تحریر : اسد طاہر جپہ تاریخ اشاعت     03-07-2026

چاچا صدیق کے جرائم

شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور سے تعلق رکھنے والے چاچا صدیق کے سنگین جرائم کی فہرست کافی طویل ہے۔ اس کا سب سے پہلا اور بڑا جرم یہ ہے کہ وہ خاندانی غریب ہے اور نسل در نسل غریب سے غریب تر ہونے والے کروڑوں افراد میں سے ایک ہے۔ ہمارے معاشرے میں غربت سے بڑا کوئی روگ ہے اور نہ اس سے بڑا کوئی عذاب۔ اس کا دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس کا ایک بازو کٹ چکا ہے اور وہ معذور ہے۔ ہمارے ہاں جسمانی طور پر معذور افراد پر صرف ترس کھایا جاتا ہے اور انہیں خاندان اور قومی معیشت پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا تیسرا ناقابلِ معافی جرم یہ ہے کہ اس نے غربت اور معذوری کے خوفناک امتزاج کے سامنے بے بس ہو کر بھیک مانگنے کے بجائے خوداری اور خود انحصاری کا انتخاب کیا اور کسبِ حلال کا راستہ اپنایا۔ اس کا چوتھا قابلِ تعزیر جرم یہ ہے کہ وہ ریڑھی پر پھل بیچ کر اپنے بیوی بچوں کیلئے رزقِ حلال کمانے کی نیت سے صبح کاذب گھر سے نکل جاتا‘ منڈی سے پھل خرید لاتا اور ریڑھی پر رکھ کر سخت گرمی کے موسم میں سڑک کنارے کھڑا ہو کر آوازیں لگاتا اور گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا۔ اس کا اگلا نمایاں جرم یہ ہے کہ جب تجاوزات کے خلاف کارروائی میں اس کی ریڑھی اور اس پر موجود لگ بھگ چالیس ہزار کی لیچی ضبط کر لی گئی تو وہ سراپا احتجاج بن کر متعلقہ حکام کے پاس جا پہنچا اور اپنے ضبط شدہ سامان بالخصوص لیچی کی واپسی کا مطالبہ کر بیٹھا کیونکہ اس پھل کی خریداری پر خرچ کی گئی رقم اس کی کل سرمایہ کاری تھی اور واحد ذریعۂ معاش بھی۔ اس نے پانچواں جرم یہ سرزد کیا کہ ضبط کی گئی اشیا کی واپسی پر مایوس ہونے کے بجائے وہ شکایت لے کر مقامی انتظامیہ کے پاس جا پہنچا اور جہاں پناہ کے حضور پیش ہوکر تمام عاجزانہ آداب بجا لاتے ہوئے اپنی عرضی پیش کی مگر جہاں پناہ مبینہ طور پر اس کی یہ گستاخانہ حرکت دیکھ کر جلال میں آ گئے اور اس کی درخواست پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دی۔ اس نے اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھٹا جرم یہ کیا کہ اپنی داستانِ غم ایک مقامی صحافی کو سنا ڈالی جس نے اسے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کردیا۔ اب چاچا صدیق کے جرائم تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے لہٰذا ان کی بیخ کنی لازم تھی۔ یکے بعد دیگرے ان چھ ناقابلِ معافی جرائم کے بعد چاچا صدیق کو سبق سکھانے کا پروگرام بنا لیا گیا اور متعلقہ اداروں کے کچھ حکام نے مقامی پولیس کی خدمات حاصل کیں اور چاچا صدیق پر کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام میں مقدمہ درج کروا دیا۔ قانون فوری طور پر حرکت میں آیا اور چاچا صدیق پسِ دیوارِ زنداں ڈال دیا گیا۔ مگر اس دوران چاچا صدیق سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا تھا اور اس کی سٹوری ٹاپ ٹرینڈ بن گئی تھی۔ شرقپور کی مقامی صحافی برادری اور وکلا اس کی آواز بن چکے تھے اور اس کی رہائی کیلئے منظم ہو کر متحرک ہو گئے۔ اگلے روز اس کے اکلوتے ہاتھ پر ہتھکڑی کا زیور پہنا کر اسے عدالت لایا گیا جہاں وکلا کی بڑی تعداد نے اس کا مقدمہ لڑا۔ عدالت نے سماعت کے بعد اس پر درج کیا گیا مقدمہ خارج کر کے چاچا صدیق کو رہا کر دیا۔ اس کی رہائی پر وکلا اور صحافیوں نے اسے پھولوں کے ہار پہنائے اور مقامی شہری بھی اسے مبارکباد پیش کرنے پہنچے۔ کویت میں مقیم ایک پاکستانی نے اس کی ضبط کی گئی لیچی کے ازالے کیلئے رقم بھی بھجوا دی۔ اس کی مدد میں سرگرم عمل یہ تمام لوگ قابلِ تحسین ہیں مگر یہاں پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ اگر چاچا صدیق کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل نہ ہوتی تو کیا اس قدر جلد اس کی رہائی ممکن ہو پاتی؟ کیا چاچا صدیق کے گھر والوں کے پاس وکیل کی خدمات حاصل کرنے کیلئے مطلوبہ وسائل کا انتظام موجود تھا؟ اگر عدالت میں پیشی کے وقت مقامی صحافی اور وکلا کی بڑی تعداد وہاں موجود نہ ہوتی تو کیا چاچا صدیق رہا ہو پاتا؟ اگر چاچا صدیق کی کہانی سوشل میڈیا کی زینت نہ بنتی تو کیا مقامی بااثر لوگ اس کی رہائی کیلئے اس قدر منظم اور متحرک ہونے میں کامیاب ہو جاتے؟
اسی دوران بابا بلھے شاہ کے شہر قصور سے بھی ایک ایسا ہی دلخراش منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ اس وڈیو میں ایک پھل فروش سرکاری گاڑی کے سامنے لیٹ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتا نظر آتا ہے اور نہایت کرب کے عالم میں اپنی بے بسی بیان کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ کچھ سرکاری ملازمین پر رشوت خوری کے سنگین الزامات عائد کرتا ہے۔ اس کے ساتھ کھڑے کئی دیگر ریڑھی بان بھی اپنی اپنی زبان میں ملتے جلتے الزامات لگاتے نظر آتے ہیں جن کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانا نہایت ضروری ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ متعلقہ مخالف فریق کو سنے بغیر حتمی رائے قائم کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ تاہم گزشتہ چند ہفتوں میں ایسے الزامات پر مبنی واقعات ایک تسلسل کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں پیش آنے والے ان تمام واقعات کو سنجیدگی سے لیا جانا ضروری ہے‘ ورنہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود یہ مبینہ کالی بھیڑیں اپنے اداروں کے ساتھ حکومت وقت کیلئے بھی شرمندگی اور جگ ہنسائی کا باعث بنیں گی۔ دوسری طرف وطن عزیز کی 45 فیصد سے زائد آبادی غربت‘ مہنگائی اور بے روزگاری کے جان لیوا گٹھ جوڑ سے خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آئے روز خود کشی کے دلسوز واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ اگر ریڑھی بانوں‘ خوانچہ فروشوں اور پھیری والوں پر حاشیۂ حیات تنگ کر دیا جائے تو ان کے سامنے دو ہی راستے بچتے ہیں یا وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیں یا اس نظام سے بدلہ لینے کیلئے قانون ہاتھ میں لے لیں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جائیں۔
میں بیٹھا یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ ایک چاچا صدیق تو وکلا اور صحافیوں کی بروقت اور مؤثر مداخلت سے رہائی پانے میں کامیاب ہو چکا مگر اس جیسے جانے کتنے ہزار غربت‘ بے بسی اور لاچارگی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنے ناکردہ جرائم کی سزا کاٹ رہے ہوں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی دکھ بھری داستانیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل نہیں ہوئیں اور وہ وقت کے سرد خانوں میں بے سدھ‘ کہیں کسی جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی کی باقی ماندہ سانسیں گن رہیں ہوں گے۔ ہاں مگر ایک باعثِ اطمینان امر ان کے لیے یہ ضرور ہو گا کہ معمول کی زندگی میں وہ آئے روز فاقہ کشی کا شکار ہو کر بھوک کی کڑی آزمائش میں مبتلا ہوتے ہوں گے مگر اب انہیں کم از کم جیل میں دو وقت کا کھانا باقاعدگی سے ملتا ہو گا اور یوں ان کی فاقوں سے جان چھوٹ چکی ہو گی۔
یہاں پر ایک اور پہلو قابلِ غور ہے۔ اگر کسی غریب‘ بے کس اور کمزور شہری کو انصاف کے حصول کیلئے قانون یا عدالت کے بجائے عوامی دباؤ کا سہارا لینا پڑے تو قانون و انصاف کے نظام پر سوال اٹھتے ہیں۔ یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ریاست کی طاقت کا اصل حسن اس کے نچلے طبقے اور کمزور افراد کے تحفظ میں پنہاں ہوتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اختیارات کا منصفانہ‘ غیر جانبدارانہ اور ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنائیں۔ قانون نافذ کرنے والا ہر ادارہ اور اس سے وابستہ ہر فرد عوام کے تحفظ‘ آسانی اور انصاف کی فراہمی کیلئے جواب دہ ہے‘ لیکن جب کچھ غیر ذمہ دار افراد کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھنے لگیں تو صرف متعلقہ افراد ہی نہیں‘ پورا نظام عوامی عدالت کے کٹہرے میں اسی طرح آ کھڑا ہوتا ہے جس طرح چاچا صدیق کے ناکردہ جرائم نے اسے حوالات اور عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved