کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی! کوئی مان لے تو اس کا اپنا فائدہ ہے!! مالِ حرام سے پرورش پانے والی اولاد کبھی بھی نیک نامی کا سبب نہیں بن سکتی۔ پروردگار چاہے تو کسی کو استثنا عطا کر دے! مگر صدیوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے۔
دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا‘ اکثر و بیشتر‘ دنیا میں بھی ملتی ہے۔ پہلا والدین کی نافرمانی!! میرے پرانے دوست پروفیسر راجہ یعقوب راوی ہیں کہ ان کے قصبے میں‘ جو کوہستانِ نمک کے قصبوں میں ایک قصبہ ہے‘ ایک بدبخت نے بیچ بازار‘ اپنے والد پر ہاتھ اٹھایا۔ وہاں ایک بوڑھا‘ بہت بوڑھا‘ شخص بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ حیرت سے اس کی زبان گنگ ہو گئی۔ اس لیے نہیں کہ اس نے بیٹے کو والد پر ہاتھ اٹھاتے دیکھا۔ بلکہ اس لیے کہ اسے ایک واقعہ یاد آ گیا جو اُس نے اوائل شباب میں دیکھا تھا اور اس کی یادداشت پر ایک ڈراؤنے خواب کی طرح نقش تھا۔ اس نے بتایا کہ یہی جگہ تھی۔ بالکل یہی! اُس وقت بازار تھا نہ دکانیں۔ بس کھیت ہی کھیت تھے۔ مگر جگہ یہی تھی! یہیں پر اُس شخص نے‘ جس پر اس کے بیٹے نے ہاتھ اٹھایا‘ اپنے باپ کو مارا تھا۔ حکایت ہے کہ ایک اور بدبخت نے بیٹے کو پرانا‘ بدبودار کمبل دیا کہ جا کر دادا کو دے آؤ۔ بیٹے نے قینچی سے کمبل کا ایک حصہ کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا۔ باپ نے وجہ پوچھی تو بیٹے نے کہا: کل جب آپ بوڑھے ہوں گے تو آپ کو بھی یہی دوں گا۔ اپنے اردگرد دیکھیے۔ بڑی عمر کے لوگوں سے پوچھئے۔ جنہوں نے والدین کی خدمت کی‘ ان کی اولاد نے انہیں خدمت کرتے دیکھا اور خدمت کرنا سیکھ گئے۔ جنہوں نے گستاخیاں کیں‘ والدین کو نظر انداز کیا‘ ان کی اولاد نے گستاخی کرنا اور نظر انداز کرنا سیکھ لیا۔ جَو کاشت کرنے سے گندم نہیں حاصل ہوتی۔ تحقیق کر کے دیکھ لیجیے۔ جو اولاد کے ظلم کا رونا روتے ہیں‘ انہوں نے اپنے والدین کے ساتھ غالباً یہی کچھ کیا ہو گا۔
دوسرا گناہ جس کی سزا‘ اکثر وبیشتر دنیا میں بھی ملتی ہے‘ ناجائز آمدنی کا حصول ہے۔ امام غزالی نے لکھا ہے کہ ناجائز مال حاصل کرنا اور اس سے زندگی بسر کرنا ایسا گناہ ہے ‘ اور ایسا روگ! جس کا تدارک کوئی نہیں!! میں ایک شخص کو جانتا ہوں اور بہت قریب سے جانتا ہوں جس کا باپ اس کے لیے بہت کچھ چھوڑ کر مرا۔ ہر بڑے شہر میں جائداد اور پلاٹ!! جس شعبے میں مرحوم کام کرتے تھے وہاں جائداد کی کثرت ذرا بھی باعثِ تعجب نہ تھی۔ ایک دن وہ بندۂ خدا مجھے کہنے لگا ''یار! میرا باپ کتنا بے وقوف تھا کہ پلاٹ دے گیا یہ سوچے بغیر کہ میں بناؤں گا کیسے؟‘‘۔ یہ سُن کر مجھے یوں لگا جیسے ایک دھماکا ہوا ہے اور میں ریزہ ریزہ ہو گیا ہوں۔ ناجائز آمدنی پر پلی ہوئی اولاد ایسے ہی لفظوں سے باپ کو یاد کرے گی۔ میں جس خاندان میں پیدا ہوا اور پھر جس طرح تعلیم کا آغاز ہی فارسی ادب سے ہوا‘ اس کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلا کہ ذہن میں Cause and Effect Theory راسخ ہو گئی۔ یعنی سبب اور نتیجے کا نظریہ! ہر کام کا یا ہر واقعہ کا ایک نتیجہ نکلتا ہے۔ عام زندگی کی مثالوں سے آپ اس نظریے کو سمجھ سکتے ہیں۔ آپ دیر تک سوئے رہے۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ کہ آپ کی ٹرین نکل گئی۔ سردی شدید پڑی۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پانی جم گیا۔ بارش نہیں ہوئی۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گندم کی فصل کمزور رہی۔ گھر میں حرام رزق آیا۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اولاد غلط کار نکلی۔ فارسی ادب اخلاقیات کا منبع ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ بزرگ کہا کرتے تھے اگر کوئی رذیل آپ سے بُرا پیش آتا ہے تو اسے معاف کر دیجیے۔ اس نے کون سا فارسی ادب پڑھا ہے! سعدی گلستان میں کہتے ہیں:
عاقبت گرگ زادہ گرگ شود
گرچہ با آدمی بزرگ شود
بھیڑیا انسانوں میں رہ کر بھی بھیڑیا ہی رہتا ہے۔ مری میں سیب زیادہ ہوتے ہیں۔ میں نے مری کے ایک عقلمند آدمی سے یہ محاورہ سنا کہ ''سیبوں کے سیب ہوتے ہیں‘‘ یعنی سیب کے درخت پر سیب ہی لگیں گے۔ نیک شخص چونکہ اکل حلال پر قناعت کرتا ہے‘ اس لیے اس کی اولاد نیک ہوتی ہے۔ حرام کھانے اور کھلانے والے کی اولاد والدین کی شکرگزار تو کیا ہو گی‘ الٹا طعنہ دے گی کہ باپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے! وہ جو حلال کھاتے ہیں ان کے بعد ان کے بچے باہم دست وگریباں نہیں ہوتے اور ماں باپ کے بعد ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے سرمایہ دار اور کاروباری افراد مرتے ہیں تو ان کے بعد سب کچھ تتر بتر ہو جاتا ہے۔ ہر بیٹا اپنا کاروبار الگ کر لیتا ہے اور سب کچھ دھڑام سے زمین پر آ گرتا ہے۔ ہم قطعاً یہ نہیں کہہ رہے کہ ہر امیر اور مقتدر شخص کا مال ناجائز ہوتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ کھرب پتی بننے والے اکثر افراد جرم کی سیڑھی پر ہی اوپر چڑھتے ہیں۔ انگریزی کا مشہور محاورہ ہے کہ Behind every great fortune there is a crime کہ ڈھیروں دولت کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم ضرور ہوتا ہے۔ یہ محاورہ‘ ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول ''گاڈ فادر‘‘ سے منسوب ہے مگر اصل میں یہ بات فرانسیسی ادیب بالزاک نے اپنے مشہور ناول Père Goriot میں کہی تھی جو 1834ء میں شائع ہوا تھا۔ بالزاک نے یہ بات یوں کہی تھی ''جب بہت بڑی کامیابی (دولت) کی منی ٹریل نہ دی جا سکے تو اس کی وجہ ایسا جرم ہوتا ہے جو کبھی سامنے ہی نہیں آیا اس لیے کہ جرم بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا‘‘۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولاد باعثِ ننگ کیسے ثابت ہوتی ہے؟ جو امارت‘ دولت‘ جائداد اسے ورثے میں ملتی ہے‘ لازم نہیں کہ وہ اس سے چھن جائے۔ اس کی دنیاوی حیثیت میں کمی نہیں ہوتی۔ بزنس‘ اقتدار‘ وزارت‘ نشست سب کچھ مل جاتا ہے مگر وہ ایسا کچھ نہ کچھ ضرور کر گزرتا ہے جس سے بدنامی اسے اور پورے خاندان کو رسوا کر دیتی ہے۔ باپ یہی کہے گا کہ ''وہ آزاد ہے۔ بالغ ہے۔ میں اس کے اعمال کا ذمہ دار نہیں‘‘۔ قانونی طور پر وہ درست کہہ رہا ہے۔ قتل بیٹے نے کیا ہے‘ اس نے نہیں۔ قمار بازی میں یا آبرو ریزی میں یا کسی بھی جرم میں اس کا باپ نہیں پکڑا جا سکتا۔ مگر اندازہ لگائیے جب بیٹا یا پوتا جرم میں ملوث ہوتا ہے تو باپ کے پلّے کیا رہ جاتا ہے؟ اس کی بقیہ زندگی لوگوں کی نظروں سے بچنے میں یا صفائی پیش کرنے میں گزر جاتی ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ناجائز آمدنی رشوت کی ہو یا ملاوٹ والے خراب مال کی فروخت سے حاصل ہوئی ہو‘ یا کسی کی زمین ہتھیانے سے آئی ہو یا کسی کی جائداد پر ناجائز قبضہ سے گھر میں آئی ہو‘ ناجائز آمدنی اس طرح بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے کہ انسان اسے ناجائز سمجھتا ہی نہیں! ملازمت پر حق کسی اور کا تھا‘ آپ نے اس کا حق مار کر اپنے بیٹے‘ بھانجے‘ بھتیجے کو ملازمت دلوا دی۔ اس ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی مشکوک ہو گی اور یہ چوگ بچوں کے منہ میں جائے گی تو خرابی پیدا کرے گی۔ اقتدار میں آکر ناجائز آمدنی سے بچنا آسان نہیں۔ اسی لیے عقلمند لوگ اقتدار سے بھاگتے ہیں۔ بااختیار لوگ‘ انٹرویو لیتے وقت‘ ملازمتیں دیتے وقت‘ جن کی جیبیں پرچیوں سے بھری ہوتی ہیں‘ آگ سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved