تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     05-07-2026

طالبان حکومت کا معاندانہ رویہ

تاریخ گواہ ہے کہ جب ساری دنیا نے افغانستان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا‘ یہاں تک کہ ہندوستان‘ جو افغانوں سے دوستی کے دعوے کرتا تھا‘ اس نے بھی منہ پھیر لیا تب بھی ہم نے انہیں تنہا نہیں چھوڑا۔ دسمبر 1979ء سے فروری 1989ء تک افغانستان پر سوویت یونین کے حملے اور قبضے کے دوران اندازاً 18لاکھ افغان جان کی بازی ہار گئے‘ جن میں تقریباً تین لاکھ بچے بھی شامل تھے۔ اس دوران اور اس کے بعد بھی پاکستان نے کئی دہائیوں تک 50لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ نہ صرف انہیں پناہ اور تحفظ فراہم کیا بلکہ تعلیم‘ صحت‘ روزگار کے مواقع اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھرپور امداد بھی مہیا کی۔ بہت سے افغان مہاجرین نے پاکستان کے ساتھ گہرے سماجی اور معاشی تعلقات قائم کیے‘ اور جب ان کی وطن واپسی کا عمل شروع ہوا تو متعدد خاندان جذباتی انداز میں پاکستان کو الوداع کہتے ہوئے روانہ ہوئے۔ وسیع انسانی امداد فراہم کرنے کے علاوہ پاکستان نے افغان مزاحمت کی حمایت میں بھی اہم کردار ادا کیا اور سوویت افواج کو افغانستان سے انخلا پر مجبور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بدلے میں پاکستان کو کیا ملا؟ پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں پر حملے‘ بھارتی ایما پر پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی‘ جارحیت‘ نفرت انگیز بیان بازی اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں اور ان کے کارندوں کیلئے افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی بھارت جو برسوں تک طالبان کو دہشت گرد قرار دیتا رہا‘ اگست 2021ء میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد اپنی افغان پالیسی میں تبدیلی لے آیا جس میں پاکستان مخالف عنصر نمایاں ہے۔ طالبان کی عبوری حکومت کے ساتھ نئی دہلی نے سفارتی روابط بحال کیے‘ موجودہ حالات کے تناظر میں دونوں فریقوں کے تعلقات میں مزید اضافہ ہوا ہے جو علاقائی امن و استحکام کیلئے نیک شگون نہیں۔ جبکہ بلوچستان سے لے کر کراچی تک اسرائیل‘ بھارت‘ افغانستان گٹھ جوڑ اور بھارت کی پاکستان مخالف پراکسی وار بے نقاب ہو چکی ہے۔ وطنِ عزیز میں 2024ء کے آخر سے دہشت گردی کے واقعات میں بدترین اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ 2025ء اور رواں برس 2026ء خاص طور پر خونریز ثابت ہوئے ہیں۔ افسوس! آج افغانستان کی طالبان حکومت اسی ملک کے ساتھ دفاعی تعلقات استوار کرنے میں محو ہے جس کی فوجی مداخلت نے افغان عوام کو بے پناہ مصائب سے دوچار کیا تھا۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کے باعث افغانستان کا رویہ پاکستان کے بارے میں تبدیل ہو گیا‘ جس نے برسوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور مشکل ترین وقت میں اس کے ساتھ کھڑا رہا۔
دوسری جانب اسلام آباد کی طرف سے بارہا تحفظات کے اظہار کے باوجود افغان حکام نے نہ تو دہشت گرد گروہوں سے اعلانیہ لاتعلقی اختیار کی اور نہ ہی ان کے ڈھانچے کو ختم کرنے کیلئے مؤثر اور واضح اقدامات کیے ہیں جبکہ پاکستان نے عالمی پلیٹ فارمز پر ثبوت بھی فراہم کیے ہیں کہ بیرونی طاقتیں‘ خصوصاً بھارت اور اسرائیل‘ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ طالبان کی عبوری حکومت دوحہ معاہدے پر پورا نہیں اُتر سکی۔ نہ وہ ایک جامع اور نمائندہ حکومت قائم کر سکی‘ نہ ہی خواتین کے بنیادی حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنا سکی۔ افغان عبوری حکومت نے نہ صرف پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو مسلسل نظر انداز کیا بلکہ سرحد پار دہشت گردی روکنے کیلئے تعاون کی متعدد پیشکشوں کو بھی قبول نہیں کیا۔ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں طالبان کی سیاسی‘ سفارتی‘ انسانی سمیت دیگر شعبوں میں بھرپور حمایت کی۔
اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان اس وقت دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ یہاں سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں القاعدہ‘ داعش خراسان‘ اسلامی موومنٹ آف ازبکستان (IMU)‘ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)‘ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) شامل ہیں۔ روس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 23دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس بھی ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض تنظیموں کو بیرونی عناصر سے مالی اور لاجسٹک معاونت حاصل ہوتی ہے تاہم متعلقہ ممالک ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ متعدد عسکریت پسند گروپوں کو افغان سرزمین پر بھرتی‘ نظریاتی تربیت اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے مواقع میسر ہیں اور وہ پاکستان میں مساجد‘ مدارس‘ جنازوں‘ بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر حملوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ ان گروہوں نے ڈرون جیسے جدید ذرائع بھی استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ جن افراد اور گروہوں نے کئی دہائیوں تک پاکستان میں پناہ لی‘ یہاں تعلیم‘ علاج‘ کاروبار اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھایا‘ آج انہی کی حکومت کی سرپرستی میں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ٹی ٹی پی کو طالبان کے بعض بااثر دھڑوں اور بیرونی عناصر کی حمایت حاصل ہے اور اب اس میں سابق طالبان جنگجو اور سابق افغان سکیورٹی اہلکاربھی شامل ہوئے ہیں۔ ملا عمر کے دورِ حکومت میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اپنی تاریخ کے بہترین مرحلے میں تھے۔ کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی مغربی سرحد نسبتاً پُرامن اور محفوظ تھی۔ جب اکتوبر 1996ء میں ملا عمر کی قیادت میں پہلی طالبان حکومت قائم ہوئی تو بھارت طالبان کی مذہبی و نظریاتی پالیسیوں کی وجہ سے اس حکومت کے سخت ترین مخالف ممالک میں شامل تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بگاڑ 2001ء کے بعد پیدا ہوا‘ جب امریکہ کی قیادت میں افغانستان میں فوجی مداخلت اور حامد کرزئی کی سربراہی میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کے قیام کے بعد بھارت کابل کا ایک اہم سٹریٹجک شراکت دار بن کر ابھرا۔ یاد رہے کہ یہ بھارت ہی تھا جو افغانستان اور ایران میں موجود اپنے سفارتی مشنز اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان اور طالبان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ ٹی ٹی پی نے اس وقت سابق فاٹا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں دوبارہ منظم ہونا شروع کر دیا تھا۔ بھارت نے اس دوران شمالی اتحاد سے وابستہ حکومتوں کی مسلسل حمایت جاری رکھی تو ادھر امریکہ نے بھی منافقانہ کردار نبھایا۔ ایک طرف پاکستان کے اتحادی ہونے کا تاثر دیتا رہا‘ دوسری طرف خفیہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے‘ اسکی جوہری صلاحیت کو کمزور کرنے اور ملک کو تقسیم کرنے کی سازش کرتا رہا۔ 20سالہ جنگ کے دوران امریکہ مسلسل افغانستان میں عدم استحکام کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا رہا۔ جب اگست 2021ء میں امریکی اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا ہوا تو اپنے سیاسی اور عسکری اہداف حاصل نہ کر سکنے کی ناکامی کیلئے ایک مرتبہ پھر امریکہ نے پاکستان ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا۔
اگر دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا مقصود ہے تو پاکستان کو انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی کو وقتی ردِعمل کے بجائے قومی سلامتی کی مستقل پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ جب بھی دہشتگرد پاکستان پر حملہ کریں‘ انکے خلاف فوری‘ مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی ہونی چاہیے تاکہ انکے ٹھکانے‘ تربیتی مراکز اور معاون نیٹ ورک مکمل طور پر تباہ کیے جا سکیں۔ ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنی خودمختاری‘ علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ افسوس! پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغانستان کی سیاسی‘ سفارتی اور انسانی سطح پر بھرپور مدد کی مگر اسکے بدلے میں پاکستان کے خدشات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو صرف مذہبی یا تاریخی رشتوں کی بنیاد پر تعلقات میں بہتری لانا مشکل ہوگا۔ پائیدار امن اس وقت ممکن ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات باہمی احترام‘ ایک دوسرے کی سلامتی کے تحفظ اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے اصولوں پر استوار ہوں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved