تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     06-07-2026

صنعت کو سانس لینے دیں

فیفا ورلڈ کپ دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ ہے۔ فیفا دنیا کی سب سے بڑی سکرین بھی ہے۔ ہر چار سال بعد چار سے پانچ ارب لوگ ان مقابلوں میں ایک گیند کو دیکھتے ہیں۔ اور وہ گیند ایک مرتبہ پھر سیالکوٹ میں بنائی گئی ہے۔ 1982ء کے ورلڈ کپ کی ٹینگو اسپینا سے لے کر 1986ء کی ازٹیکا‘ 1990ء کی ایٹروسکو یونیکو‘ 1994ء کی کوئسٹرا‘ 1998ء کی ٹرائی کولور‘ 2002ء کی فیورنووا‘ 2006ء کی ٹیم گائسٹ‘ 2010ء کی جابولانی‘ 2014ء کی برازوکا‘ 2018ء کی ٹیلسٹار 18‘ 2022ء کی الرِحلہ اور 2026ء کی ٹریونڈا تک ورلڈ کپ کی تاریخ کی کئی یادگار گیندوں کے ساتھ سیالکوٹ کا نام بھی عالمی فٹ بال کی تاریخ سے جڑا رہا ہے۔ ان ناموں کے پیچھے پاکستانی مزدور ہیں۔ پاکستانی صنعتکار ہیں اور پاکستانی برآمد کنندگان ہیں۔ سیالکوٹ دنیا میں استعمال ہونے والی تقریباً 70 فیصد فٹ بالز تیار کرتا ہے۔ شہر سے سالانہ تقریباً چھ کروڑ فٹ بال برآمد کیے جاتے ہیں جبکہ ان کی برآمدی مالیت 18 سے 22 کروڑ ڈالر کے درمیان رہتی ہے۔ صرف جولائی 2025 ء سے اپریل 2026ء کے دوران سیالکوٹ نے تقریباً چار کروڑ 80 لاکھ فٹ بال برآمد کیے جن سے 22 کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل ہوا۔ پاکستان کی مجموعی سپورٹس گڈز برآمدات بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے نو ماہ میں سپورٹس گڈز کی برآمدات 31 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 13 فیصد زیادہ تھیں۔ صرف فٹ بال کی برآمدات ہی تقریباً 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 18 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان فٹ بال بنا سکتا ہے یا نہیں‘ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان پچاس نئے سیالکوٹ بنا سکتا ہے؟ اگر ایک شہر دنیا کی 70 فیصد فٹ بالز تیار کر سکتا ہے تو دوسرا شہر آئی ٹی خدمات کا عالمی مرکز کیوں نہیں بن سکتا؟ بلوچستان معدنیات‘ خیبر پختونخوا انجینئرنگ مصنوعات‘ سندھ فوڈ پروسیسنگ اور پنجاب ایگرو ٹیکنالوجی میں عالمی ویلیو چین کا حصہ کیوں نہیں بن سکتے؟ سیالکوٹ کی کامیابی کے بعد یہ کہنا شاید غلط نہیں کہ پاکستانی مزدور عالمی معیار کا کام کر سکتا ہے‘ پاکستانی صنعتکار عالمی مقابلے میں کامیاب ہو سکتا ہے اور پاکستانی مصنوعات دنیا کے سب سے بڑے سٹیج تک پہنچ سکتی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دو دل‘ ایک جان ہیں اور دونوں ممالک کے معاشی تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سالانہ تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً 1.4 سے 1.5 ارب ڈالر کے قریب ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ 5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے تجارت کو تقریباً تین گنا بڑھانا ہوگا۔ یہ اہداف حاصل ہو پاتے ہیں یا نہیں اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن ترکیہ سے معاشی پالیسیز کے حوالے سے کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ ترکیہ نے مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ ٹیکس 25 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کر دیا ہے۔ ساتھ ہی بیرونِ ملک موجود سرمایہ وطن واپس لانے کی سہولت دی گئی ہے جبکہ پاکستان کا راستہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس کی بنیادی شرح 29 فیصد ہے جبکہ سپر ٹیکس کے بعد بڑی کمپنیوں پر یہ بوجھ 39 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ بینکوں کے لیے یہ شرح 49 فیصد تک جا سکتی ہے۔ مختلف ٹیکسوں کو ملا کر بعض کاروباروں پر مؤثر بوجھ 50 سے 60 فیصد کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان کی برآمدات گزشتہ مالی سال میں تقریباً 32 ارب ڈالر رہیں جبکہ ترکیہ کی برآمدات 260 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ترکیہ کی معیشت کا حجم تقریباً 1.3 ٹریلین ڈالر ہے جبکہ پاکستان کی معیشت تقریباً 410 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ دنیا بھر میں ممالک سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ٹیکس کم کر رہے ہیں۔ ترکیہ‘ پرتگال‘ بھوٹان اور دیگر ممالک کا مقصد یہی ہے کہ کاروبار کو سزا نہیں بلکہ ترغیب دی جائے۔ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ دستاویزی اور ٹیکس ادا کرنے والے صنعتی شعبے مسلسل زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں جبکہ معیشت کا ایک بڑا غیر دستاویزی حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ پاکستان کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر برآمدات کو 60 یا 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا خواب ہے تو فیکٹریوں کو ایک شکار نہیں بلکہ ترقی کا ذریعہ سمجھے جانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت جو ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے‘ ایک نئے بحران سے دوچار ہے۔ رواں سال جننگ سیزن شروع ہونے کے صرف ایک ماہ بعد سندھ کے ٹنڈو آدم سمیت کئی علاقوں میں جننگ فیکٹریاں بند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کپاس اور اس سے متعلقہ مصنوعات پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ہے جسے بجٹ میں کم نہیں کیا گیا۔ اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی ظاہر کر رہے ہیں۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے سپاٹ ریٹ ایک جھٹکے میں 4000 روپے کم ہو کر 17500 روپے فی من رہ گئے۔ پنجاب میں کپاس کی قیمت 5000 روپے کمی کے بعد 17800 روپے فی من تک گر گئی جبکہ سندھ میں قیمت 17500 روپے فی من تک آ گئی ہے۔ اسی طرح پھٹی کی قیمت 4800 روپے سے کم ہو کر 3400 روپے فی من اور کھل کی قیمت 5200 روپے سے گر کر 3500 روپے فی من رہ گئی ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات سالانہ 16 سے 17 ارب ڈالر کے درمیان ہیں اور ان کا انحصار بڑی حد تک مقامی کپاس پر ہوتا ہے۔ ایسے میں کپاس کی قیمتوں میں اچانک گراوٹ پورے ویلیو چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ گزشتہ سیزن میں تقریباً 70 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہوئی لیکن سرکاری ریکارڈ میں صرف 55 لاکھ گانٹھیں درج ہو ئیں یعنی تقریباً 15 لاکھ گانٹھیں غیر دستاویزی رہیں۔ زیادہ ٹیکس کی وجہ سے کاروبار کا ایک حصہ غیر رسمی معیشت کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ حکومت کا مقصد ٹیکس وصولی بڑھانا ہے لیکن اگر اس کے نتیجے میں فیکٹریاں بند ہوں‘ کسانوں کو کم قیمت ملے اور کاروبار دستاویزی نظام سے باہر چلا جائے تو پالیسی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پاتی۔ کپاس کا شعبہ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی‘ شدید گرمی اور کم پیداوار جیسے مسائل کا شکار ہے ایسے میں ٹیکس کا اضافی بوجھ بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
سٹیٹ بینک نے دو مراعاتی سکیمیں‘ سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام (SDRP) اور ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو سکیم (TTCIS) بھی ختم کر دی ہیں۔ یہ وہ سکیمیں تھیں جن کے تحت بینکوں اور مالیاتی اداروں کو زیادہ ترسیلاتِ زر لانے پر اربوں روپے کی مراعات دی جاتی تھیں۔ مالی سال 2025ء میں پاکستان کو تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں جبکہ رواں مالی سال میں یہ رقم 41 سے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ برآمدات تقریباً 32 ارب ڈالر ہیں۔ اس وقت ملک میں ڈالر لانے کا سب سے بڑا ذریعہ ترسیلاتِ زر ہے۔بینک اس پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب بینکوں نے 2025ء میں تقریباً 640 ارب روپے منافع کمایا ہے۔ ان مراعات کے خاتمے سے بینکوں کی مجموعی کارکردگی پرمنفی اثرات پڑنے کے امکانات کم ہیں۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ جب ترسیلاتِ زر پہلے ہی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں تو بینکوں کو دی جانے والی مراعات کا جواز کمزور ہو جاتا ہے۔ اسی لیے حکومت نے یہ اخراجات کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا مراعات ختم ہونے کے بعد بھی ترسیلاتِ زر بڑھتی رہیں گی؟ اگر آئندہ سال بھی ترسیلات 42 ارب ڈالر کے قریب پہنچ جاتی ہیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کامیابی کے اصل محرک بیرونِ ملک پاکستانی ہیں نہ کہ بینکوں کو دی جانے والی مراعات۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved