تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     02-07-2026

ہمارے بچے محفوظ کیوں نہیں ہیں؟

لاہور میں ایک ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر آپ نے پڑھی۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں‘ خبروں سے آپ کو ان کا بھی مسلسل پتا چل رہا ہو گا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے شہر بھر میں قائم ٹیوشن سنٹروں‘ اکیڈمیوں اور تعلیمی عمارتوں کا ہنگامی سروے کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ بغیر اجازت گھروں میں ٹیوشن پڑھانے پر جرمانے ہوں گے۔
دوسری خبر یہ ہے کہ لاہور کے علاقے برکی میںایک مدرسے میں استاد کے وحشیانہ تشدد سے 12 سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بچے کو وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ بچے پر تشدد آٹھ روز پہلے کیا گیا تھا۔ بچہ ہسپتال میں آٹھ روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گیا‘ جس کے بعد یہ واقعہ میڈیا پر سامنے آیا اور پولیس نے مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کی۔ یہ طے ہے کہ اگر یہ واقعہ میڈیا پر نہ آتا تو بہت سی دوسری اموات کی طرح ننھے بچے کی موت بھی ایک گمنام موت بن جانی تھی۔
اسی طرح سرگودھا کی کم سن منتہٰی کا قتل بھی ایک گمنام قتل بن جانا تھا اگر اس کے ساتھ پیش آنے والا سانحہ میڈیا کی نظروں میں نہ آ جاتا۔ یہ سانحہ اس حقیقت کے باوجود رونما ہوا کہ ملک میں زینب الرٹ‘ رسپانس اینڈ ریکوری جیسا قانون نافذ ہے جس کا مقصد بچوں کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے خصوصی قوانین کا نفاذ کرنا اور اغوا یا گم شدہ بچوں کو بازیاب کرانا ہے۔ اس قانون کے دیگر مقاصد میں بچوں کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے نئے اداروں کے کام اور پہلے سے رائج طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرنا بھی شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکا؟
اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو واقعات میڈیا کی نظروں میں نہیں آتے‘ وہ بھی خاصی بڑی تعداد میں ہوں گے۔ میرے سامنے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی 12 جنوری 2018ء کی ایک پریس ریلیز ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں روزانہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 11 واقعات پیش آتے ہیں اور زیادہ تر متاثرین کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان افسوسناک اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ برائی ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اِس صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری‘ سخت اور پائیدار اقدامات کریں۔ پریس ریلیز کے مطابق 2016ء میں جنسی زیادتی کے 4139 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 43 فیصد واقعات میں ملوث مجرم متاثرہ بچے یا بچی کے واقف کار تھے جبکہ 16 فیصد کیسز میں زیادتی کرنے والے خاندان کے لوگ تھے۔ اس پریس ریلیز کو اب آٹھ سال ہو چکے ہیں۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ اس عرصے میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان پر تشدد کے واقعات میں کتنی کمی آئی ہے؟
اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال (The United Nations Convention on the Rights of the Child) کے تحت بچوں کے چار بنیادی حقوق ہیں۔ پہلا‘ حقِ زندگی اور بقا کے تحت ہر بچے کو زندہ رہنے اور صحت مند نشوونما پانے کا حق حاصل ہے۔ دوسرا حقِ تحفظ کے تحت بچوں کو ہر قسم کے تشدد‘ استحصال اور نظر اندازی سے بچانا ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ حقِ نشوونما کے تحت معیاری تعلیم‘ مناسب خوراک‘ تفریح اور مکمل ذہنی و جسمانی نشوونما ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ حقِ شرکت کے تحت بچوں کو اپنی زندگی اور معاشرے کے فیصلوں پر اپنی رائے دینے کی آزادی اور حق حاصل ہے۔ کیا پاکستان میں ہمارے بچوں کو یہ سارے حقوق مکمل طور پر حاصل ہیں؟
اب ایک ایک کر کے ان معاملات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ حقیقی صورت حال واضح ہو جائے۔ بچوں کو کتنا تحفظ حاصل ہے اس کا اندازہ کالم کے آغاز میں پیش کردہ تین واقعات سے بخوبی ہو جاتا ہے‘ نہ وہ تشدد سے محفوظ ہیں اور نہ ہی جنسی استحصال سے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو حقِ زندگی تو حاصل ہے لیکن حقِ تحفظ حاصل نہیں ہے۔ تعلیم کی حالت یہ ہے کہ وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد دو کروڑ 60 لاکھ تک بڑھ چکی ہے اور یہ وہ سنگین معاملہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی لگا رکھی ہے۔ سکول سے باہر ان بچوں کی کل تعداد کا تین چوتھائی سے زیادہ یعنی 78 فیصد کبھی سکول ہی نہیں گئے جبکہ باقی 22 فیصد وہ ہیں جنہوں نے دو چار جماعتیں پڑھنے کے بعد سکول جانا چھوڑ دیا۔ خوراک کی صورتحال اقوام متحدہ کی ہی ایک رپورٹ سے اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے بڑھوتری میں کمی کے مسئلے کا شکار ہیں جو دائمی غذائی قلت کی علامت ہے اور بچوں کی نشوونما‘ صحت اور طویل مدتی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا علاج ممکن نہیں۔ بچوں کے حقوق کے حوالے سے باقی معاملات کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہو گی۔
میڈیا بتاتا ہے کہ پاکستان میں بچوں پر تشدد کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہوتے ہیں‘ جن میں جسمانی و جنسی استحصال‘ گھریلو تشدد اور اغوا کے ہزاروں کیسز شامل ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سالانہ ہزاروں بچے ان سنگین جرائم کا شکار بنتے ہیں اور ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر ملک کے مستقبل کو روشن بنانا ہے تو بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی بیخ کنی کے لیے کچھ ٹھوس کرنا ہو گا۔ پاکستان میں بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے جیسے اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال پاکستان میں بچوں کی قانونی اور سماجی حفاظت کو مزید بہتر بنانے کے لیے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں۔ ان کی آواز پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ایسے قانون بننے چاہئیں کہ کوئی بھی فرد یا افراد بچوں کو گرتی ہوئی چھت کے نیچے بٹھا کر ٹیوشن پڑھانے پر مجبور نہ ہو۔ کوئی بچوں پر تشدد کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے‘ انہیں مار مار کر قتل کر دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ بنائے گئے قوانین پر اس شدت کے ساتھ عمل درآمد ہونا چاہیے کہ ہمارے بچے گلی محلوں میں آسانی سے کھیل سکیں اور آ جا سکیں‘ دکانوں سے چیزیں خرید سکیں اور انہیں کوئی ہاتھ تک لگانے کی ہمت نہ کر سکے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ قوانین تو بنا دیے جاتے ہیں‘ ان پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جاتا جبکہ عمل درآمد یقینی بنانے تک ٹھوس نتائج حاصل کرنا ناممکن ہو گا۔ اب یہ اربابِ بست و کشاد پر ہے کہ وہ واقعی بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں یا حالیہ واقعات کی گرد بیٹھ جانے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اپنی پہلے والی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved