تحریر : شاہد کاردار تاریخ اشاعت     07-07-2026

لاہور کو جدید شہر کیسے بنایا جائے؟

ہم نے گزشتہ کالم میں لاہور شہر کے کچھ قیمتی اثاثوں کا ذکر کیا جن کی استعداد سے فائدہ اٹھانا تو درکنار ان کی بیلنس شیٹ بھی نہیں بنائی گئی۔ یہ ایسے شہری اثاثے ہیں جنہیں ترقی دے کر ہم لاہورکو دنیا کے دیگر ترقی یافتہ شہروں کی طرح ایک جدید شہر میں ڈھال سکتے ہیں۔ ایک ایسا شہر جو اپنے مالی وسائل میں خودکفیل ہو گا اور جسے صوبائی حکومت کی نوازشات کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ اس کی اپنی دولت ہی بہت زیادہ ہے۔ اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہیں۔
مال روڈ سے چوبرجی تک پھیلے ہوئے علاقے کو دیکھیں۔ یہ شہر کی سب سے کم استعمال ہونے والی اور کم قیمت سمجھی جانے والی جائیدادوں میں شامل ہے۔ یہ علاقہ تاریخی عمارتوں‘ اہم سفری رابطوں اور تجارتی مراکز کے قریب واقع ہے اور بڑی حد تک یہاں سرکاری دفاتر اور سرکاری ملازمین کیلئے سرکاری رہائشگاہیں واقع ہیں۔ یہاں نوآبادیاتی دور کے بنگلے اور رہائشی علاقوں کے بلاکس ہیں۔ یہ سب کچھ لاہور کی انتہائی اہم محلِ وقوع رکھنے والی زمین پر واقع ہے لیکن اس سے پبلک کو کوئی آمدن نہیں ہوتی۔ اس زمین کی نئی زون بندی کر کے اور مخلوط استعمال (گھریلو اور تجارتی) والی بلند عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دے کر بہت دولت پیدا کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ کام کر لیے جائیں تو یہاں پر جائیداد کی قیمتیں بڑھ جائیں گی‘ خدمات کا دائرہ وسیع ہوگا‘ نئی معاشی سرگرمیاں شروع ہوں گی اور اردگرد کے بزنس کیلئے لوگوں کی آمدورفت بڑھ جائے گی۔ یوں اس راہداری میں زمین کی قیمت مزید بڑھ جائے گی۔ یہ تبدیلی شہر کی دیگر راہداریوں کیلئے بھی ایک ماڈل بن سکتی ہے۔
مارکیٹ کے مطابق کرائے وصول کرنا‘ جائیداد پر منصفانہ ٹیکس نافذ کرنا‘ سرکاری افسران کو مفت اعلیٰ درجے کی دفتری جگہ اور رہائش فراہم کرنے کا سلسلہ ختم کرنا اور کم استعمال شدہ علاقوں کو زیادہ آبادی والے اور موسمیاتی طور پرحساس شہری اضلاع میں تبدیل کرنے سے لاہور کا ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا اور اس کی ترقی کیلئے نجی سرمایہ کاری راغب ہو گی۔ یہ کام شہر کیلئے متحرک شہری مرکز کی تشکیل میں مدد دے گا جس کی شہر کو فوری ضرورت ہے۔ اور یہ سب کام تاریخی عمارتوں اور پبلک کیلئے سر سبز پارکس وغیرہ کو چھیڑے یا نقصان پہنچائے بغیر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کہ سرکاری دفاتر‘ بشمول سیکرٹریٹ‘ اپنی موجودہ جگہوں پر برقرار رہیں۔ شہر کو چاہیے کہ یا تو ان مقامات پر مکمل پراپرٹی ٹیکس عائد کرے یا ان جگہوں کو بلند وبالا عمارتوں کے کمپلیکس میں تبدیل کر دے۔ بعد میں ان عمارتوں کو‘ انہی سرکاری اداروں کو‘ تجارتی بنیادوں پر کرائے پر دیا جائے۔ دریائے راوی کے کنارے کو استعمال میں لانے کی نمایاں تجارتی اور سیاحتی صلاحیت بھی موجود ہے۔ یہ زمین اس وقت نظر انداز شدہ علاقہ ہے۔ اسے اگر ترقی دی جائے تو وہ معاشی سرگرمیوں کی ایک پھلتی پھولتی راہداری میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ دریا کے کنارے پر کثیر المقاصد منصوبوں کے مواقع موجود ہیں مثلاً تجارتی پلازے‘ دفتری مراکز‘ پرچون دکانیں‘ ہوٹل وغیرہ۔ یوں لاہور کی معیشت میں تنوع پیدا ہو گا جس سے سرمایہ کاری اس کی طرف راغب ہو گی‘ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور آمدنی کے ذرائع بڑھیں گے۔ معیاری انفراسٹرکچر بننے کے بعد یہ علاقہ ترقی پذیر کاروباری ضلع میں تبدیل ہو جائے گا جو پہلے سے موجودعلاقوں کو بھی اوپر اٹھائے گا۔ مجموعی طور پر ایک دلکش اور پائیدار ماحول فراہم ہو جائے گا۔
لاہور جیسے شہر کیلئے سیاحت کے مواقع بے حد وسیع ہیں۔ یہاں پہلے ہی شاہی قلعہ‘ بادشاہی مسجد‘ مقبرہ جہانگیر اور شالامار باغ جیسے ثقافتی خزانے موجود ہیں۔ دریا کے کنارے کی ترقی سے پیدل راہداریوں اور ثقافتی تقریبات (میلوں‘ فنونِ لطیفہ کی نمائشوں) کیلئے نئے مقامات مہیا ہو جائیں گے۔ اس سے شہر کی دلکشی میں اضافہ ہو گا۔ پانی پر مبنی تفریح کی سرگرمیوں‘ فوڈ سٹریٹس اور کھیل کے مقامات بننے سے دریا کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور لاہور کی شناخت ایک زندہ دل شہر کے طور پر زیادہ نکھر کر سامنے آئے گی۔ تجارت اور سیاحت کے درمیان اس طرح کی ہم آہنگی سے شہر کا پوٹینشل مزید بڑھ جائے گا اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے شہر میں ہوٹلوں کے کاروبار اور تفریحی صنعتوں کو سہارا ملے گا جبکہ سیاحت سے پرچون کاروبار اور خدمات کے شعبوں کو تقویت ملے گی۔ خلاصہ یہ کہ دریائے راوی کے کنارے کی ترقی لاہور کے شہری منظرنامے کو ازسرنو متعین کر سکتی ہے۔ یہ ترقی شہر کی تصویر کو ایک جدید اور عظیم شہر میں تبدیل کر سکتی ہے جو معاشی ترقی اور ثقافتی توانائی کے درمیان توازن پر قائم ہو۔ لاہور کے پاس اپنے وسائل خود متحرک کرنے‘ اپنے اثاثوں کی مکمل استعداد سے فائدہ اٹھانے اور ان کا انتظام کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ لاہور کا یہ اختیار پنجاب کے باقی حصوں کیلئے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ اس سے کم ترقی یافتہ اضلاع کیلئے فنڈز میسر ہوں گے جہاں ترقیاتی کاموں کی ضرورت کہیں زیادہ ہے اور سرکاری سرمایہ کاری کے نتائج بھی کہیں زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں۔
اپنے مادی اثاثوں کے علاوہ لاہور کے پاس غیر مادی دولت کا بھی بھرپور ذخیرہ موجود ہے جو شاذ ونادر ہی کسی مالی حساب کتاب میں نظر آتا ہے۔ اس کی جامعات اور تحقیقی ادارے‘ ہنرمند افرادی قوت کا وسیع ذخیرہ‘ اس کی مارکیٹیں اور تجارتی نیٹ ورک‘ اس کی عدالتیں اور قانونی ڈھانچہ‘ اس کا ذرائع ابلاغ کا نظام‘ اس کے ثقافتی ادارے اور بڑھتی ہوئی تخلیقی صنعتیں اس کے غیر مادی اثاثے ہیں۔ اگرچہ ان اثاثوں کی مالی قدر متعین کرنا مشکل ہے لیکن یہ مکمل طور پر حقیقی اثاثے ہیں کوئی خیالی بات نہیں۔ یہ غیر مادی اثاثے معلومات کے بہاؤ کو بہتر اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بناتے ہیں۔ ان غیر مادی اثاثوں کی وجہ سے شہر کی وہ معاشی توانائی برقرار رہتی ہے جو لاہور کو پنجاب کی معیشت کا انجن بناتی ہے۔ جدید شہر صرف ٹیکسوں کے ذریعے اپنی مالی ضروریات پوری نہیں کرتے۔ کامیاب شہری حکومتیں اپنے شہروں کو معاشی پلیٹ فارم میں تبدیل کر کے آمدن پیدا کرتی ہیں۔ وہ تقریبات‘ سیاحت اور عوامی مقامات کے مؤثر استعمال اور جدید مالی ذرائع کے ذریعے شہری سرگرمیوں کو باقاعدہ طور پر مالی فائدے میں بدلتی ہیں۔ جدید شہری مالیات کا مقصد صرف رقم جمع کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا شہر تعمیر کرنا ہوتا ہے جو حقیقی معنوں میں بہتر طور پر کام کرے جہاں شہری خوشی سے رہنا پسند کریں اور جہاں دنیا بھر کے لوگ آنا اور سرمایہ کاری کرنا چاہیں۔
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ایسا سرکاری نظام موجود ہے جو اس کے شہروں کو اس نوعیت کی جدید شہری معیشت پیدا کرنے سے منظم طور پر روکتا ہے۔ ان رکاوٹوں میں مختلف سرکاری بندشیں‘ مختلف اداروں سے کسی نہ کسی کام کی اجازت لینا‘ این او سی لینا وغیرہ شامل ہیں۔ آج کا لاہور بنیادی طور پر اشرافیہ کی سہولت کیلئے ترتیب دیا گیا ایک شہر ہے جہاں عام شہری گہری مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ انہیں صرف ناقص خدمات وسہولتیں دستیاب ہیں۔ یہ شہر اب بھی بیسویں صدی کے ایک ایسے ماڈل میں پھنسا ہوا ہے جو پوشیدہ ٹیکسوں‘ افسر شاہی کے کنٹرول اور ادارہ جاتی جمود پر مبنی ہے۔ یہ ان اثاثوں سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہے جن پر اس کا وجود قائم ہے۔ جو بات لاہور کیلئے درست ہے‘ وہی پاکستان کے دیگر شہروں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ایک بااختیار مقامی حکومت ہی اس معاشی ترقی کو ممکن بنا سکتی ہے ۔ ایسی مقامی حکومت جو شفاف اثاثہ جاتی انتظام اور حقیقی مالی خودمختاری پر قائم ہو۔ جب تک پاکستان اپنے شہری مراکز کی استعداد کو استعمال نہیں کرتا اور ایسے پیشہ ور شہری ادارے قائم نہیں کرتا جو اراضی کامؤثر انتظام کر سکیں‘ سیاحت کو فروغ دے سکیں‘ اور جدید آمدنی کے ذرائع استعمال کر سکیں‘ اس وقت تک اس کے شہر مالی طور پر کمزور‘ ثقافتی طور پر مدہم اور عالمی سطح پر غیر نمایاں رہیں گے۔ یہ شہر جو آبادی میں بڑے ہیں لیکن اپنے وجود کے اظہار‘ اپنی آمدن پیدا کرنے اور مواقع کے لحاظ سے افسوسناک حد تک چھوٹے کردیے گئے ہیں۔
(اس میں مضمون میں ڈاکٹرندیم الحق کی معاونت شامل تھی)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved