاکستان نے کیں وہ قابلِ تحسین ہیں ‘ جنگ ختم ہو یا نہ ہو۔تکنیکی مذاکرات کی ایک باضابطہ نشست کے بعد خطے میں حالات معمول کی جانب جانا شروع ہوئے تھے کہ امریکہ نے ہرمز کے قریب ایران کے ریڈار سٹیشن پر حملہ کر دیا اور قشم کے جزیرہ پر بھی بمباری کی۔ جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ مشرقِ وسطیٰ میں باہمی دشمنیاں بیرونی مداخلت کا سبب بنتی رہی ہیں۔ مغرب کا لگایا ہوا اسرائیلی پودا اب تنا ور درخت بن چکا ہے۔ اسرائیل کی آمد کے بعد خطے میں آنے والا تنائو آج تک موجود ہے۔ فلسطینیوں پر اندھے جرائم کا مرتکب اسرائیل اب مزید توسیع کے خواب دیکھ رہا ہے لہٰذا میرا تجزیہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا خطہ جنگ اور امن کے درمیان ایک عرصے تک معلق رہے گا۔
ذکر اس بات کا ہو رہا تھا کہ خطے کے ممالک کے مابین مخاصمت بیرونی مداخلت کا سبب بنتی رہی ہے۔ ان میں ایک تو عرب اسرائیل دشمنی ہے جو 1948ء سے چلی آ رہی ہے۔ میں1970ء کی دہائی میں دمشق میں تھا تو حافظ الاسد اور صدام حسین میں چپقلش رہتی تھی۔1990ء میں صدام نے کویت پر چڑھائی کی تو شامی حکومت کویت کے حامی ممالک کے ساتھ کھڑی تھی۔ بڑی تعداد میں امریکی فوجی سعودی عرب آئے اور کویت کو عراقی قبضے سے نجات دلائی۔ اس کے بعد خلیجی ممالک میں امریکہ کے عسکری اڈے قائم ہو گئے۔ عرب عجم مخاصمت کی جڑیں بھی خاصی پرانی ہیں‘ تاہم ایران میں انقلاب سے پہلے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات شاندار تھے۔ معاملات میں خرابی تب آئی جب ایران کی نئی حکومت نے انقلاب کی منتقلی کو اپنا نصب العین بنایا۔ خلیجی ممالک میں چونکہ موروثی حکومتیں ہیں لہٰذا انہیں نئے ایران سے خطرہ محسوس ہوا۔ ایران عراق جنگ شروع ہوئی تو خلیجی ممالک دل و جان اور مال و متاع کے ساتھ صدام حسین کے ساتھ کھڑے تھے۔ پھر اُسی صدام حسین نے ایک پُرامن خلیجی ملک پر چڑھائی کردی۔ صدام حسین کا خطرہ کم ہوا تو خلیجی ممالک کو باور کرایا گیا کہ اب آپ کو ایران سے خطرہ ہے۔ یمن میں جنگ شروع ہوئی تو خلیجی ممالک صنعا کی حکومت کے ساتھ تھے جبکہ ایران حوثیوں کی مدد کر رہا تھا۔ خلیجی ممالک کیلئے ایرانی خطرہ اب حقیقت کا روپ دھار چکا تھا۔ مغربی ممالک نے اس صورتحال کا خوب فائدہ اٹھایا اور آج بھی خلیجی ریاستیں مغربی ممالک کے ہتھیاروں کی اہم خریدار ہیں۔ اہلِ مغرب خوب جانتے ہیں کہ ایران کا ہوّا دکھا کر خلیجی ممالک کو ہتھیار بیچے جا سکتے ہیں۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ مغربی ممالک ایران کو ضرورت سے زیادہ کمزور کبھی نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ کی ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی باتیں خاصی کھوکھلی ہیں‘اور صرف وقتی افادیت رکھتی ہیں۔
اب آتے ہیں موجودہ صورتحال کی جانب۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگ کے بعد کا ایران بھاری نقصانات کے باوجود زیادہ پُراعتماد نظر آتا ہے۔ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قوم کو پھر سے متحد کر دیا ہے۔ جون 2025ء کے حملوں کے بعد ایران نے بہت جلدی اور اعلیٰ ذہانت کے ساتھ حکمت عملی کو تبدیل کیا اور اس کے ثمرات اسے ملے ہیں۔ سب سے مؤثر کارڈ جو ایران نے اس جنگ میں دریافت کیا وہ آبنائے ہرمز کا ہے‘ بقول وزیر خارجہ عباس عراقچی یہ تلوار اب ایران کے ہاتھ میں رہے گی۔ اس جنگ نے ایران کو نئی اور زیادہ پُرعزم قیادت دی ہے۔ اب امریکہ یا اسرائیل اگر یہ دعویٰ کریں کہ ہم نے حکومت بدل دی تو یہ ان کی خام خیالی ہو گی۔ نئی حکومت میں ایرانی نیشنلزم بھرپور انداز میں نظر آتا ہے۔ جون 2025ء کے بارہ روزہ تابڑ توڑ حملوں کے بعد ایرانی قیادت نے فیصلہ کیا کہ پاور کی مرکزیت کو کم کرکے علاقائی کمانڈروں کو زیادہ بااختیار بنایا جائے۔ ایران لمبی گوریلا جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ حکمت عملی یہ تھی کہ کسی ایک حصے پر امریکی برّی فوج قبضہ کر بھی لے تو باقی صوبوں کے کمانڈر پوری قوت سے مقابلہ جاری رکھیں۔ایران یہ بھی جانتا تھا کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد اب امریکہ میں لمبی زمینی جنگ لڑنے کا دم خم نہیں اور یہ بات بھی عیاں تھی کہ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کی مخالفت پائی جاتی ہے۔ ایران صلح کے موڈ میں بھی ہے اور لمبی جنگ کیلئے بھی تیار ہے۔
میرا تجزیہ ہے کہ یہ خطہ کافی عرصے تک جنگ اور امن کے درمیان معلق رہے گا۔ اس کی بڑی وجہ خطے کا سب سے بڑا تخریب کار اسرائیل ہے۔ فلسطین کا مسئلہ جوں کا توں ہے بلکہ غزہ میں قتلِ عام کے بعد اور گمبھیر ہو گیا ہے۔ مغربی کنارے اور القدس میں اسرائیلی مظالم عروج پر ہیں۔ چند سال پہلے تک بعض عرب ممالک کا خیال تھا کہ فلسطین کا مسئلہ قصۂ پارینہ ہو چکا لہٰذا اسرائیل سے صلح کر لینی چاہیے۔ اسرائیل سے تجارت ہو گی‘ سرمایہ کاری آئے گی‘ سیاح آئیں گے لیکن اکتوبر 2023ء میں مسئلہ فلسطین پھر سے پوری قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے آ گیا۔ اب عرب ممالک اس سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے کیونکہ عرب عوام میں اب بہت غم و غصہ ہے۔حال ہی میں اسرائیلی اور لبنانی حکومتوں کے مابین جنوبی لبنان کے حوالے سے جو معاہدہ ہوا اس کے خلاف اسرائیل اور لبنان دونوں جگہ آوازیں اٹھی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو خود بھی خاصے انتہا پسند ہیں۔ فلسطینی خون بہانا ان کا مشغلہ ہے‘ توسیع پسندی کے عزائم اور صہیونی بالادستی کے خواب بھی اپنی جگہ قائم ہیں لیکن ان کی کابینہ میں اتمار بن گویر جیسے شدت پسند بھی موجود ہیں جو صلح اور امن کے نام سے ہی نفرت کرتے ہیں۔ اسرائیل میں الیکشن بھی قریب ہیں اور وہاں عرب مخالف نعرے ووٹروں کیلئے پُرکشش ہیں‘ بالکل ایسے ہی جیسے انڈیا میں پاکستان مخالف نعرے بی جے پی کے ووٹ بینک میں اضافہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ واشنگٹن معاہدے کی سخت مخالف ہے۔ حزب اللہ کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی ایران کی آنکھوں کا تارا ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ لبنان حکومت نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے اور حزب اللہ لبنانی حکومت میں بھی شامل ہے۔ یہ خطہ دلچسپ تضادات کا حامل ہے۔ مستقبل قریب یعنی اگلے دو چار سال تک نہ حزب اللہ غیر مسلح ہو گی اور نہ اسرائیل جنوبی لبنان سے نکلے گا۔
مارچ میں پاکستانی حکومت نے امریکہ اور ایران کے مابین صلح کا بیڑہ اٹھایا۔ یہ بڑی بات تھی کہ پاکستان دونوں متحارب ملکوں کیلئے قابلِ قبول تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے پاس وہ سیاسی اور اقتصادی قوت اور اثر رسوخ کم تھا جو صلح کنندہ کے پاس ہونا چاہیے البتہ عسکری قوت اور خلوصِ نیت ہمارے پاس وافر تھے لیکن سیاسی قوت کی کمی کو ہم نے کسی حد تک چین اور قطر کی مدد سے پورا کیا۔ اپریل کے آغاز سے اب تک عربی چینلز پر میرے درجنوں انٹرویو ہو چکے ہیں۔ عرب اینکرز کی باتوں سے لگتا تھا کہ عرب دنیا پاکستان کی شکرگزارضرور ہے لیکن پاکستان کے مشکل امن مشن کی کامیابی کے بارے سوالات بھی اٹھتے رہے۔ میرا یہی جواب ہوتا کہ ہمیں اس پُرخار راستے کا بخوبی علم ہے‘ ہم نیک عزم کے ساتھ اس مشن پر نکلے ہیں‘ امن کا فائدہ پاکستان کو تو ہوگا ہی لیکن ہمارے علاوہ پوری دنیا کو بھی ہوگا اور اس اچھے اقدام سے پورے عالم میں ہماری قدرو منزلت میں اضافہ ہوا ہے۔
ایران اور خلیجی ممالک میں باہمی اعتماد سازی بھی بہت بڑا چیلنج ہے‘ جو شاید پاکستان اکیلا پورا نہ کر سکے اس کیلئے ہمیں ترکیہ اور مصر کی مدد درکار ہو گی۔ پاکستان اور علاقائی مسلم ممالک کا اقتصادی اور عسکری تعاون ہی اسرائیل کی توسیع پسندی کو روک سکتا اور دیر پا امن کا ضامن ہو سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved