دو دن پہلے ایک سینئر بیورو کریٹ سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک نیک نام اور پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ علیک سلیک کے بعد‘ بیٹھنے کے لیے ابھی نشست پوری طرح سنبھالی نہیں تھی کہ مسکراتے ہوئے سوال کیا: ''کیا اسلام میں 'ہائبرڈ سسٹم‘ کا تصور موجود ہے؟‘ اس سوال کا پہلا جواب ایک دو طرفہ قہقہہ تھا۔ اس سوال نے اگلے دس منٹ کے لیے گفتگو کا بہانہ فراہم کر دیا۔
یہ اتفاق ہے کہ اس ملاقات سے چند دن پہلے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں 'اسلام کا فلسفہ سیاست‘ کے زیرِ عنوان شائع ہو نے والی ایک کتاب پر مکالمہ تھا۔ یہ ایک ایرانی عالم کی کتاب ہے‘ ڈاکٹر حسنین نادر صاحب نے جس کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب میں بھی نظامِ سیاست پر تفصیلی بات ہوئی۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جن معاملات کو عقلِ عام کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے‘ جو اپنی جگہ عطیہ خداوندی ہے‘ ہم کوئی دینی نص تلاش کر تے ہیں۔ ہم یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ اللہ نے پیغمبروں کی معرفت اپنی ہدایت سے نوازنے کے ساتھ‘ ہمیں عقلِ سلیم سے بھی نوازا ہے۔ پیغمبر بھی اسی عقل کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں مخاطب بناتے ہیں۔ جب شخصی مفاد کی بات ہو تو ہم اس نعمت سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں مگر جہاں ریاست اور سماج کو کوئی مسئلہ زیرِ بحث آتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دین سے کو ئی جواب ملے۔
دلچسپ بات ہے کہ اس طرح کے سوالات‘ ہمارا حکمران طبقہ ہمیشہ اٹھاتا رہا ہے۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مقصد منشائے خداوندی دریافت کرنا نہیں‘ مذہبی متون سے اپنے اقتدار کے لیے جواز تلاش کرنا ہے۔ جنرل ضیاالحق مرحوم نے علما سے دریافت کیا کہ کیا اسلام میں سیاسی جماعتوں کی گنجائش ہے؟ جن علما کی رائے نفی میں تھی‘ جنرل صاحب نے انہیں قریب کر لیا۔ مولانا وصی مظہر ندوی بھی ان میں شامل تھے۔ انہوں نے ایک کتاب لکھ کر بتایا کہ اسلام میں سیاسی جماعتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ مولانا‘ ضیا عہد میں وزیر مذہبی امور تھے۔ جنرل صاحب کو علما سے جو سوال پوچھنا چاہیے تھا‘ وہ کچھ اور تھا۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا اسلام میں مارشل لاء کے لیے کوئی گنجائش موجود ہے؟ یہاں حکمران طبقہ اسلام نافذ کرتا ہے تو جمعہ کی چھٹی کا اعلان کر دیتا ہے۔ اسلام کی اس خدمت پر شور برپا ہو جاتا ہے اور عوام خوش ہو جاتے ہیں۔ حکمران طبقہ کبھی ان اصل ذمہ داریوں کی بات نہیں کرتا جو عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے اس پر عائد ہوتی ہیں اور جن کے لیے کل اسے خدا کے حضور میں جواب دینا ہے۔
کچھ ایسا ہی معاملہ اس ہائبرڈ نظام کے بارے میں بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ بیسویں صدی میں جن مسلمان اہلِ علم نے اسلام کے 'سیاسی نظام‘ کو موضو ع بنایا ہے‘ انہوں نے بھی ایک ہائبرڈ نظام ہی تجویز کیا ہے۔ اس باب میں اہلِ سنت میں سب سے بڑا نام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ہے ا ور اہلِ تشیع میں روح اللہ خمینی صاحب کا۔ مولانا مودودی کے نزدیک یہ تھیو کریسی اور جمہوریت کا مرقع ہے۔ اسے وہ 'تھیو ڈیمو کریسی‘ کہتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ حکم تو اللہ کا ہے لیکن اسے وہ لوگ نافذ کریں گے جو عوام کے منتخب کردہ ہوں گے۔ یہ وہی بات ہے جو 'قراردادِ مقاصد‘ میں کہی گئی ہے اور پاکستان کا آئین اسی پر مبنی ہے۔ خمینی صاحب کا تصور یہ ہے کہ اقتدار مامور من اللہ امام کا حق ہے۔ بارہویں امام کی غیبت میں یہ حق نائب امام استعمال کرے گا جسے مجتہدین اور علما کی ایک مجلس منتخب کرے گی۔ گویا وہ بیک وقت خدا کا نمائندہ ہے اور عوام کا بھی۔ ایران کا آئین اسی تصور پر مبنی ہے۔
یہ بحث جس نہج پر آگے بڑھی ہے‘ اس سے یہ بات مستحکم ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ نظام اہم نہیں ہے‘ نتائج اہم ہیں۔ سیاسی نظام کی صورت کچھ بھی ہو‘ اسے عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ہونا چاہیے۔ اگر وہ نتائج نہیں دیتا تو اس کی ہیئت سے قطع نظر‘ وہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ اسلام سے پوچھ کر اگر کوئی نظام بنایا جائے گا تو اس میں حکمران کے لیے لازم ہے کہ وہ مشاورت کے اصول پر منتخب کیا گیا ہو۔ یہ مشاورت عوام سے ہو نہ کہ خواص سے۔ تاہم اگر عوام کے مشورے سے قائم کی ہوئی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے تو محض اس وجہ سے حکمران خدا کی جوابدہی سے بچ نہیں سکیں گے کہ انہیں عوام نے منتخب کیا تھا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ اگر کوئی فرد غیر آئینی طریقے سے یا ناجائز ذرائع استعمال کر کے حکمران بنا ہو‘ کیا اس وجہ سے اس کا اقتدار جائز سمجھا جائے گا کہ اس نے بطور حکمران اچھے کام کیے؟
اگر مقدمہ یہ ہے کہ طریقہ انتخاب اہم نہیں ہے‘ نتائج اہم ہیں تو پھر یہ سوال اپنی اہمیت کھو دیتا ہے کہ حکمران کس طرح برسرِ اقتدار آیا ہے۔ اور اگر طریقہ انتخاب اہم ہے تو پھر نتائج غیر اہم ہو جائیں گے۔ ہائبرڈ نظام کے بارے میں بھی یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا آئین کیا اس کی اجازت دیتا ہے؟ بظاہر جو نظام رائج ہے وہ ہائبرڈ نہیں ہے‘ یہ آئینی ہے۔ آئینی نظام تو پارلیمانی ہے۔ تاہم عملی صورتِ حال اس سے مختلف ہے۔ ہائبرڈ نظام کو اگر اسلام کی نظر سے دیکھا جائے تو اس کا بنیادی مطالعہ صرف یہ ہو گا کہ کیا یہ نظام عوام کی رائے سے قائم ہوا ہے؟ اسلام کو دلچسپی نظام کی صورت سے نہیں‘ اس کے قیام کی اساس سے ہے۔
مسلم تاریخ یہ ہے کہ حکومت کی اخلاقی وشرعی حیثیت پر بحثوں کے باوجود اسے بالفعل حکومت مان کر اس سے معاملہ کیا گیا۔ فقہا نے اس کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھایا لیکن برسرِ اقتدار گروہ کو حکمران ماننے سے انکار نہیں کیا۔ یہ حکمران بھی خود کو زمین پر 'ظل اللہ‘ یعنی اللہ کا سایہ ہی سمجھتے رہے اور جمعہ کے خطبے میں ان کا نام لیا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عباسیہ کے دور کا خطبہ آج تک ہماری مساجد میں پڑھا جاتا ہے۔ گویا انہوں نے بھی ایک طرح سے ہائبرڈ نظام ہی قائم کیا۔ ایک طرف خود کو اللہ کا سایہ قرار دیا اور دوسری طرف موروثیت کو اختیار کیا۔ اس وقت بھی ملوکیت اور جمہویت یا پاپائیت اور جمہوریت پر مبنی ہائبرڈ نظام ہی قائم ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بالفعل ہائبرڈ نظام ہی چل رہا ہے اور اسے بالفعل مان لیا گیا ہے۔
اہلِ علم کی ذمہ داری یہ ہے کہ حکومت کی اخلاقی اور شرعی حیثیت کے بارے میں عوام کو متوجہ کرتے رہیں۔ بایں ہمہ معاشرے کو انتشار اور بدامنی سے بھی محفوظ رکھیں۔ ایک ناجائز حکومت کے خلاف بغاوت کا شر‘ اکثر اس حکومت کے وجود سے پیدا ہونے والے شر سے سنگین تر ہوتا ہے۔ آج کا ہائبرڈ نظام بھی پاکستان کے استحکام کا باعث بنا ہے۔ اس کی آئینی حیثیت پر بحث ہوتی رہی گی اور اس کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی بات ہونی چاہیے‘ لیکن اس استحکام کو نقصان پہنچائے بغیر۔ ہمارے فقہا کا طریقہ یہی رہا۔ انہوں نے اپنے عہد کے سیاسی نظام پر تنقید کی لیکن عوام کو اس کے خلاف نہیں اکسایا۔ وہ جانتے تھے کہ اس سے عوام کے جان ومال محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ آج کے مصلحین کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ وہ بالفعل اس ہائبرڈ نظام کو قبول کریں لیکن اس کے بارے میں‘ ان کی رائے اگر منفی ہے تو اس کو پُرامن طریقوں سے عوام تک پہنچائیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved