تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     07-07-2026

غیر ملکی خواتین کا اغوا

گزشتہ ہفتے دو غیر ملکی خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔ مدعو کرنے والے شخص نے بنفس نفیس اسلام آباد ایئر پورٹ پر ان خواتین کا استقبال کیا۔ خواتین نے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں دو روز قیام کیا۔ بعد ازاں مبینہ طور پر اس نوجوان نے دیگر تین افراد کے ساتھ مل کر غیر ملکی خواتین کو اغوا کر لیا۔ ان چار پانچ روز کے دوران مہمان خواتین کے ساتھ ہونے والے شرمناک سلوک کی جو کہانی اب تک سامنے آئی ہے‘ اس نے دنیا بھر کے افراد کو یہ پیغام دیا ہے کہ
جس کو ہو دین و دل عزیز‘ اس کی گلی میں جائے کیوں
یہ افسوسناک سٹوری تین چار روز قبل ہی سوشل میڈیا پر آ گئی تھی‘ تاہم اتوار کے روز ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے خاصی تاخیر کے بعد (باعث تاخیر کا پتا نہیں چل سکا)تفصیلات کیساتھ اس افسوسناک واقعے کو کنفرم کیا۔ خواتین میں سے ایک کا تعلق نیدرلینڈز سے اور دوسری کا وینزویلا سے ہے۔ لاہور کے ایک مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیان میں نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون نے بتایا کہ انہیں اور اُن کی ساتھی کو اسلحہ کے زور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق ملزمان نے انہیں باندھ کر تشدد کیا اور اغوا کاروں نے ان کیساتھ زیادتی بھی کی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق ایک خاتون کیساتھ زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے۔ ملزمان نے خواتین سے 15لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا اور ادا نہ کرنے کی صورت میں ان کو قتل کرنے اور انکے جسم کے اعضا فروخت کرنے کی دھمکی بھی دی۔ خواتین کے بیان کے مطابق ملزمان نے ان کے اکاؤنٹ سے 10 ہزار ڈالر اپنے نام منتقل کرائے۔ ڈی آئی جی (آپریشنز) نے یہ بھی بتایا کہ ملزم ڈار کے گھر والوں نے اسے غیر ملکی خواتین کو لاہور ایئر پورٹ پہنچانے پر آمادہ کیا۔ مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیان میں غیر ملکی خواتین نے کہا کہ انہوں نے جب محسوس کیا کہ اُنکا اغوا کار میزبان انہیں ایئرپورٹ کے بجائے کہیں اور لے جا رہا ہے تو انہوں نے گاڑی سے کود کر اور شور مچا کر جان بچائی۔ یہ دونوں خواتین عام خواتین نہ تھیں ‘ معزز خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ پہلے سے ملزمان کے ساتھ کرپٹو کے کاروبار میں شامل تھیں۔اُن کے ساتھ لاہور میں جو کچھ ہوا وہ ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ غیر ملکی خواتین کے اغوا‘ اُن پر تشدد‘ زیادتی اور اُن کے اکاؤنٹ سے ہزاروں ڈالر نکال لینے اور لاکھوں ڈالر بطور تاوان طلب کرنے کی کہانی سے دنیا بھر میں وہ سرمایہ کار کہ جنہیں پاکستانیوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کے بارے میں پہلے ہی تحفظات تھے‘ اُن کے تحفظات میں اس واقعے کے بعد اضافہ ہو ا ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے اسلام آباد اور پنجاب جیسے نسبتاً محفوظ علاقوں میں بھی امن عامہ کی حالت مخدوش ہو چکی ہے۔ روزانہ قانون شکنی کا کوئی نہ کوئی افسوسناک واقعہ ہمیں رُلا جاتا ہے۔ اتوار کے روز وفاقی دارالحکومت میں ایک اغواکار کے چنگل سے ایک لڑکی کو بچاتے ہوئے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو اسلام آباد میں جام شہادت نوش کرنا پڑا۔ روزمرہ کے ان واقعات کی بنا پر پاکستان کا داخلی تاثر یہ ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی نہیں۔ ایلیٹ کلاس اور اُن کی اولادیں اپنے آپ کو ماورائے قانون سمجھتے ہیں۔ ہمارا دنیا میں یہ بھی امیج ہے کہ یہاں عدالتیں آزاد نہیں۔ غیر ملکی خواتین کے اغوا سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا ہے کہ پاکستان میں ایک پھل فروش کو ریڑھی آگے پیچھے کھڑی کرنے پر تو ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے مگر ایلیٹ کلاس کے خلاف قانون اس وقت ہی ڈرتے ڈرتے حرکت میں آتا ہے کہ جب کوئی معاملہ طشت ازبام ہو چکا ہو۔ پاکستان کی معیشت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ ہماری معیشت کا انحصار آئی ایم ایف کے قرضوں اور چلچلاتی دھوپ میں شدید محنت کر کے ہمارے مزدوروں اور ہنر مندوں کے کمائے ہوئے زرِمبادلہ کی ترسیل پر ہے۔ ہماری برآمدات برائے نام اور ہماری درآمدات بیشمار ہیں۔ ہمیں نئی صنعتوں اور قومی پیداوار‘ نیز روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا کرنے کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے۔ اس وقت بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا حجم پاکستان کی قومی پیداوار کے صرف 0.7 فیصد تک محدود ہے۔
پاکستان کے بارے میں بیرونی سرمایہ کاروں کے بہت سے تحفظات ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہاں آئے روز اقتصادی و مالیاتی پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں۔ بھاری ٹیکس اور ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام بھی سرمایہ کاری کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بجلی وگیس کے نرخ بہت بلند ہیں۔یہاں کے عدالتی نظام کو بھی سرمایہ کاری کیلئے فیصلہ سازی کے راستے کا ایک کوہِ گراں سمجھا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ پاکستان میں امن و امان کی غیر تسلی بخش صورتحال بھی بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک منفی فیکٹر ہے۔ جس ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو وہاں بیرونی سرمایہ کار کاروبار یا کسی صنعت میں سرمایہ لگانے سے گریز کرتے ہیں۔ اُن کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے حالات میں ان کا سرمایہ ڈوب بھی سکتا ہے۔ ہم سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر دنیا بھر کے صنعت کار و سرمایہ کار اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ معاشی ترقی اور محفوظ سرمایہ کاری کیلئے سیاسی و اقتصادی‘ دونوں طرح کا استحکام ازبسکہ ضروری ہوتا ہے۔
ہمارے وزیراعظم اربوں ڈالر بطور سرمایہ کاری لانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے جوق در جوق پاکستان آنے کی نوید سناتے رہتے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے سعودی عرب کے بڑے صنعتکاروں کے پاکستان میں آئل ریفائنری لگانے اور معدنیات کی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے بارے میں خوش خبری سنائی تھی مگر عملاً ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ سعودی عرب میں اعلیٰ پیمانے پر کام کرنے والے بعض باخبر دوستوں سے ہمیں معلوم ہوا تھا کہ جب سعودی وزرا اور صنعتکار پاکستان آتے ہیں تو یہاں کے سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کے ذمہ داران سے مل کر خاصے مایوس ہوتے ہیں کیونکہ ان کے بقول پاکستانیوں کے پاس نیک تمنائیں اور اپنے قدرتی وسائل پر فخر و انبساط کا وافر ذخیرہ تو ہوتا ہے مگر فنی بنیادوں پر ترتیب دی گئی فزیبلٹی نہیں ہوتی اور نہ ہی کام کیلئے کوئی منصوبہ بندی۔ ہفتہ رفتہ وزیراعظم نے استنبول میں اعلان کیا کہ پاک ترک سالانہ تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔ انہوں نے استنبول میں سرمایہ کاروں اور ترک کمپنیوں کو پاکستان میں توانائی‘ آبی ذخائر‘ زراعت‘ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام‘ معدنیات و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ تاہم جب ٹیکنیکل کمیٹیوں کی سطح پر بات ہوگی تب معلوم ہوگا کہ کتنے بیرونی سرمایہ کار کتنی بڑی سرمایہ کاری لانے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ ہمارے سرکاری اہلکاروں کو بخوبی معلوم ہوگا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کے یہاں سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں کیا کیا تحفظات ہیں۔ غیر ملکی خواتین کے اغوا کا معاملہ عالمی ایشو بن چکا ہے۔ یہ حکومت کا امتحان ہے کہ وہ جلد سے جلد ملزموں کو‘ چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں‘ کیفرِ کردار تک پہنچاتی ہے یا انصاف کے راستے میں روڑے اٹکاتی ہے۔ سینیٹر رانا ثنا اللہ کا یہ کہنا کہ لاہو میں خواتین کے اغوا کا معاملہ مس ہینڈل ہوا‘ بین السطور ملزموں کی وکالت کی کوشش محسوس ہوتا ہے‘ اور یہ باعث تشویش ہے۔ یہ مقامِ فکر ہے کہ ایلیٹ کلاس کے نوجوان ہر لاقانونیت کو اختیار کر کے اسلحہ اور تشدد کے ذریعے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حکمران قانون کے آگے جھکنے کے بجائے اسے اپنے گھر کی لونڈی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسا ماحول بیرونی سرمایہ کاری کیلئے فرینڈلی نہیں‘ اَن فرینڈلی ہو جاتا ہے جبکہ ہمیں قرضوں اور کشکولِ گدائی سے نجات کیلئے سخت محنت اور بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات قومی سطح پر قومی میثاقِ معیشت کا تقاضا کرتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved