تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     02-07-2026

ہزاروں لغزشیں حائل ہیں، لب تک جام آنے میں … (1)

پاکستان اور قطر کی طویل سفارتی جدوجہد کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان 17جون2026ء کوایک مفاہمت پر اتفاق ہوا اور ''اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘‘کے عنوان سے اس پر امریکی صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فریق کے طور پردستخط کیے‘ نیز وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ثالث کے طور پر دستخط کیے۔ پاکستان سمیت دنیا نے اس پر اطمینان کا سانس لیا۔ یہ مفاہمتی یادداشت باقاعدہ معاہدہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک بنیادی خاکہ تھا‘ جس کے تحت 60 دن میں باقاعدہ معاہدہ طے پانا ہے۔ اس ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں 21 جون 2026ء کو پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزر لینڈ کے شہر برگن سٹاک میں قطر کے زیرِ ملکیت ریزورٹ میں باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کی۔ حالات کی حساسیت کے پیشِ نظر ایرانی وفد نے فوٹو سیشن میں حصہ نہیں لیا۔ پھر اجلاس کے دوران بھی امریکی صدر ٹرمپ کے تندوتیز بیانات منظرِ عام پر آنے کے بعد ایرانی وفد نے اجلاس کو جاری رکھنے سے انکار کر دیا اور وہ اپنی رہائش گاہ میں چلے گئے۔ پھر پاکستان اور قطر کی مخلصانہ کاوشوں کے بعد بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں ایک ابتدائی اعلامیے پر اتفاقِ رائے ہوا اور طے پایا کہ معاہدے کی باقی تفصیلات دونوں طرف کے تکنیکی ماہرین 60 دن میں طے کریں گے۔ اس اعلامیے کے اہم نکات حسبِ ذیل ہیں:
(1) لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کردی جائیں گی۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر حملہ‘ دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔ (2) فریقین ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کریں گے نیز ایک دوسرے کے اندرونی امور میں مداخلت نہیں کریں گے۔ (3) حتمی معاہدہ 60 دنوں میں طے پائے گا‘ باہمی مشاورت سے یہ مدت بڑھائی جا سکتی ہے‘ تکنیکی ماہرین فوری طور پر مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیں گے۔ (4) امریکہ فوری طور پر بحری ناکہ بندی ہٹانا شروع کرے گا اور 30 دنوں میں مکمل ختم کردے گا۔ (5) ایران 60 دنوں تک کسی قسم کا ٹول ٹیکس لیے بغیر تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ دیتے ہوئے قبل از جنگ کی صورتحال پر لے آئے گا۔ (6) ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا‘ افزودہ یورینیم کے موجودہ سٹاک اور دیگر مسائل حتمی معاہدے میں طے پائیں گے‘ سرِ دست صورتحال حسبِ سابق برقرار رہے گی۔ (7) ایران پر پابندیوں میں نرمی کی جائے گی‘ اسکے منجمد اثاثوں کاکچھ حصہ فوری طور پر واگزار کیا جائے گا اور ایران کی تعمیرِ نو کیلئے 300 ارب ڈالر کا فنڈ قائم کیا جائے گا۔ (8) لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کیا جائے گا‘ دہشت گرد گروہوں کو فنڈنگ نہیں کی جائے گی۔
امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا پورا متن: امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران نیک نیتی کے ساتھ مندرجہ ذیل امور پر متفق ہوئے ہیں: (1) امریکہ‘ اسلامی جمہوریہ ایران اور حالیہ جنگ میں ان کے اتحادی یہ اعلان کرنے کیلئے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر رہے ہیں کہ: ''لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی آپریشنز کو فوری اور مستقل بنیادوں پر ختم کریں گے اور یہ عہد کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا فوجی آپریشن نہیں کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے‘ نیز لبنان کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کو یقینی بنائیں گے۔ حتمی معاہدہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور اس پیراگراف کی دیگر شرائط کی توثیق کرے گا۔ (2) امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران عہد کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی خود مختاری‘ علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے اجتناب کریں گے۔ (3) امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر مکالمے کے ذریعے حتمی معاہدے تک پہنچنے کا عہد کرتے ہیں‘ اس مدت کو باہمی رضا مندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ (4) اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اور رکاوٹوں کو دورکرے گا اور 30 دن کے اندر ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کردی جائے گی‘ اس عرصے کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے بحری جہازوں کی آمد ورفت بتدریج قبل از جنگ کی صورتِ حال پر بحال کی جائے گی۔ امریکہ مزید عہد کرتا ہے کہ اپنی افواج کو حتمی معاہدے کے تیس دن کے اندر ایرانی علاقوں سے ہٹادے گا۔ (5) اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اسلامی جمہوریۂ ایران تجارتی بحری جہازوں کو خلیجِ فارس سے بحیرۂ عمان تک اور اس کے برعکس آمد ورفت کیلئے محفوظ راستہ دینے کی خاطر کسی راہداری ٹیکس کے بغیر 60 دن کیلئے انتظامات کرے گا۔ تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت فوری شروع ہو جائے گی اور 30 دن کے اندر تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں‘ نیز ایران کی طرف سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹایا جائے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران خلیجِ فارس کی دیگر ساحلی ریاستوں سے مشاورت کے ساتھ آبنائے ہرمز میں مستقبل کے انتظامی امور وضع کرنے کیلئے سلطنتِ عمان سے بات چیت کرے گا جو مسلمہ بین الاقوامی قوانین اور آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک کے خود مختار حقوق کے مطابق ہو گا۔ (6) امریکہ عہد کرتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کیلئے اپنے علاقائی شراکت داروں کی رضا مندی کے ساتھ کم از کم تین سو ارب امریکی ڈالر کا یقینی منصوبہ بنائے گا‘ اس منصوبے کے نفاذ کا لائحۂ عمل 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کا حصہ ہوگا۔ ایران کو مالیاتی ادائیگیوں کیلئے جو اجازت نامے اور پابندیوں سے استثنا درکار ہیں‘ امریکہ وہ سب جاری کرے گا۔
(7) حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں‘ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادوں اور یکطرفہ طور پر ابتدائی یا ثانوی سطح کی عائد کردہ پابندیوں سمیت امریکہ سب کو ختم کرے گا۔ اوپر جن پابندیوں کا حوالہ دیا گیا ہے‘ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ ان کے خاتمے کی انتہائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور مکالمے میں ان مسائل کے فوری حل کیلئے اپنی پوری توجہ مبذول کریں گے تاکہ باہمی اتفاقِ رائے سے معاہدہ کیا جا سکے۔ (8) اسلامی جمہوریہ ایران دوبارہ توثیق کرتا ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار حاصل کرے گا اور نہ انہیں ترقی دے گا۔ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر رضا مند ہوچکے ہیں کہ پیراگراف نمبر سات میں جو نظام الاوقات طے ہو چکا ہے‘ اس کے مطابق جمع شدہ افزدوہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے یا اس کی صلاحیت کم کرنے کیلئے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی نگرانی میں طے شدہ مقام پر باہمی رضامندی سے ایک طریقۂ کار طے کریں گے۔ فریقین باہمی رضامندی سے طے کردہ طریقۂ کار کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی ضرورتوں کی حد تک یورینیم کی افزودگی کے مسئلے پر مذاکرات کریں گے‘ ان مذاکرات میں باہمی رضامندی سے جوطریقۂ کار طے پائے گا وہ حتمی معاہدے میں شامل ہو گا۔ حتمی معاہدہ اس پیراگراف کی شرائط کی توثیق کرے گا۔ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاملات کے بارے میں محولہ بالا طریقۂ کار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ فریقین متفقہ معاہدے کے حصول کیلئے فوری طور پر اس مسئلے پر مکالمے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ (9) جب تک حتمی معاہدہ معرضِ التوا میں ہے‘ امریکہ اور ایران موجودہ صورتحال کو قائم رکھنے پر متفق ہیں‘ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو موجودہ حالت پر برقرار رکھے گا‘ امریکہ کوئی نئی پابندیاں لگائے گا اور نہ علاقے میں نئی فوجی طاقت منتقل کرے گا۔(جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved