اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ پاک وطن کو بعض طاقتوروں نے کمزور سمجھ لیا تھا۔ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ یہ دیس اڑھائی ہزار کلومیٹر سے زائد ایک ایسے ہمسایے کے ساتھ متصل ہے جو اس کے وجود کا منکر ہے۔ وہ اس سے چھ‘ سات گنا بڑا ہے۔ آرٹی فیشل انٹیلی جنس میں اس کو دنیا کی بڑی طاقتوں نے مضبوط بنا دیا ہے۔ معاشی میدان میں وہ G-20 کا ممبر بنا دیا گیا ہے۔ پاک وطن کا جو دوسرا ہمسایہ ہے اس کی ہمسائیگی بھی اڑھائی ہزار کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔ دونوں باہم دوست بنا دیے گئے تاکہ پاکستان کو باور کرایا جائے کہ وہ عالمی ہاتھیوں کے درمیان بہت کمزور حیثیت رکھتا ہے۔ پانچ ہزار کلومیٹر کے گھیرے میں وہ گِھر چکا ہے۔ ایسا سوچنے والے '' زوالوجی‘‘ کی سائنسی دنیا میں یہ حقیقت بھول گئے تھے کہ دنیا میں بظاہر کمزور نظر آنے والے جاندار حقیقت میں طاقتوروں سے کئی گنا زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ مثلاً چیونٹی کو دنیا کا ایک طاقتور ترین جاندار گردانا جاتا ہے۔ وہ اپنے وزن سے دس گنا سے پچاس گنا زیادہ تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا موازنہ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ اگر ایک ستر سالہ شخص چیونٹی جتنا طاقتور ہو تو وہ ایک گاڑی کو آرام سے ہاتھوں پر اٹھا لے یا پھر ایک چھوٹے ہاتھی کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا لے۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں چیونٹی کے نام سے ''سورۃ النمل‘‘ نازل فرما دی تاکہ ''النمل‘‘ کی تلاوت کرنے والوں پر جب گھیرا تنگ کیا جانے لگے تو وہ اپنی کل طاقت سے دس سے پچاس گنا بڑھ کر ایسی قوت کا اظہار کر دیں کہ ہمسایے بے بس ہو جائیں اور اہلِ عالم دنگ رہ جائیں۔ ''بنیانٌ مرصوص‘‘ کی چھائوں تلے‘ جب اللہ کے شیروں کی جدید ٹیکنالوجی کی حامل دھاڑیں کانوں کے پردے پھاڑنے لگیں تو دہشت پھیلانے والوں نے کانوں پر ہاتھ رکھ دیے۔
پاکستان فاختہ کی طرح پُرامن ملک ہے۔ پرندے جب اڑان بھرتے ہیں تو زمین کی کشش سے بالا ہو کر تین چار چکر لگاتے ہیں۔ اب وہ زمین کے دونوں کناروں سے سگنل لے رہے ہوتے ہیں۔ وہ شمالی اور جنوبی کناروں سے نکلنے والی ویوز کو وصول کرکے اپنی پرواز کی سَمت کا تعین کرتے ہیں۔ بعض پرندے جو بلندی پر جاتے ہیں وہ اپنی پرواز میں سورج سے آنے والی ''ویوز‘‘ کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ بعض ایسے پرندے ہیں جو آسمان میں موجود دیگر ستاروں سے سگنل لے کر پرواز اور شکار کرتے ہیں۔ پرندوں کی آنکھوں میں ان ویوز کو وصولی کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہوتا ہے‘ یہ نظام پرندے کے سر میں موجود دماغی ''نیورونز‘‘ سے جڑا ہوتا ہے۔ اس سے سمتیں معلوم ہوتی ہیں۔
زمین کے گرد جو مصنوعی سیارے ہیں‘ ان کی کئی اقسام ہیں جنہیں زمین والے مختلف کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ غورکریں! ہمارے '' ملکی وے کہکشاں‘‘ میں موجود کھربوں سٹارز کی ویوز کہاں کہاں استعمال ہوتی ہوں گی؟ اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے پروں پر بھی غور وفکر کی دعوت دی ہے کہ وہ پروں کو پھیلاتے اور سکیڑتے ہیں۔ جب وہ پروں کو سکیڑتے ہیں تو اپنے ہدف کی جانب بلندی سے جھپٹا مارتے ہیں۔ جب پر پھیلاتے ہیں تو اوپر کی جانب بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ بعض پرندوں کے پر اپنے آخری سرے پر ہلکے سے مڑے ہوتے ہیں۔ یہ کم قوت استعمال کرکے زیادہ تیزی سے اوپر جا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی فطرت کو ملاحظہ کرکے پاک فضائیہ روز بروز آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ بنیانٌ مرصوص کے دنوں میں اس کی فطری صلاحیتوں کو دنیا نے مانا۔ اس کے شاہ باز اور شاہین جس تھنڈر کا دماغ بن کر اپنی راہیں تعین کرتے ہیں وہ راہ بقول علامہ اقبالؒ 'ستاروں پر کمند‘ ڈالنے والی ہے ان شاء اللہ۔ علامہ اقبال کے سائنسی وژن کو سلام کہ 'کمندان‘ یعنی کمانڈر بن کر کمانڈمنٹ کی معراج پر وہی فائز ہوگا جو ستاروں سے آنے والی ویوز کے سمجھنے اور انہیں اپنے استعمال میں لانے کے قابل ہو گا۔
سمندروں میں مچھلیوں کی اقسام دسیوں ہزاروں میں ہیں۔ سب سے بڑی مچھلی کو ''وہیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ ''زوالوجی‘‘ کی سائنسی دنیا میں یہ ممالیہ جانور ہے‘ یعنی یہ بچے دیتی ہے اور ان کو دودھ پلاتی ہے۔ اس کا وزن ایک سو اسی ٹن تک ہوتا ہے۔ اس وزن کو کلوگرام میں تبدیل کریں تو ایک لاکھ اسی ہزار کلوگرام وزن بنتا ہے۔ مزید سادہ الفاظ میں 25 کے قریب بڑے افریقی ہاتھیوں کے برابر اس کا وزن ہوتا ہے۔ ایک دن میں اس کے دودھ کی پیداوار 220 لٹر تک ہے۔ کچھ 500 لیٹر تک دودھ پیدا کرتی ہیں۔ اس کا دودھ ٹوتھ پیسٹ جیسا گاڑھا ہوتا ہے۔ اس کے تھن سے جب دودھ نکلتا ہے تو اس کی دھار دو انچ تک موٹی ہوتی ہے۔ رب العالمین کی ربوبیت کا نظارہ یہاں پر انتہائی ایمان افروز ہے۔ وہیل مچھلی کا بچہ جب دودھ پینے کے لیے اپنی ماں کے قریب آتا ہے تو ایسا نہیں کہ وہ بھیڑ بکری یا گائے بھینس کے بچے کی طرح دودھ پیتا ہے بلکہ وہ پانی کے اندر ہی تھن سے چند فٹ کے فاصلے پر آ جاتا ہے۔ اب اس بچے کی مامتا دودھ کی دھار مارتی ہے اور یہ دھار سمندری پانی کو چیرتے ہوئے سیدھا بچے کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ انتہائی گاڑھا ہونے کی وجہ سے یہ دودھ پانی میں گھلتا نہیں ہے۔ بچہ منہ کھولتا ہے تو اس کے منہ کی بناوت ایسی ہے کہ سمندری پانی کی ملاوت سے پاک دھار منہ میں چلی جاتی ہے۔ جو پانی منہ کھلتے وقت تھوڑا سا منہ میں جاتا ہے وہ بھی دائیں بائیں سے باہر نکل جاتا ہے۔ یوں خالص دودھ‘ جو انتہائی گاڑھا ہوتا ہے‘ وہیل کے بچے کے معدے میں جاتا ہے۔ صدقے قربان ایسے 'احسن الخالقین‘ پالنہار پر‘ سبحان اللہ!
دنیا بھر کی بحری فورسز سمندری مخلوقات کو سامنے رکھ کر کشتیاں‘ آبدوزیں اور بحری لڑاکا جہاز بناتی ہیں۔ وہیل کے اندر دودھ پھینکنے کا جو قدرتی نظام ہے‘ سمندر کے اندر دور تک میزائل پھینکنے کے نظام کیلئے وہیل کے اس سسٹم سے مدد لی جا سکتی ہے۔ جی ہاں! پاک بحریہ میسر وسائل کے اندر رہتے ہوئے جدید دفاعی نظام سے آراستہ و پیراستہ دکھائی دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد کے ساتھ پاکستان نے مندرجہ بالا فورسز کے بل بوتے پر علاقے میں اپنی قوت کی دھاک بٹھائی تو عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ اس کردار نے جہاں پاک وطن اور اس کی عسکری وسیاسی قیادت کو نیک نامی دی ہے‘ 25 کروڑ عوام کو عزت دی ہے وہیں اس عزت کے ساتھ حسد بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کے فرمان کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا ہوگا کہ ''ہر صاحبِ نعمت کے ساتھ حسد کیا جاتا ہے‘‘۔ حسد ایک آگ ہے جو حاسد کے سینے میں موجود کینہ پرور دل سے اٹھتی ہے۔ یہ مختلف شکلیں اختیار کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ اور بے بنیاد پروپیگنڈے سے لے کر ایسی دہشت گردی تک‘ جس میں دفاعی فورسز کے جوانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ وہ پاک خون ہے جو پاکستان اور اس کے 25 کروڑ عوام اور ان کی معیشت کے تحفظ کا ضامن ہے۔ یاد رہے! دفاعی قوت اور مضبوط معیشت لازم ملزوم ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ دونوں کے لیے فکرمند رہتے۔ دونوں میں ترجیح دفاعی قوت کو حاصل تھی۔ بدر اور احد وغیرہ کی جنگوں کے بعد خیبر کی فتح نے مدینے کی ریاست کو معاشی طور پر مضبوط کیا تھا۔ پاک وطن اس نبوی منہج پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پیارے ہم وطنو! ایک میزان کو کبھی نہ بھولنا کہ جب روایتی دشمنوں کی بولیاں اور اندر گھسے لوگوں کی بولیاں باہم ایک ہو جائیں تو ایسی بولی کا دلائل کے ساتھ سر کچلنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ پاک وطن زندہ باد!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved