تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     05-07-2026

مضبوط پاکستان

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی گرد بیٹھنا شروع ہوئی تو پس پردہ حقائق کی وہ پرتیں کھل رہی ہیں جنہوں نے عالمی مقتدرہ کے ہوش اُڑا دیے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے ایک ایسی چونکا دینے والی رپورٹ شائع کی ہے جس نے خطے کے سکیورٹی اداروں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ محض ایک اخباری دعویٰ نہیں بلکہ اس ہولناک کھیل کا اعتراف ہے جو اسرائیل خطے میں کھیلنا چاہتا تھا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے جب اسلام آباد میں مذاکرات کا دور چل رہا تھا تو تل ابیب اس سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھیانک مہم جوئی کی تیاری کر رہا تھا۔ اسرائیل کا منصوبہ یہ تھا کہ اسلام آباد کے دورے کے دوران ایرانی وفد کے اعلیٰ ترین مذاکرات کاروں کو ہمیشہ کے لیے راستے سے ہٹا دیا جائے۔ بات صرف خطرے کی نہیں ہدف کی سنگینی کی ہے۔ اس مبینہ اسرائیلی منصوبے میں جن شخصیات کو نشانہ بنایا جانا تھا ان میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف شامل تھے۔ یہ دونوں شخصیات اس وقت ایرانی مقتدرہ کا تزویراتی ستون ہیں۔ ان پر حملے کا مطلب یہ تھا کہ خطے کو ایک لامتناہی اور ہمہ گیر جنگ میں جھونک دیا جائے جس کے شعلے صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہ رہتے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے۔
اسلام آباد ٹاکس میں شرکت کیلئے آنے والے ایرانی وفد کے طیارے کو نشانہ بنانے کیلئے اسرائیل کے مذموم منصوبے کے کئی پہلو تھے۔ اسرائیل بظاہر ایرانی سرزمین پر یا طیارے کو فضا میں نشانہ بنا کر اور اسے اپنی مرضی کا رنگ دے کر بیک وقت اس سے کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ یہ خطرہ اتنا شدید اور مصدقہ تھا کہ واشنگٹن انتظامیہ بھی حیرت زدہ ہو کر رہ گئی۔ اس موقع پر امریکہ نے کچھ قریبی ممالک کے ذریعے ایران کو اس ممکنہ قاتلانہ حملے سے متعلق پیشگی خبردار کر دیا۔ ایرانی حکام کو اسرائیلی انٹیلی جنس کی اس چال کا بخوبی اندازہ ہو چکا تھا اور وہ خطرے کو بھانپ چکے تھے؛ چنانچہ اپریل میں جب اس دورے کے فائنل راؤنڈ کی باری آئی تو ایرانیوں نے پاکستانی اور قطری ثالثوں سے اپنے تحفظات بیان کیے کہ جب تک ہمیں ٹھوس ضمانت نہیں ملتی کہ اسلام آباد میں ہمارے وفد کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا ہم جہاز میں نہیں بیٹھیں گے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ پاکستان نے ایسی ضمانت دی جس کی مثال معاصر تاریخ میں نہیں ملتی۔ پاک فضائیہ کے جے ایف17 تھنڈر اور ایف16 طیاروں نے ایرانی وفد کے طیارے کو اپنے حصار میں لے لیا اور آمد سے لے کر واپسی تک فضا میں سکیورٹی زون قائم رکھا جس نے دشمن کے ریڈارز اور منصوبوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ جب ایرانی وفد اپنا مشن مکمل کر کے پاکستان سے واپس ایران روانہ ہوا‘ ایرانی حکام کا طیارہ فضا میں تھا تو پاکستانی اور ایرانی انٹیلی جنس کو اطلاع موصول ہوئی کہ اسرائیلی جنگی طیارے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عراق کے راستے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا ممکنہ سافٹ ٹارگٹ یہی وفد ہے۔ یہ اطلاع فوری طور پر فضا میں موجود ایرانی طیارے کے کاک پٹ تک پہنچائی گئی اور ایمرجنسی پروٹوکولز کے تحت طیارے کا رخ تہران کے بجائے فوری طور پر مشہد ایئرپورٹ کی طرف موڑ کر اسے باحفاظت لینڈ کرا یا گیا۔ اس ہنگامہ خیز واقعے اور ہنگامی لینڈنگ کی تصدیق جب باقر قالیباف کے سینئر مشیر محمد مرانڈی نے کی تو دنیا کے سامنے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ اسرائیل مسلم قیادت کو چن چن کر ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔
یہاں بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جو نیویارک ٹائمز نے گول کر دیا اور وہ یہ ہے کہ اسرائیل کو اسلام آباد کی سرزمین پر یا پاکستانی حدود کے اندر اس وفد پر مہم جوئی کی جرأت کیوں نہ ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان اسرائیل کی اس شرانگیزی اور اس کے ماضی کے ٹریک ریکارڈ سے بخوبی واقف تھا۔ پاکستانی دفاعی اداروں نے پہلے ہی فضا کے اندر سکیورٹی کے انتظامات کر رکھے تھے۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے کئی گھنٹوں تک فضا میں محوِ پرواز رہے اور انہوں نے ایک ایسا الیکٹرانک دفاعی حصار قائم کیا جسے توڑنا کسی بھی جدید فضائیہ کے بس کی بات نہیں تھی۔ ایرانی قیادت کو یقین دہانی کرانے کا مطلب یہ تھا کہ اگر اس سفر کے دوران کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری ایٹمی طاقت کا حامل پاکستان اپنے اوپر لے گا اور پاکستان نے پس پردہ سفارتی چینلز کے ذریعے اسرائیل تک پیغام پہنچا دیا تھا کہ اگر اسلام آباد آنے والے وفد پر آنچ بھی آئی تو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا۔ اس غیر مبہم انتباہ کے بعد اسرائیل کے پاؤں اکھڑ گئے اور اسے ایرانی وفد کے طیارے پر حملے کی جرأت نہ ہوئی۔
ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو جب عالمی پذیرائی ملتی ہے تو پاکستانی ہونے کے ناتے ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ پاکستان یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ پوری دنیا پاکستان کے انٹیلی جنس اور عسکری اقدامات کو درست تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کی نہ صرف بھرپور تائید کی ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے خصوصی بیان میں تسلیم کیا ہے کہ پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے ہاتھوں بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے‘ اس لیے امریکہ اپنے دفاع کے لیے پاکستان کے قانونی حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ صرف امریکہ ہی نہیں یورپی یونین نے بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے‘ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے علاقائی سلامتی پر جو سرخ لکیریں کھینچی ہیں‘ عالمی طاقتیں انہیں تسلیم کر رہی ہیں۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں طاقت کا روایتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خلیجی ریاستوں کو شدید ترین معاشی اور سٹریٹجک نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے ان کی برآمدات اور سلامتی کا احساس بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے روایتی ڈھانچے سے باہر نکل کر ایک نیا اور متحرک تزویراتی بلاک تشکیل پا چکا ہے جس کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے اور اس میں قطر‘ ترکیہ‘ مصر اور پاکستان جیسی اہم علاقائی طاقتیں شامل ہیں۔ امریکی جریدے 'فارن پالیسی‘ کے مطابق یہ نیا گروپ خطے میں طاقت کا نیا توازن قائم کرنے کیلئے وجود میں آیا ہے۔ اس نئے سٹریٹجک بلاک میں پاکستان کی شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ مسلم دنیا کے دفاعی اور سفارتی امور میں پاکستان کی پوزیشن کتنی ناگزیر ہے۔ پاکستان کی عسکری قوت‘ ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی‘ مصر کا جغرافیائی اثر اور سعودی عرب و قطر کا سفارتی و مالی وزن مل کر ایک ایسا بلاک بنا رہے ہیں جو مستقبل میں کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مضبوط ترین سفارتی اور دفاعی ڈھال ثابت ہوگا۔ اسلام آباد میں ایرانی وفد کو جو سکیورٹی فراہم کی گئی وہ اسی تبدیل شدہ پاکستان اور اس کے نئے علاقائی کردار کا ایک واضح اور عملی اعلان تھا‘ جس نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان خطے میں امن قائم رکھنا بھی جانتا ہے اور اپنے دوستوں کی حفاظت کرنا بھی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved