تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     02-07-2026

نئی بات

وہی پرانے لفظوں کی جگالی اور پامال راستوں کا سفر۔ نئی بات کہاں ہے؟
ہمارے اطوار نہیں بدلے۔ تحقیق کے نام پر برسوں پہلے لکھی گئی کتابوں کی نئی خواندگی اور عوامی جذبات کے استحصال کے وہی آزمودہ نسخے۔ لیڈر مذہبی ہو یا سیاسی‘ تاریخ نگار بھی ہے اور داستان گو بھی۔ ماضی و حال کے 'واقعات‘ اس کے نہاں خانۂ دل میں ڈھلتے‘ مقامی کلچر کی پوشاک پہنتے‘ سامعین کے کانوں میں اترتے اور آنکھوں کے راستے بہہ جاتے ہیں۔ سامع کی یادداشت میں مگر مستقل جگہ نہیں پا سکتے۔ اس کے دل کی کھیتی اسی طرح ویران رہتی ہے۔ عصبیتیں البتہ زندہ رہتی ہیں۔ فلسفیانہ مباحث بھی اس دائرے سے نہیں نکل سکے جو قبل از مسیح کے اہلِ علم نے کھینچا تھا۔ خدا ہے تو دکھائی کیوں نہیں دیتا؟ جبر و قدر کیا ہے؟ اخلاق کہاں جنم لیتا ہے؟ دل میں یا سماج میں؟ پرانے سوال پرانے جواب۔ کہیں کچھ نیا نہیں۔
سیاست میں نئی بات ہو سکتی تھی مگر وہ ٹھیرے پانی کا جوہڑ ہے۔ جمہوریت‘ پارلیمان‘ عوام‘ آزادیٔ رائے... اہلِ سیاست ان الفاظ کا استعمال ترک کر چکے۔ سیاسی جماعتوں کا کو ئی نظریہ ہے نہ حکمتِ عملی۔ کوئی تنظیم ہے نہ کوئی قیادت۔ دستور نہ منشور۔ کہیں اقتدار کے ایوانوں کا طواف اہلِ سیاست کا وظیفہ ہے اور کہیں کلٹ کی پرستش۔ مذاکرات‘ مکالمہ‘سیاسی آدرش... سیاست کی لغت ان الفاظ سے خالی ہے۔ عوام کیلئے سیاست ایک بے معنی عمل بن چکا۔ خواص کیلئے البتہ ابھی تک باعثِ کشش ہے۔ سماج مگر خواص کا نام نہیں۔ ایوانِ سیاست کی یہ ویرانی اطلاع دے رہی ہے کہ اس چار دیواری کا اصل مکین انتقال کر چکا۔ یہ مرگ بھی مگر ایسی ہے کہ اہلِ خانہ کو اس کا احساس نہیں۔ موت ہے مگر کوئی نوحہ ہے نہ ماتم۔ نتیجہ یہ ہے کہ سیاست پر بات ہی نہیں ہو رہی ہے‘ نئی بات کا تو سوال ہی نہیں۔
یہ حیوانی سطح کے چند مطالبات ہیں جن کی تکمیل کیلئے ہم صبح سے رات اور شب سے سحر کرتے ہیں۔ یا پھر زیادہ سے زیادہ قبائلی معاشرت کی کچھ اقدار ہیں جو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ انا‘ غیرت‘ عزت جیسے کچھ الفاظ ہیں‘ ہم جن کی اُسی تعبیر کو مانتے ہیں جو قبائلی معاشرے میں رائج تھی۔ غیرت کے نام پر بیٹیوں کو قتل کرتے ہیں۔ عزت کی خاطر دوسروں کا خو ن بہاتے ہیں۔ مذہبی عصبیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اقدار کے نام پہ یہی کچھ باقی ہے۔ نئی نسل جبلی مطالبات کی اسیر ہے اور اس میں کوئی نئی بات نہیں‘ سوائے اس کے کہ اس کے ہاتھ میں ایک نئی ایجاد ہے۔
کل ہی کی بات ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی علمی وادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ایک تقریب منعقد ہوئی۔ ملک صاحب کے علمی کام کی وسعت کا اندازہ ان لوگوں کو ہے جن کو علم وادب سے علاقہ ہے۔ ادب کو زندگی اور نظریے سے جوڑنے کیلئے انہوں نے ایک عمر صرف کر دی۔ نوے برس کی عمر میں بھی ان کا قلم اور ذہن‘ دونوں رواں ہیں۔ آج وہ واحد آد می ہیں جو اقبال کو بت بنانے کے بجائے‘ روحِ عصر بنانا چاہتے ہیں اور اس کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ زندہ معاشروں میں ایسی شخصیات جس تکریم کی مستحق ہوتی ہیں ہم اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ اس تقریب میں مگر گنتی کے بیس بائیس افراد بیٹھے تھے۔ ان میں بھی دس بارہ ہوں گے جو فتح محمد ملک صاحب کی قدر ومنزلت سے واقف ہوں گے۔ یہ ستر برس کی علمی و فکری مشقت کا حاصل ہے۔ فکرِ تازہ کا یہاں اسی طرح استقبال ہوتا ہے۔
کیا ہم میں نئی بات کہنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ یہ قانونِ قدرت کے خلاف ہے۔ اگر کوئی نئی بات کہنا چاہتا ہے تو اسے ریاستی اور سماجی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے سامنے اب دو ہی راستے ہیں۔ مفاہمت کے ساتھ یہاں جیے اور ایسا موقع تلاش کرے جب وہ کچھ کہہ سکے۔ کبھی پانچ فیصد‘ کبھی دس فیصد۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ ملک سے باہر چلا جائے۔ میں ان کرداروں کی بات نہیں کر رہا جو باہر جا کر بھی فروغِ کذب کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ جو فساد پھیلاتے اور عوامی جذبات کے استحصال سے اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ میں ان کی بات کر رہا ہوں جو مذہب ہو یا سیاست‘ فکر ونظر کی دنیا میں نئی باتیں کہتے اور سماج کے جمود کو چیلنج کرتے ہیں۔
جب ریاست اور سماج نئی بات کی مزاحمت کریں تو پھر متحرک ذہن پرانی باتوں میں نیا پن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر وہ پرانی باتوں کو اس طرح دہرا تے ہیں کہ مخاطب کو تازگی کو احساس ہو۔ وہ محسوس کرے کہ 'نئی بات‘ کہی جا رہی ہے۔ اس سے داخلی اضطراب میں ایک حد تک کمی آ جاتی ہے مگر سماج کو زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔ نئی کتاب چھپتی ہے تو اس امید کے ساتھ اٹھا لیتے ہیں کہ شاید اس میں نئی بات ہو۔ یہ کوشش پوری طرح لاحاصل نہیں۔ اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوتا ہے۔ ہماری ضرورت مگر اس سے زیادہ ہے۔ اس بات کی تفہیم کیلئے کسی معروف امریکی یا برطانوی پبلشر کی 'نئی مطبوعات‘ کی فہرست دیکھ لیں۔ ان ممالک میں 'بک ریویو‘ شائع ہوتے ہیں جن میں نئی کتابوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ کتابوں کے عنوانات ہی اتنے پُرکشش ہوتے ہیں کہ ذہن فوراً سوچنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اس کا موازنہ مقامی اخبار کے سنڈے میگزین میں چھپنے والے تبصروں سے کیجیے۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔
انسان فطری طور پر ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ اس کی حیات سوچنے ہی سے ہے۔ سوچ کا دروازہ بند ہو جائے تو بقا کی جبلت راستہ تلاش کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارتی ہے۔ جیسے پانی کی فطرت بہنا ہے۔ اس کا راستہ روکیں گے تو وہ متبادل راستے تلاش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ پتھروں میں سوراخ کر دیتا ہے۔ یا پھر اسے جوہڑ میں بدل کر‘ اپنے دامن میں امراض کو جمع کر نے لگتا ہے۔ اس طرح وہ انسان کو فطرت سے متصادم ہونے کی سزا دیتا ہے۔ انسانی ذہن بھی یہی کرتا ہے جب اسے نئی بات کہنے کا موقع نہیں ملتا تو پرانی باتوں میں ایسی معنویت تلاش کرنے لگتا ہے جو سماج کو بیمار بنا دیتی ہے۔
ہمیں ان نفسیاتی بیماریوں سے بچنا ہے تو نئی بات کیلئے گنجائش پیدا کرنا ہو گی۔ ہر نئی بات‘ ضروری نہیں کہ درست بھی ہو مگر وہ بحث کا دروازہ کھولتی ہے۔ وہ سوچ کو مہمیز دیتی ہے۔ اس کی تردید میں بھی کوئی نئی دلیل دینا پڑتی ہے۔ اس طرح معاشرہ آگے بڑھتا ہے۔ اگر بحث میں آداب کا خیال رکھا جائے تو اتفاق اور عدم اتفاق سے قطع نظر‘ نئی بات میں خیر ہوتا ہے۔ نئی بات کا ایک اضافی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ الفاظ کی جگالی اور تکرار سے گریز کرتے ہیں۔ بحث متقاضی ہوتی ہے کہ نئی بات کہی جائے۔ متقدمین نے جو فرما دیا‘ اسی کو دہراتے رہنا پھر کافی نہیں ہوتا۔ آپ کسی قدیم مقدمے پر قائم رہ سکتے ہیں مگر بحث کا حصہ اسی وقت بن سکیں گے جب نئی دلیل لائیں گے۔ روایت اسی طرح زندہ رہتی اور اپنی افادیت ثابت کرتی ہے۔ پھر محض دھونس اور طاقت سے اپنی بات نہیں منوائی جا سکتی۔ مقدمہ قدیم ہو یا جدید‘ اس کی زندگی کا انحصار دلیل پر ہوتا ہے۔ نئی بات کا روایت ا ور جدت‘ دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ سماج میں ایک متوازن سوچ اور سوچ میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے تو نئی بات کا خوف ختم کرنا ہو گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved