یورپ سے لرزادینے والی خبریں آرہی ہیں۔ ایک غیرمعمولی گرم لہر نے اکثر ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر چند دنوں میں چیخیں نکلوا دیں۔ 20 جون کو گرمی کی اس لہر نے مغربی یورپ پر اپنے پنجے گاڑے تھے اور پیر 30 جون کی اطلاعات کے مطابق یہ فرانس اور جرمنی وغیرہ سے اپنا جانی مالی ٹیکس وصول کرکے اب مشرق کی طرف سرک گئی ہے اور اب وسطی اور مشرقی یورپ اس کی زد میں ہیں۔ اس تحریر کے وقت یہ بلقان اور اٹلی کے علاقوں سے اپنا خراج وصول کر رہی ہے۔ صرف فرانس میں اس گرمی سے ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم (Tedros Adhanom)کے مطابق 20 سے 29 جون کے درمیان یورپ میں 1300 اموات ہوئی ہیں جن میں زیادہ تر بڑی عمر کے لوگ ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ بہت سی اموات‘ جھیلوں‘ تالابوں اور ندیوں وغیرہ میں ڈوبنے سے ہوئی ہیں جہاں لوگ پناہ کی تلاش میں گئے تھے۔ معاملہ صرف جانی نقصان کا نہیں‘ یورپ کے متاثرہ ملکوں میں ٹرینوں‘ بسوں‘ ٹراموں اور بجلی کا نظام بھی بے حد متاثر ہوا۔ سکول بند کر دیے گئے۔ یہ سب موسمیاتی تبدیلی کے شاخسانے ہیں کہ گرمی کی ایسی لہر جو کوئی نسل صرف ایک بار سنا کرتی تھی‘ اب ہر کچھ سال بعد سننے میں آتی ہے۔ لیکن اصل لرزہ خیز خبر آگے ہے‘ اور وہ یہ کہ یورپ ان عاملی تبدیلیوں میں سب سے زیادہ تیزی سے گرم ہونیوالا براعظم ہے‘ جو باقی دنیا کی نسبت دگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔ گزشتہ تقریباً پچاس برسوں میں یورپ کا اوسط درجہ حرارت تقریباً دو ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ چنانچہ 2026ء کی یہ گرم لہر آئندہ برسوں میں زیادہ شدت سے آنے کا امکان ہے۔
سوشل میڈیا پر ڈھیروں ڈھیر وڈیوز پھیلی ہوئی ہیں۔ کسی میں لوگ کسی ندی یا دریا میں پلوں سے چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ کہیں جھیل کنارے لوگوں کا جم غفیر جمع ہے۔ کہیں گھر کی بالکنی میں فرائی پین میں انڈا ابال کر گرمی کی شدت دکھائی جا رہی ہے۔ کسی سڑک پر پولیس اپنے خصوصی گاڑیوں سے لوگوں پر پانی کی پھواریں برسا رہی ہے۔ کہیں پارکوں میں درختوں کے سائے میں لوگ اکٹھے ہیں۔ کہیں چوک پر لگے فواروں اور اس کے ساتھ پانی کے حوضوں سے لوگ سر اور منہ پر چھینٹے مار رہے ہیں۔ یہ وہ سب لوگ ہیں جنہیں اپنے گھروں میں چین نہیں ملا۔ ہما رے ہاں شدید گرمی کی لہر میں لوگوں کو گھر سے نہ نکلنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ لیکن یورپ میں لوگ گھروں میں رہنے پر قادر ہی نہیں ہیں۔ نہ وہاں کھڑکیوں‘ دروازوں میں ہوا کی آمد و رفت کا نظام موجود ہے۔ نہ پنکھے ہیں اور نہ ایئر کنڈیشنر۔ دفتروں اور گھروں کا ایک جیسا حال ہے۔ 20 جون سے شروع ہونے والی یہ گرمی ابتدا میں سپین اور پرتگال سے اٹھ کر فرانس‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ اٹلی‘ سوئٹزرلینڈ‘ بلجیم‘ نیدر لینڈز اور پولینڈ وغیرہ سے ہوتی ہوئی چیک جمہوریہ اور بلقان تک پھیل گئی۔ اور اب اٹلی بھی اس کی زد میں ہے۔ ظاہر ہے یونان اور ترکیہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق اس گرمی کی بنیادی وجہ فضا میں قائم ہونے والا ''اومیگا بلاک‘‘ تھا۔ اس دوران ایک طاقتور ہائی پریشر سسٹم کئی دنوں تک تقریباً ایک ہی جگہ قائم رہا‘ جس نے شمالی افریقہ سے آنے والی گرم اور خشک ہوا کو مغربی اور وسطی یورپ کے اوپر روک دیا۔ نتیجتاً نہ ٹھنڈی ہوائیں پہنچ سکیں اور نہ بارشوں کا نظام آگے بڑھ سکا۔ جرمنی میں 41.1 اور فرانس کے کچھ علاقوں میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ لیکن بیشتر یورپی ملکوں میں 37 اور 38 ڈگری کے درمیان درجہ حرارت تھا‘ جو اُن ملکوں میں گرمی کی بلند ترین سطح سمجھی جاتی ہے۔ عالمی میڈیا میں وہ مضامین شائع ہو رہے ہیں اور وہ تفصیلات بتائی جا رہی ہیں جن سے ہم دیسی لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ محض ایک ہفتے کی گرم ترین لہر نے کس کس طرح یورپ کو متاثر کیا ہے۔ ایک بار پھر یہ چیخ و پکار شروع ہوگئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج اور فوصل ایندھن کے استعمال کو کس طرح کم کیا جائے۔
یورپ کے بیشتر مکانات نسبتاً سرد موسم کو مدنظر رکھ کر تعمیر کیے جاتے ہیں۔ شمالی یورپی ممالک میں صرف تقریباً 20 فیصد گھروں میں ایئرکنڈیشننگ موجود ہے۔ انہیں عام طور پر پنکھے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی چنانچہ اس گرم لہر کے دوران ایئر کنڈیشننگ یونٹس اور پنکھوں کی طلب بہت بڑھ گئی اور اتنی تعداد موجود تھی ہی نہیں۔پیرس میں صرف ایک دن کے دوران گرمی سے متعلق 55 اموات ایمرجنسی نظام میں رپورٹ ہوئیں جبکہ بعض ہسپتالوں نے ہنگامی صورتحال نافذ کر دی۔ برطانیہ میں ایمبولینس سروس کو غیر معمولی تعداد میں جان لیوا ہنگامی کالیں موصول ہوئیں۔ شدید گرمی نے جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات کئی گنا بڑھا دیے۔جنوبی یورپ میں خشک سالی مزید شدت اختیار کر گئی۔ زرعی ماہرین کے مطابق گندم‘ مکئی‘ انگور اور زیتون کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔ اس گرمی میں یورپی انفر سٹرکچر کی کمزوریاں بھی حیرت انگیز طور پر نمایاں ہوگئیں۔جرمنی میں سڑکیں پگھلنے لگیں یا نرم ہو گئیں۔ سویڈن میں ٹرین لائنوں پر مسائل پیدا ہوئے۔ بعض شہروں میں ٹرام کی پٹریاں ٹیڑھی ہو گئیں۔ بجلی کی طلب ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی‘ جبکہ گرڈ سٹیشن خود گرمی کی وجہ سے اپنا کام نہیں کر پارہے تھے۔یعنی سماجی‘ معاشی‘ طبی‘انتظامی ‘ ہر لحاظ سے یہ گرم لہر بہت جان لیوا ثابت ہوئی۔
ایک پاکستانی جو جرمنی میں بہت مدت سے مقیم ہے اور وہ حال ہی میں پاکستان سے واپس جرمنی پہنچا تھا‘ اس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس کی موجودگی میں اگرچہ 37 ڈگری درجہ حرارت تھا۔لیکن وہاں اس طرح گرمی نہیں لگتی تھی جیسے جرمنی میں اسی درجہ حرارت میں محسوس ہورہی تھی۔ وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ اس کے عادی نہیں ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت سمیت گرم ترین علاقوں میں لوگ عادی ہوجاتے ہیں اور اپنا رہن سہن اسی کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ آج30 جون کو لاہوراور اسلام آباد میں 38 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ کراچی میں 32 ڈگری بتایا جارہا ہے۔ملک کے گرم ترین علاقوں مثلاًسبی اور جیکب آباد میں بھی 38 کے لگ بھگ ہے۔ دہلی میں بھی یہی صورت ہے۔ یہ گرم ترین مہینوں کا موسم ہے چنانچہ ان مہینوں میں یہ گرمی معمول ہی سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ مرطوب آب و ہوا کی وجہ سے ہمارے ہاں اس کی شدت بڑھ جاتی ہے لیکن اس زمانے میں بھی مزدوروں اور کسانوں کے کام رکتے نہیں‘ اسی رفتار سے جاری رہتے ہیں۔آپ ان دنوں بھی دیکھ لیجیے لوگوں کے کاروبار اور ملازمتو ں سمیت سب معاملات اسی طرح جاری ہیں۔دنیا کے اس خطے میں بھی درجہ حرارت 38 ہے اور اُس خطے میں بھی۔ لیکن ایک طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے دوسری طرف زندگی اپنے معمول میں جاری ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ نسلی طور پر اور آب و ہوا کے لحاظ سے یورپی لوگ اچھی صحت کے مالک ہوتے ہیں۔ اسی طرح انہیں غذا‘رہن سہن اور صحت کی بہت سی وہ سہولتیں حاصل ہیں جن کا یہا ں ایک عام آدمی تصور بھی نہیں کرپاتا۔ انکی جیب میں بھی یہاں کے عام آدمی سے زیادہ پیسے ہیں‘ لیکن نتیجہ پھر بھی یہی نظر آتا ہے کہ ہمارا عام آدمی ایک یورپی عام شہری سے زیادہ سخت جان اور زیادہ صابر ثابت ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں تو 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ اموات کی خبریں بھی آتی ہیں لیکن اس طرح نہیں جیسے 37 ڈگری میں یورپ سے آرہی ہیں۔ انسانی جان کسی بھی جگہ کی ہو‘ قیمتی ہے اور اسکے تلف ہونے پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن سب سے پہلے اپنا اور اپنوں کا خیال تو آتا ہے نا۔ گندمی اور سیاہ جسموں کے وہ لوگ جو نیم‘ بوہڑ اور بکائن کی چھاؤں تلے38 ڈگری کی گرمی میں پنکھے کے بغیربیٹھے ہیں۔ جنہوں نے اچار سے کھانا کھایا ہے اور ستو گھول کر پی رہے ہیں‘ کچی نمکین لسی کٹورے میں انڈیل رہے ہیں۔چلتے رہٹ سے ٹھنڈا پانی پی کر شکر ادا کرتے یہ لوگ۔ یورپ کو ان سے پوچھنا چاہیے کہ گرمی کیا ہوتی ہے؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved