میرے ساتھ عجب معاملہ ہے۔ میں جب بھی پاکستان سے باہر جاتا ہوں تو شاہ جی فرماتے ہیں کہ تمہارے جانے کے بعد پاکستان میں خاصا سکون ہو جاتا ہے اور کوئی برُی خبر سننے کو نہیں ملتی‘ تاہم منیب کا خیال اس سے بالکل الٹ ہے۔ اس کا یہ کہنا ہے کہ میں جب بھی پاکستان سے باہر جاتا ہوں‘ پیچھے کوئی نہ کوئی برُی خبر سننے کو ملتی ہے‘ کوئی بڑا واقعہ ہو جاتا ہے۔ اب مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دونوں میں سے کون درست کہہ رہا ہے اور کون غلط۔ مجھے اپنے بارے میں نہ تو کوئی خوش فہمی ہے اور نہ کوئی غلط فہمی۔ اس ملک میں ہمہ وقت کوئی نہ کوئی برا واقعہ ہوتا ہی رہتا ہے۔ اب یہ محض اتفاق ہے کہ میں پاکستان سے باہر ہوتا ہوں تو اسے منیب نوٹ کر لیتا ہے اور جب میں پاکستان میں ہوتا ہوں تو اس کو شاہ جی نوٹ کر لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہر دو افراد کا خیال ایک دوسرے سے بالکل ہی مختلف ہے۔ میرے لیے یہ کسی طور ممکن نہیں کہ میں بیک وقت دونوں کے خیال پر پورا اُتر سکوں۔ اگر میں ان دونوں کی باتوں کو سنجیدگی سے لوں تو منیب کے خیال کے حوالے سے مجھے پاکستان سے کبھی باہر نہیں جانا چاہیے اور ہمہ وقت پاکستان میں رہنا چاہیے‘ جبکہ میرے پاکستان میں رہنے کی صورت میں شاہ جی کا خیال ہے کہ ہر چیز مائل بہ خرابی ہو جائے گی۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی برُا واقعہ پیش آتا رہے گا اور ملک پر کوئی نہ کوئی مصیبت ٹوٹی پڑی رہا کرے گی اس لیے مجھے پاکستان سے باہر ہی رہنا چاہیے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ یہ عاجز ہر دو افراد میں سے کس کو اور کیسے مطمئن کرے؟ شاہ جی کو جب بھی بیرونِ پاکستان سے فون کرتا ہوں وہ ہر چیز کے بارے میں اچھی خبر اور ہر طرف امن و سکون کا بتاتے ہیں‘ جبکہ دوسری طرف کسی بھی برے واقعے کی صورت میں منیب کا پیغام آتا ہے کہ مرشد! براہِ کرم جلد واپس آ جاؤ‘ ادھر بہت گڑبڑ ہو گئی ہے۔ میرا تو دماغ پلپلا ہو گیا کہ میں کیا کروں اور کدھر جاؤں؟
میرے پیچھے پاکستان میں دو غیرملکی خواتین کے ساتھ زیادتی اور تشدد والا جو واقعہ ہوا ہے‘ اس کے بارے میں منیب کا خیال ہے کہ اگر میں پاکستان سے باہر نہ جاتا تو یہ واقعہ نہ ہوتا۔ ویسے منیب کے اس خیال بلکہ تیقن پر مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اسے اپنے لیے خراجِ تحسین سمجھوں یا باعثِ رسوائی‘ تاہم دوسری طرف شاہ جی اوّل تو اس واقعے کو کوئی بہت بڑا واقعہ ہی نہیں مان رہے کیونکہ ان کا فرمانا ہے کہ یہاں اس سے بھی برُے اور خراب واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اس واقعے پر بہت زیادہ شور مچنے اور اہمیت حاصل کر جانے کی واحد وجہ یہ ہے کہ متاثرہ خواتین غیرملکی ہیں اور اس سلسلے میں ان کے سفارت خانوں کے دباؤ کی وجہ سے یہ واقعہ اتنی اہمیت حاصل کر گیا ہے وگرنہ پاکستان میں اس قسم کے واقعات اوّل تو سامنے ہی نہیں آتے اور اگر آ ہی جائیں تو دو تین دن میں ہی داخلِ دفتر ہو کر قصۂ پارینہ بن جاتے ہیں۔ خصوصاً جب ایسے کسی واقعے میں کسی زور آور کا بچہ بلونگڑا ملوث ہو۔ پاکستان میں جس مظلوم کے پیچھے کوئی تگڑی طاقت نہیں اسے غائب کر دیا جائے‘ کسی بنتِ حوّا کی عزت لوٹ لی جائے یا کسی مشکوک ملزم کو ماورائے عدالت پولیس مقابلے میں پار کر دیا جائے۔ یہ سارے قصے محض ایک دن کی خبر ہیں اور بس۔ اس حالیہ قصے کا اختتام صدقے کے بکرے کی قربانی پر منتج ہو گا لیکن نظام نہیں بدلے گا۔
شاہ جی نے مجھے فون پر تقریباً ڈانٹتے ہوئے یاد کروایا کہ تم نے اپنے کالم میں کئی بار سی سی ڈی کی جانب سے ملزمان کو ماورائے عدالت اپنی عدالت لگا کر مشکوک مقابلوں میں پار کرنے کے خلاف لکھا تو بھلا اس کا کیا اثر ہوا؟ اس قسم کے دھڑا دھڑ اور اندھا دھند پولیس مقابلوں میں ملزمان ہمیشہ پولیس سے چھڑوانے کیلئے آنے والے اپنے ہی بھائی بندوں کی گولیوں کا شکار ہوتے ہیں اور زیادتی کے مجرموں کا نیفے میں اڑسا ہوا پستول ہر بار چل کر انہیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ ناقابلِ یقین لیکن مسلسل واقعات اندھوں کو بھی صاف دکھائی دیتے ہیں لیکن نظامِ انصاف اور سرکار نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اس قسم کے واقعات کو ان کی باقاعدہ آشیرباد حاصل ہے۔ عام آدمی کی بات اور ہے لیکن جب نظام انصاف اور حکمران ایسی باتوں سے صرفِ نظر شروع کر دیں تو آپ کو یقین کر لینا چاہیے کہ ملک کا سارا نظام عدل یہ بات خود تسلیم کر رہا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور حکمران بھی اس بات کو مان چکے ہیں کہ ریاست معاملات کو قانون کے تابع چلانے میں ہاتھ کھڑے کر چکی ہے۔ ہاں! البتہ آسٹریلین شہریت کی حامل نو سالہ ہانیہ خان اگر پولیس گردی کا شکار ہو جائے اور اس کا ملک اس سلسلے میں اپنے شہری کے بہیمانہ قتل کو رزقِ خاک نہ ہونے دے تو بات اور ہے۔ اندازہ کریں پاکستانی نژاد نو سالہ بچی کے خونِ ناحق پر آواز اٹھانے کا فریضہ وہ ادا نہیں کر رہے جہاں اس خاندان کی جڑیں ہیں بلکہ اس کیلئے انصاف کے دعویدار اور طلبگار وہ ہیں جہاں اس خاندان نے ہجرت کی تھی۔ شاہ جی مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا تمہیں جنوری 2019ء میں جی ٹی روڈ پر قادر آباد (ساہیوال) کے نزدیک اپنے بچوں سمیت پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والا محمد خلیل یاد ہے؟ یہ مظلوم کریانہ سٹور کا مالک اپنی بیوی نبیلہ اور تیرہ سالہ بیٹی اریبہ کے ہمراہ سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارا گیا تھا‘ اس کا کیا بنا ؟ اس کیس میں جے آئی ٹی بنی جس نے سولہ اہلکاروں کو قتل اور دہشت گردی کا ملزم قرار دیتے ہوئے قانون کے مطابق سزا دینے کا لکھا مگر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سب ملزموں کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا۔ اگر یہ قتل ان اہلکاروں نے نہیں کیا تھا تو پھر ان کے قاتل کون تھے؟ ایسی صورت میں اصل قاتلوں کو تلاش کرنا اور قانون کے کٹہرے میں لانا بھی تو سی ٹی ڈی کی ذمہ داری تھی۔ اگر یہ سب بے گناہ تھے تو گناہگار کون تھا؟
ریاست ماں ہوتی ہے لیکن یہ کیسی ماں ہے جو ہر بار اپنے بچوں کے قتل پر زور آور قاتلوں کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ فروری 2021ء میں اسلام آباد کی سرینگر ہائی وے پر ایک تیز رفتار مہنگی گاڑی نے مانسہرہ سے نوکری کا ٹیسٹ دینے کیلئے آنے والے چار سوزوکی سوار نوجوانوں کو کچل کر مار دیا۔ مارنے والی گاڑی کا ڈرائیور مبینہ طور پر خاتون محتسب اعلیٰ کا بیٹا تھا۔ قانونی موشگافیوں اور طاقت کی چکر بازیوں نے سارا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا اور مقتولین کے لواحقین نے ملزم کو ''اللہ واسطے‘‘ معاف کر دیا۔ اسی طرح گزشتہ سال کے آخر میں ایک حاضر سروس جج کے کم عمر بیٹے نے دو سکوٹی سوار لڑکیوں کو اپنی گاڑی تلے کچل کر مار دیا۔ بعد ازاں مرنے والیوں کے لواحقین نے حسبِ معمول ملزم کو اللہ کے واسطے معاف کر دیا۔ اس ملک میں اس قسم کے ہر واقعے میں خوں بہا کی رقم اور طاقت کی زور زبردستی کا حسین امتزاج بالآخر ملزموں کو ''اللہ کے واسطے معاف کرنے‘‘ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
جس ملک میں حکمرانوں‘قانون سازوں‘ محتسبوں اور منصفوں کے بچے جرم کر کے باعزت بری ہو جائیں وہاں قانون کی کسمپرسی‘ عدل کی حالتِ زار اور آئین کی بے توقیری کا اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایسے ہر واقعے کے بعد ملزموں کو اللہ کے واسطے معاف کرنے پر قانونی پابندی لگا دی جائے؟ مرنے والوں کے لواحقین کو ریاست خوں بہا ادا کرے اور صلح کا دروازہ بند کر دیا جائے۔ اللہ کے واسطے اب اللہ کے واسطے پر اس قسم کا دباؤ دے کر معاف کروانے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ ریاست کو چاہیے کہ ماں بن کر دکھائے نہ کہ قاتلوں کی پشتیبان بنے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved