سنہ 47ء سے پہلے مسلم قیادت کی سیاسی کاوشیں اس تصورپر مبنی تھیں کہ ہندو چھا جائیں گے اورہمارے لیے یہاں ٹھہرنے کی جگہ نہ رہے گی۔ متحدہ پنجاب دریائے سندھ سے لے کر دلی کے بارڈر تک پھیلا ہوا تھا۔ اس خطے کا سیاسی سربراہ ایک مسلمان تھا۔ متحدہ بنگال چٹاگانگ سے لے کر کلکتہ تک پھیلا ہوا تھا۔ اس خطے کا سیاسی سربراہ ایک مسلمان۔ دلی او ریوپی کی اشرافیہ بہت حد تک مسلمان۔ بھوپال میں مسلمان‘ حیدرآباد دکن میں مسلمان۔ ممبئی میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد۔ قائد اعظم اسمبلی کے لیے الیکٹ ہوتے تھے تو ممبئی کی ایک مسلمان سیٹ سے۔ پختونوں کے دیس کا سیاسی لیڈر مسلمان۔ سندھ مسلمانوں کے ہاتھوں میں اور بلوچستان بھی۔ آبادی کے تناسب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہندوستانی فوج میں۔ لیکن یوپی اور علی گڑھ سے آنے والا یہ پیغام کہ انگریزوں سے آزادی ملی تو سیاسی سبقت کانگریس کی ہو جائے گی۔ مسلمانانِ ہند اس پیغام سے متاثر ہوئے اور دوسری ہر سوچ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہندو اکثریت کے تصور کے اسیر ہو گئے۔ تقسیمِ ہند کا فیصلہ ہوا تو ہزار سالہ تاریخ کی نشانیاں پیچھے چھوڑیں اور ایک نئے تصورِ زندگی کی طرف چل پڑے۔ یہ سوچ کم ہی ذہنوں میں تھی کہ تقسیمِ ہند کا لازمی مطلب تقسیمِ پنجاب اور تقسیمِ بنگال بھی ہو گا۔ خونریزی بنگال میں ہوئی لیکن خون کے اصل دریا پانچ دریاؤں کی سرزمین میں بہے۔ ہندوستان کے حصے میں آنے والے پنجاب میں مسلمان صدیوں سے اچھے طریقے سے بس رہے تھے۔ تقسیمِ ہند کے وقت جو آگ بھڑکی تو ساری آبادی کو قتل و غارت کے ایک جہنم سے گزر کر اس طرف آنا پڑا۔ یہاں کے ہندو اور سکھ اُس طرف ہجرت پر مجبور ہوئے اور مسلمان اُدھر سے ادھر۔ 46ء تک کم ہی لوگوں کو گمان تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر نسل کشی کا سلسلہ جاری ہوگا۔ مارچ 1947ء سے آہستہ آہستہ ہنگامے شروع ہوئے جن کی زد میں اقلیتیں آنے لگیں۔ ہندو اور سکھ اقلیتیں یہاں کی تھیں‘ مسلمان اُس طرف کے پنجاب کی آبادی میں اقلیتی حیثیت رکھتے تھے۔ زمین اور آبادیوں کی تقسیم ہوئی تو بعد میں دریاؤں اور پانیوں کی تقسیم بھی کرنی پڑی۔ آج سُن رہے ہیں کہ ہندوستان نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ لیڈرانِ قوم یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ بٹوارے کے بعد دونوں ملکوں کا بھلا اسی میں ہے کہ پنجاب کی نسل کشی کے باوجود ہمسائیگی کے تعلقات روا رکھے جائیں۔ وجوہات بہت سی تھیں لیکن ان سب وجوہات کو ملا کر بارڈر کے دونوں طرف کشیدگی اور پھر دشمنی کی آگ بھڑکائی گئی۔ پاکستان اپنا دفاع امریکی قربت میں ڈھونڈنے لگا اور جوں جوں امریکہ کے قریب گیا برصغیر میں پڑی دراڑیں زیادہ گہری ہونے لگیں۔
تقسیمِ ہند کا نظریہ مسلم دانشوروں کے ذہنوں میں پختہ ہوا تھالیکن پاکستان بننے کے بعد مخاصمت کا سبب مسئلہ کشمیربنا۔ کیونکہ یہ مسئلہ پیدا ہو چکا تھا‘ توپ و تفنگ کی تیاری بھی ضروری ہوگئی ہے۔ کبھی پانی کا مسئلہ اٹھتا کہ فلاں موسم میں ہندوستان نے دریاؤں کے پانیوں کے ساتھ چھیڑخانی کی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مخاصمت کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہی رہا۔ 14اگست 1947ء سے پہلے مسلم لیگی قیادت کے کلام میں کشمیر کا ذکر شاذونادر ہی ہوتا تھا‘مسلم لیگ قیادت کی زیادہ نظریں حیدرآباد دکن پر تھیں کہ کسی طرح وہ پاکستان کے حصے میں آ جائے۔ حالانکہ نقشہ سامنے ہوتو اس سوچ کی خام خیالی ظاہر ہو جاتی ہے۔ آزادیٔ ہند اور پاکستان کا معرضِ وجو دمیں آنا 14اور 15اگست 1947ء کے واقعات ہیں۔ اگست کے باقی پندرہ دن اور ستمبر کا پورا مہینہ کشمیر کے الحاق کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ 26 اکتوبر کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ کیا اور اُس کے بعد محدود پیمانے پر ہندوستانی فوجیوں کی آمد ہوائی جہازوں کے ذریعے سرینگرایئرپورٹ پر شروع ہوئی۔ یعنی تقریبا ًاڑھائی ماہ وادیٔ کشمیر اور سرینگر ایئرپورٹ تیار پھل کی طرح نگاہوں کے سامنے لٹک رہا تھا اور ہماری قیادت اُس پھل کو اپنے ہاتھوں میں نہ لے سکی۔ ٹینکوں اور توپوں کی ضرورت نہ تھی۔ کوہالہ سے ایک دو بٹالین انفینٹری کے جیپوں اور ٹرکوں پر سوار سڑک پر ہو لیتے تو وادی نے پاکستان کے قبضے میں آ جانا تھا۔ آزاد کشمیر کے جو علاقے ہیں وہ بھی فوجی کارروائی کی وجہ سے پاکستان کے حصے میں آئے۔ یعنی سرینگر پر کوئی بڑا حملہ نہیں کرنا تھا صرف تھوڑی سی چڑھائی کی ضرورت تھی لیکن وہ نہ ہوسکی کیونکہ اتنی سوچ بچارمسلم لیگ قیادت نے کی ہی نہیں تھی۔
بہرحال تقسیم ہو گئی‘ ایک نیا ملک معرضِ وجود میں آ گیا‘ تو پہلی ذمہ داری جو اس نئے ملک کی قیادت پر آتی تھی وہ نئے ملک کو ڈھنگ سے چلانا تھا۔ بنیاد ٹھیک سے رکھی جاتی‘ حکمرانی کے اصول وضع ہوتے جن سے کبھی روگردانی نہ ہوتی۔ نئے ملک کا آئین تو جلد بن جانا چاہیے تھا۔لیکن آئین کا مسئلہ سالوں لٹکتا رہا۔ اُس کی جگہ مقاصد بیان ہوتے رہے۔ آج جب بین الاقوامی قرضوں تلے ریاست دبی پڑی ہے مقاصد ہی بیان ہو رہے ہیں۔ شمالی اور وسطی ہندوستان سے جو مسلمان آبادی ہجرت کرکے نئے ملک میں آئی تھی بڑے ہونہار اورپڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل تھی۔ بنگال اور دیگر صوبوں کی قیادتوں سے مل کر قوم کے مستقبل کے لیے ایک عوام دوست اور پروگریسو سوچ ترتیب دی جاتی۔ جمہوریت کا تصور دل سے لگایا جاتا۔ عوام کی رائے اور حمایت کو حکمرانی کی بنیاد سمجھا جاتا۔ لیکن جہاں تعمیرِ قوم کی طرف توجہ ہونی چاہیے تھی وہاں نظریے ترتیب پاتے رہے۔ جو سیاسی قیادتیں اس قوم کو نصیب ہوئیں بہت زاویوں سے ان کا معیار کوئی اتنا اعلیٰ نہ تھا۔ آپس کی لڑائیاں شروع ہونے لگیں‘ جمہوریت کے اصولوں کی پامالی شروع دن سے ہی یہاں کا وتیرہ بنتا گیا۔ پھر کچھ زیادہ دیر نہ لگی جب تصورِ جمہوریت کا پورا بستر گول کر دیا گیا۔ اور اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں سے ایسے فرمودات آنے لگے کہ یہ قوم ابھی جمہوریت کے قابل نہیں۔ حکمرانی کے نام پر مشقیں ہونے لگیں جو آج تک جاری ہیں۔
امریکہ کے خلاف ایران جس انداز سے کھڑا ہوا ہے اس سے ہمارے خطے پر گہرے اثرات پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ گلف کے برادر عرب ممالک امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی تھے لیکن اس جنگ کی وجہ سے انہوں نے دیکھ لیا کہ جب امریکہ اپنے اڈوں کی حفاظت نہیں کر سکا تو ان کی حفاظت کیا کرنی تھی۔ یو اے ای کے علاوہ باقی ملکوں میں سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ پرانے مفروضے اب نہیں چلنے والے اور نئے زاویوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ اس کشکول والی ذہنیت کے چنگل سے کیسے نکلیں۔ اتنی بڑی آبادی اور قرضوں اور کمزور معیشت پر انحصار۔ کسی قو م کے لیے بھی یہ کوئی باعزت طریقہ نہیں۔ فرسودہ خیالات سے نکلیں کچھ ہمتِ مرداں پکڑیں۔ نئے راہوں پر چلنے کی اللہ ہمیں توفیق دے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved