تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     07-07-2026

ایران کی نظریاتی فتح اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل

جب کوئی لیڈر اپنی قوم کو نظریاتی اساس پر متحد اور فکری طور پر مستحکم کر دیتا ہے تو وہ قوم محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں رہتی بلکہ ایک ناقابلِ تسخیر تحریک میں بدل جاتی ہے۔ دنیا کے سیاسی نقشے پر ابھرنے والی کئی ریاستوں کا وجود اور ان کی بقا مادی طاقت کے بجائے نظریاتی پختگی کی مرہونِ منت رہی ہے۔ آزادی کی طویل جدوجہد ہو‘ خود مختار مملکت کا حصول ہو یا پھر بیرونی جارحیت کے خلاف بقا کی جنگیں‘ ان تمام معرکوں میں حتمی فتح مادی وسائل کی نہیں بلکہ نظریاتی استقامت کی ہوئی ہے۔ فکری مضبوطی قوموں کو وہ داخلی توانائی فراہم کرتی ہے جو انہیں بیرونی دباؤ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیتی ہے۔
تہران میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی الوداعی تقاریب اور جنازے کے تاریخی اجتماع نے عالمی مبصرین کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ ایران کی سڑکوں پر اُمڈ آنے والا عوامی سمندر اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ایرانی عوام اپنے قائد کے بعد ان کے نظریات سے پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ بین الاقوامی منظرنامے پر یہ اجتماع محض ایک سیاسی رہنما کا آخری سفر نہیں تھا بلکہ پورے فکری نظام کے ساتھ عوامی وفاداری کا غیر متزلزل مظاہرہ تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ اصل معرکہ آرائی محض عسکری تنصیبات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی طور پر نظریاتی جنگ ہے۔ ایک اہم شخصیت کا بظاہر منظرنامے سے ہٹ جانا سٹرٹیجک نقطۂ نظر سے حریف قوتوں کیلئے وقتی کامیابی ہو سکتا ہے لیکن اگر اس شخصیت کا چھوڑا ہوا نظریہ عوام کے دلوں میں زندہ رہے تو وہ رہنما فکری محاذ پر ہمیشہ کیلئے امر ہو جاتا ہے۔ زمینی اور مادی لحاظ سے ایران کو یقینا بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا لیکن سٹرٹیجک اور سیاسی بقا کے اصولوں کے مطابق ایران کی اصل فتح اس کی داخلی استقامت اور فکری یکجہتی میں ہے‘ جس کا مظاہرہ اس کے عوام نے کیا۔ سپریم لیڈر نے اپنی قوم کو جس نظریاتی سانچے میں ڈھالا‘ اس نے داخلی طور پر معاشرے کو اتنا مضبوط کر دیا کہ کسی بھی بیرونی طاقت کیلئے وہاں دراڑیں ڈالنا ناممکن حد تک مشکل ہو چکا ہے۔ اس غیرمعمولی تاریخی موڑ پر ایران کے داخلی منظرنامے پر ایک اور اہم تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ جنازے کے اس بڑے اجتماع نے مسلم اُمہ بلکہ دنیا کے سیاسی مبصرین کو بھی حیرت زدہ کر دیا۔ اس مرحلے پر ایران کی وہ سٹرٹیجک اور سیاسی قیادت یکجا ہو کر منظرِ عام پر آئی جو خطے میں جاری کشیدگی اور سکیورٹی پروٹوکولز کے باعث اب تک پسِ منظر میں کام کر رہی تھی۔ اس موقع پر دیے جانے والے بیانات اور سٹرٹیجک اشارے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے سیاسی و عسکری منظرنامے کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے انتہائی سخت اور واضح مؤقف اپناتے ہوئے اعلان کیا کہ سابق رہبرِ اعلیٰ کی شہادت اور خطے میں ہدف بنانے کی کارروائیوں کے ذمہ داران کا تعاقب ہر سطح پر کیا جائے گا اور وہ کسی صورت اپنے انجام سے نہیں بچ سکیں گے۔ یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عسکری قیادت دفاعی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ جارحانہ متبادل پر بھی مکمل آمادگی رکھتی ہے۔ اسی طرح ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے اپنے سیاسی و آئینی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہید رہبرِ اعلیٰ کے مشن کو پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور عوام سے کیے گئے تمام تر وعدوں کو نبھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس پرچم کی سربلندی کیلئے ایرانی قیادت نے دہائیوں تک جدوجہد کی‘ اسے سرنگوں نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایرانی قیادت کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ نظام کے کلیدی ستون اپنے نظریے پر قائم ہیں۔
شیعہ سیاسی فکر اور ایرانی ثقافت میں علامتی پیغامات کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں جمع ہونے والے لاکھوں سوگواروں کے ہاتھوں میں لہراتے ہوئے سرخ پرچم محض احتجاج کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ یہ دنیا کو دیا جانے والا واضح پیغام تھا۔ ایرانی تاریخ اور اسلامی روایات میں سرخ رنگ کا پرچم اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ کسی کا خون ناحق بہایا گیا ہے اور جب تک اس کا قصاص نہ لے لیا جائے یہ پرچم سرنگوں نہیں کیا جاتا۔ ان سرخ پرچموں پر درج نعروں نے اس پورے اجتماع کو شدید جذباتی اور فکری توانائی فراہم کی۔ ان پر طویل عرصے سے مستعمل روایتی نعرہ ''یا لثارات الحسین‘‘ (اے حسین کا بدلہ لینے والو!) نمایاں تھا‘ جو کربلا کے تاریخی پسِ منظر اور مظلومیت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کے استعارے کو زندہ کرتا ہے۔ تاہم اس بار اس روایتی بیانیے کے ساتھ ایک نیا نعرہ ''یا لثارات الخامنہ ای‘‘ (اے خامنہ ای کا بدلہ لینے والو) بھی گونجتا رہا۔ اہلِ تشیع کی سیاسی تاریخ میں یہ نعرہ تاریخی طور پر جنگجوؤں کو مشترکہ ہدف کیلئے متحرک کرنے اور انتقام کیلئے صف آرا کرنے کا سب سے بڑا محرک رہا ہے۔ اب اس نعرے کو اپنے شہید سپریم لیڈر کے نام کے ساتھ جوڑنا اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اپنی قیادت کے نقصان کو محض ایک سیاسی سانحہ نہیں سمجھ رہے بلکہ اسے ایک نظریاتی موڑ قرار دے کر حریف طاقتوں سے براہِ راست اور سخت ترین تلافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تہران کے اس تعزیتی اجتماع کی ایک اور اہم خاصیت وہاں مختلف نوعیت کے پرچموں کی بیک وقت موجودگی تھی۔ ان سرخ پرچموں کے دوش بدوش جہاں ایران کا قومی پرچم لہرایا جا رہا تھا وہیں پیلے رنگ کے پرچم بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جو لبنانی تنظیم حزب اللہ اور خطے میں موجود پورے مزاحمتی بلاک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تمام پرچموں کا یکجا ہونا عالمی برادری بالخصوص مغربی اتحاد پر یہ واضح کرنا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادی اس بڑے نقصان پر نہ تو خاموش بیٹھیں گے اور نہ ہی ان کے دفاعی نیٹ ورک میں کوئی کمزوری آئی ہے۔ یہ اتحاد ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی سطح پر ایران کے نان سٹیٹ و سٹیٹ الائنسز مستحکم اور مکمل رابطے میں ہیں اور کسی بھی بڑی عسکری مہم جوئی کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان بیانات وعلامات سے واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور سرد جنگ کا یہ باب اتنی آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے۔
جہاں ایک طرف عوامی سطح پر انتقام اور عسکری کارروائیوں کا دباؤ عروج پر ہے وہیں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے متوازن رخ اختیار۔ باقر قالیباف نے معاملات کو سلجھانے کیلئے سفارتکاری کے دروازے کھلے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی سابقہ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد موجودہ حالات میں مشکل ضرور ہے لیکن اسے ناممکن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایرانی سپیکر کا حقیقت پسندانہ مؤقف اس بات کی علامت ہے کہ ایرانی فیصلہ سازوں کا ایک حصہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تحفظ اور ان کا منطقی نتیجہ صرف اور صرف میز پر ہونے والی مؤثر سفارتکاری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اس وقت دوراہے پر ہے۔ ملک کے اندر جذباتی لہر اور سخت گیر مؤقف رکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے جو فوری انتقام کے خواہاں ہیں لیکن دوسری طرف ایسے حقیقت پسند مدبر بھی موجود ہیں جو بین الاقوامی تعلقات کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اندھا دھند عسکری اقدامات اور مسلسل جنگیں ملکوں کو جنگی‘ معاشی تباہی اور داخلی انتشار کی طرف دھکیل دیتی ہیں‘ جیسا کہ ماضی قریب میں افغانستان کے تلخ تجربات سے ثابت ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس دانشمندانہ سفارتکاری طویل ترین جنگوں کے ابواب کو بھی بند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اب یہ ایرانی قیادت پر منحصر ہے کہ آیا وہ عوامی جذبات کی رو میں بہہ کر ملک کو طویل مدتی بحرانوں اور ممکنہ جنگ کی دلدل میں دھکیلتے ہیں یا پھر طاقت کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے سفارتکاری کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر کے ملک کو امن اور معاشی استحکام کا گہوارہ بناتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved