یوں لگتا ہے کہ پنجاب ایک بار پھر اپریل 1993ء والے موڑ پر آن کھڑا ہوا ہے‘ جب منظور وٹو نے بطور سپیکر پنجاب اسمبلی وزیر اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی اور بعدازاں پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے۔ پنجاب کی سیاست میں اصل سوال یہ نہیں کہ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اتنے بااثر کیوں دکھائی دے رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ آخر وہ کون سے سیاسی اور انتظامی عوامل تھے جنہوں نے ایک آئینی منصب کو صوبے کی سیاست کے اہم ترین مراکز میں شامل کر دیا۔ قدرت کا نظام یہی ہے کہ وہ خلا پیدا نہیں ہونے دیتی‘ جونہی اقتدار میں خلا پیدا ہونے لگتا ہے‘ قدرت اسے پُر کر دیتی ہے۔ اسی طرح سیاست میں طاقت بھی کبھی خلا برداشت نہیں کرتی۔ جب کسی نظام میں رابطے‘ رسائی اور اعتماد کا فقدان پیدا ہوتا ہے تو اسے کوئی نہ کوئی ادارہ یا شخصیت پُر کر دیتی ہے۔ پنجاب میں گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والی پیشرفت بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔
حکومتی ارکان کی ایک بڑی تعداد نجی محفلوں بلکہ بعض اوقات کھلے عام یہ شکایت کرتی رہی ہے کہ وزیراعلیٰ آفس تک ان کی رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ مسئلہ صرف وزیراعلیٰ کی مصروفیات کا نہیں بلکہ ایک غیر رسمی نظام کا بھی ہے۔ اس نظام نے منتخب نمائندوں اور اقتدار کے اصل مرکز کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ حلقوں کے مسائل‘ ترقیاتی سکیمیں‘ انتظامی معاملات‘ تبادلوں کی سفارشات اور سیاسی شکایات اکثر وہیں رک جاتی ہیں جہاں سے انہیں آگے بڑھنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ کی سرکاری مصروفیات اپنی جگہ نہایت اہم ہوتی ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ یہ رہا ہے کہ جب میں نگران حکومت کا حصہ تھا تو جب بھی کوئی مشکل پیش آئی نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے منٹوں میں مسئلہ حل کر دیا۔ اسی طرح انکا ہر مکتبۂ فکر کے لوگوں سے رابطہ رہتا تھالیکن موجودہ صورتحال میں شنید یہ ہے کہ عوام تو کیا ارکانِ اسمبلی کو بھی نہ صرف وزیراعلیٰ آفس بلکہ بعض وزرا تک بھی رسائی حاصل نہیں رہی۔ یوں حکومت کے اندر ایک واضح سیاسی خلا محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس کے باعث پنجاب اسمبلی کے سپیکر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ موجودہ حالات میں سپیکر صرف کارروائی چلانے والے آئینی عہدیدار نہیں رہے بلکہ ایک ایسے فورم کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں جہاں ارکان کی بات سنی جا سکتی ہے اور اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے ذریعے ان کے تحفظات کو آواز مل سکتی ہے۔
جب شہباز شریف 1997ء کے انتخابات کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو انہوں نے رانا ثناء اللہ کے ذریعے حکومت اور حکومتی ارکان کے درمیان مضبوط سیاسی رابطہ برقرار رکھا۔ اگر کسی رکن کی وزیراعلیٰ تک براہِ راست رسائی ممکن نہ ہوتی تو اسے یقین ہوتا تھا کہ رانا ثناء اللہ اس کی بات مناسب فورم تک ضرور پہنچا دیں گے۔ اسی طرح چوہدری پرویز الٰہی کے دورِ حکومت میں راجہ بشارت نے یہی کردار ادا کیا۔ وہ حکومتی ارکان‘ اتحادی جماعتوں اور وزیراعلیٰ کے درمیان ایک مؤثر پل ثابت ہوئے۔ موجودہ دور میں حکمرانی کا انداز مختلف دکھائی دیتا ہے۔ انتظامی فیصلوں کا غیر معمولی ارتکاز وزیراعلیٰ آفس میں نظر آتا ہے جبکہ سیاسی رابطوں کا روایتی نظام نسبتاً کمزور محسوس ہوتا ہے۔ بیوروکریسی کا کردار پہلے سے زیادہ نمایاں ہے‘ لیکن پارلیمانی سیاست صرف انتظامی کارکردگی سے نہیں چلتی۔ منتخب نمائندے حکمرانوں تک رسائی اور حکومتی فیصلوں میں شمولیت بھی چاہتے ہیں۔
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی روایت یہ تھی کہ وہ ہر چھ ماہ بعد مری میں واقع وزیراعظم ہاؤس میں تمام ارکانِ اسمبلی کو مدعو کرتے‘ ہر ایک کی بات سنتے اور اسی بنیاد پر فیصلے کرتے تھے۔ وہ اس مقصد کیلئے مسلسل تین دن وقف رکھتے تھے۔ اس دوران وزرا خوف زدہ رہتے تھے اور بیوروکریسی اس خدشے میں مبتلا رہتی تھی کہ کہیں ارکانِ اسمبلی ان کے خلاف شکایات یا ریمارکس پیش نہ کر دیں۔ یوں ایک ممکنہ احتساب کا ماحول قائم رہتا تھا اور وزیراعظم صبح سے شام تک ارکان کو براہِ راست رسائی فراہم کرتے تھے۔ اسی ماحول میں جب سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اسمبلی کے قواعد‘ استحقاق اور نگرانی کے اختیارات کو مؤثر انداز میں استعمال کیا تو حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے انہیں اپنے مسائل کے اظہار کے ایک مؤثر فورم کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔یہ کسی ایک شخصیت کی غیر معمولی کامیابی سے زیادہ اس سیاسی خلا کی نشاندہی کرتا ہے جو حکمرانی کے موجودہ انداز میں پیدا ہوا ہے۔ ماضی سے یہی سبق ملتا ہے کہ جب اقتدار کے مرکز اور منتخب نمائندوں کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں تو کوئی نہ کوئی متبادل خود بخود ابھر آتا ہے۔ پنجاب کی موجودہ سیاست شاید اسی اصول کی ایک نئی مثال ہے۔
دوسری جانب اگر وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کی بات کی جائے تو یہ شہر 2021ء کے بعد سے بلدیاتی حکومت سے محروم ہے۔ وفاقی اور پنجاب حکومت مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتیں۔ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے عندیہ دیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبے پر آئین کے آرٹیکل 140-A میں اہم ترمیم کر کے مقامی حکومتوں کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا‘ میئر کو خودمختار بنایا جائے گا‘ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو دیے جانے والے 75ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں گے اور میئر کے انتخابات براہِ راست کرا کے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مداخلت ختم کی جائے گی۔ تاہم شنید ہے کہ یہ ترمیم فی الحال مؤخر کر دی گئی ہے۔ مقامی حکومتوں کی ایک خوبصورتی یہ ہے کہ عام آدمی کو بھی عوامی نمائندہ بننے کا موقع مل جاتا ہے‘ ورنہ ہمارے ملک میں سیاست اور حکومت صرف اشرافیہ تک محدود ہو گئی ہے۔ مقامی حکومتوں کے فوائد کاجائزہ لینا ہو تو امریکہ کے شہر نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی مثال سامنے ہے‘ جو محض ایک ہزار ڈالر خرچ کر کے امریکہ کے سب سے بڑے شہر کے میئر منتخب ہوئے۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم جان میجر کے والد لندن کے ایک سرکس میں مزاحیہ کردار ادا کرتے تھے۔ نوجوان جان میجر کی سیاست میں انٹری یونین کونسل کے کونسلر کے طور پر ہوئی‘ جب وہ بالکل بے روزگار تھے لیکن نظام نے انہیں وزیراعظم کے منصب تک پہنچا دیا۔ برطانیہ میں قانون یہ ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں امیدوار اپنے ذرائع سے آٹھ سو پونڈ سے زیادہ خرچ کرنے کا مجاز نہیں‘ اور اگر وہ مقررہ حد سے تجاوز کرے تو سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں الیکشن ایکٹ کی دفعہ 132 کے تحت انتخابی اخراجات پر پابندی ہونے کے باوجود امیدوار کروڑوں روپے خرچ کر کے اسمبلی کا رکن منتخب ہوتا ہے اور پھر اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے کرپشن کرتا ہے۔
یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وفاق اور پنجاب کی گزشتہ مالی سال کی آڈٹ رپورٹس میں سامنے آنیوالی مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس لینے کی تیاری ہو رہی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت میں دس کھرب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور آڈٹ اعتراضات کی نشاندہی ہوئی‘ جن میں غیر مجاز ادائیگیوں کے متعدد کیسز‘ قواعد کے خلاف خریداری‘ ٹھیکوں میں بے قاعدگیاں‘ سرکاری رقوم کے غلط استعمال اور غیر شفاف اخراجات کے معاملات شامل ہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کی 23 وزارتوں اور ڈویژنوں میں بھی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے 187 ارب روپے کے اضافی اخراجات سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ 19کھرب روپے کے بیرونی قرضوں اور 75ارب روپے کی ترقیاتی سکیموں میں قواعد کی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان اہم آڈٹ رپورٹس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد حکومت کے شفافیت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved