تحریر : حافظ محمد ادریس تاریخ اشاعت     07-07-2026

کیمپس میں نمازِ جمعہ کی امامت

چہار جانب سے منفی خبروں کے بیچ یہ طے پایا کہ ہم سب وی سی صاحب کے ہاں جائیں اور ان سے درخواست کریں کہ پریس ریلیز واپس لے لیں۔ تنویر عباس تابش (نائب صدر) کو بھی بلا لیا گیا۔ ہمارا علامہ صاحب کے ہاں جانا اور وہاں پر بدقسمتی سے بعض طلبہ کا اشتعال میں آ جانا ایسا موڑ ثابت ہوا کہ سب کچھ ہی تلپٹ ہو کر رہ گیا۔ ہم سلاخوں کے پیچھے چلے گئے اور یہ واقعہ اس قدر غلط انداز میں اخبارات میں چھپا اور لوگوں نے اسے اس قدر اچھالاکہ ساری حقیقت پروپیگنڈے کے کیچڑ میں دب گئی۔ ہم جیل میں ہونے کی وجہ سے کوئی وضاحت بھی نہ کر سکتے تھے۔ یہ واقعہ جس طرح اخبارات میں چھپا اور جس طرح مولانا مودودیؒ کے سامنے بیان کیا گیا وہ نہایت غلط اور قابلِ افسوس تھا۔ مولانا مرحوم نے اس واقعہ کو سن کر اور اخبارات میں خبریں دیکھ کر ہمارے خلاف جو سخت بیان دیا تھا وہ ریکارڈ میں موجود ہے اور ہمارے خلاف اس کے حوالے دیے جاتے ہیں ۔ البتہ مولانا کو جب ساری صورتحال کا پتا چلا تو انہیں اپنے اس بیان پر افسوس ہوا۔ انہوں نے صفدر علی چودھری کی معرفت جیل میں مجھے پیغام بھیجا کہ وہ اپنے انتہائی عزیز ساتھی (چودھری غلام محمد) کی وفات پر کراچی سے اسی شام واپس آئے تھے اور سخت پریشان تھے اور جس انداز میں ان تک بات پہنچی تھی اس سے انہیں بڑا دکھ ہوا تھا۔ جو کچھ پہلے کہا جا چکا تھا اس پر مزید وضاحتی بیان کی ہم نے کوئی ضرورت نہ سمجھی اور مولانا مرحوم کے شایان شان بھی نہیں تھا کہ اپنے بیان کی تردید کرتے۔ مولانا نے پیغام بھیجا کہ ان کو حقائق کا علم ہو گیا ہے اور میرا اور میرے سب ساتھیوں کا کھانا عید کے دن مولانا کے گھر سے آئے گا۔ ہماری گرفتاری کے تیسرے یا چوتھے روز عید قربان تھی۔ عید کے روز مولانا کے ڈرائیور بابا عبدالغفور کے ساتھ صفدر چودھری صاحب اور محترم فاروق مودودی ہم سب کے لیے پُرتکلف کھانا لے کر آئے جس سے ہمارے علاوہ بعض ساتھی قیدی بھی لطف اندوز ہوئے۔
بات ہو رہی تھی علامہ علاء الدین صدیقی صاحب کے گھر جانے کی۔ علامہ صاحب سے ان کے دفتر کے علاوہ بارہا میں ان کے گھر میں بھی مل چکا تھا۔ اس سے قبل دو ملاقاتیں ان کے گھر میں رات ہی کے وقت ہو چکی تھیں۔ ایک مرتبہ تو نیوکیمپس کے کچھ طلبہ کا کوئی ارجنٹ مسئلہ تھا جس کی صحیح نوعیت اس وقت مجھے یاد نہیں۔ دوسری مرتبہ 1969ء کے رمضان میں طلبہ کے ایک وفد کے ہمراہ رات کو علامہ صاحب سے ملا تھا۔ اس مرتبہ جو مسئلہ درپیش تھا وہ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے۔ یونیورسٹی (نیوکیمپس) میں ابھی مسجد تعمیر نہ ہوئی تھی‘ نماز جمعہ کا خطبہ، جماعت اور اردو تقریر محترم پروفیسر خالد علوی صاحب کے ذمہ تھی۔ پروفیسر خالد علوی صاحب کا انداز بیاں میٹھا جیسے شہد‘ طرزِ استدلال دل ودماغ کے لیے مؤثر جیسے زمین کے لیے ابرِ رحمت اور زورِ خطابت باطل کے لیے شمشیر برہنہ! ترقی پسند کمیونسٹ طبقات کو یہ خطاب اپنے خلاف نظر آتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ جامعہ کے اندر جمعہ کی نماز کے ذریعے مخصوص نظریات کا پرچار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بارہا گڑبڑ کرنے کی کوشش بھی کی مگر کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ بالآخر انہوں نے وی سی صاحب پر زور ڈالا کہ خالد علوی کا خطاب بند کیا جائے۔ الزام عائد کیا گیا کہ وہ فرقہ وارانہ اور جانبدارانہ تقریر کرتے ہیں۔ چونکہ اس وقت باقاعدہ مسجد نہیں تھی‘ سو اس دبائو کے تحت علامہ صاحب نے علوی صاحب کو خطاب کرنے سے روک دیا۔
یہ ماہِ رمضان کا جمعۃ الوداع تھا جب علوی صاحب کو خطاب سے منع کیا گیا اور عجیب بات یہ کہ ان کی جگہ کوئی متبادل انتظام بھی نہ کیا گیا۔ غالباً یہ سمجھ لیا گیا ہو گا کہ کوئی یہاں باقاعدہ مسجد تو ہے نہیں کہ متبادل انتظام ضروری ہو۔ یہ سوچا گیا ہوگا کہ متبادل انتظام سے یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ علوی صاحب کو قصداً روکا گیا ہے۔ جب وہ نہیں آئیں گے تو سمجھا جائے گا کہ وہ کسی مجبوری کی وجہ سے غیر حاضر ہو گئے۔ وہاں موجود کوئی اور شخص خطبہ پڑھ کے جماعت کرا دے گا یا پھر لوگ کسی اور مسجد میں چلے جائیں گے۔ یونیورسٹی کی جامع مسجد اس وقت تک تعمیر نہ ہوئی تھی۔ ہاسٹلوں میں پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرنے کیلئے کچھ بڑے بڑے کمروں میں عارضی مساجد بنائی گئی تھیں۔ ہم ہاسٹل نمبر ایک کی مسجد میں نمازِ تراویح پڑھتے تھے۔
جمعرات کی شام کو نیوکیمپس میں افطار کا ایک پروگرام بنایا گیا تھا ۔افطار کے بعد میں نیو کیمپس ہی میں تھا‘ تراویح کے بعد پتا چلا کہ پروفیسر علوی کو خطبۂ جمعہ سے روک دیا گیا ہے۔ مجھے اس بات پر بڑا دکھ ہوا۔ میں نے دوستوں سے کہا کہ کل جمعہ ہے‘ آئو ابھی وی سی صاحب سے جا کر بات کریں۔ ہم اسی وقت علامہ صاحب کی کوٹھی پر پہنچے‘ ان سے ملاقات کی اور صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ علامہ صاحب نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں! علوی صاحب ہی جمعہ پڑھاتے ہیں اور وہی پڑھائیں گے۔ ان کی زبانی یہ بات سن کر ہم مطمئن ہو گئے اور واپس آ گئے۔ وہ رات میں نے نیوکیمپس ہاسٹل نمبر ایک ہی میں گزاری۔
اگلے روز علوی صاحب خلاف معمول نیوکیمپس میں نہ پہنچے‘ حالانکہ وہ ہر جمعہ کو وقت سے پہلے ہی آ جایا کرتے تھے اور سٹوڈنٹس ٹیچر سنٹر (STC) کے کسی دفتر میں بیٹھ جاتے تھے۔ علوی صاحب کی رہائش اونچی مسجد‘ اندرون بھاٹی گیٹ میں تھی۔ ہم نے دو طلبہ کو رکشے پر روانہ کیا اور کہا کہ بھاٹی گیٹ سے ٹیکسی لے کر علوی صاحب کو فوراً ساتھ لے آئیں۔ ہم چشم براہ تھے کہ تقریر کا وقت ہو گیا اور جانے والے ساتھی واپس نہ آئے۔ اس روز ایک تو جمعۃ الوداع تھا جس میں روایتی طور پر مسلمان بڑی تعداد میں آتے ہیں‘ دوسرا ترقی پسندوں کی بن آئی تھی اس لیے وہ بھی دریوں پر براجمان تھے۔ ہنگامی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ میں تقریر شروع کر دوں‘ اگر علوی صاحب آ گئے تو ان کو خطاب کی دعوت دوں گا ورنہ میں ہی خطبہ اور نماز پڑھائوں۔ علوی صاحب کو نہ آنا تھا نہ آئے‘ مجھے ہی سارے فرائض انجام دینا پڑے۔ میرے نشست پر بیٹھنے اور تقریر شروع کرنے کے وقت ایک آدھ شخص نے کچھ کہنا چاہا مگر دیگر نمازیوں نے اسے چپ کرا دیا۔ اس وقت جمعہ کی جماعت کھڑی ہو رہی تھی جب دونوں فرستادگان خالی ہاتھ واپس آئے۔ نماز کے بعد انہوں نے بتایا کہ علوی صاحب نہیں مل سکے‘ نہ اپنے گھر میں تھے اور نہ شعبہ اسلامیات (اولڈ کیمپس) میں۔ معمول یہ تھا کہ ہر جمعہ کو یونیورسٹی کی گاڑی علوی صاحب کو ان کے گھر یا اولڈ کیمپس سے لے کر نیوکیمپس آتی اور نماز کے بعد واپس بھاٹی گیٹ انہیں چھوڑنے کے لیے جاتی تھی۔ اس روز گاڑی وہاں گئی تو سہی مگر معمول کے برعکس علوی صاحب کو علامہ صاحب نے اپنے پاس ہائیکورٹ کے قریب والی مسجد (جامع مسجد شاہ چراغ) میں بلا بھیجا۔ علامہ صاحب مدتِ مدید سے اس مسجد میں جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔ ان کا خطاب بلاشبہ بہت دلنشین ہوا کرتا تھا اور لوگ جوق در جوق اس مسجد میں جمعہ پڑھنے آتے تھے۔
ہم دس بارہ طلبہ مسجد شاہ چراغ روانہ ہوئے۔وہاں پہنچے تو نماز ہو چکی تھی‘ البتہ ایک حجرے میں چیدہ چیدہ لوگ بیٹھے تھے اور علوی صاحب پیر مہر علی شاہؒ کا نعتیہ کلام سنا رہے تھے۔ علامہ صاحب نے اشارے سے مجھے قریب بلایا اور اپنے پاس بٹھا لیا۔ علوی صاحب نے اپنے تسلسل‘ سوز و گداز اور خوش الحانی میں فرق نہ آنے دیا۔ البتہ میری طرف دیکھ کر زیر لب عجیب انداز میں مسکرائے‘ اسی مسکراہٹ میں وہ مجھ سے سب کچھ کہہ گئے۔ علامہ صاحب ذہین آدمی تھے اور رات والی گفتگو بھی تازہ تھی‘ فوراً سمجھ گئے کہ ہم کیوں حاضر ہوئے ہیں۔ الفاظ تو مجھے پوری طرح یاد نہیں تاہم مفہوم کچھ یوں تھا کہ جمعۃ الوداع کو نعت خوانی کی محفل بعض دوستوں کی فرمائش پر رکھی گئی تھی جس کیلئے دوستوں نے علوی صاحب کی صوت و لحن میں یہ کلام سننے کی خواہش ظاہر کی۔ علوی صاحب کے نیوکیمپس نہ جانے کی یہ توجیہ ممکن ہے بعض لوگوں کو قائل کرنے والی ہو‘ بہرحال مجھے تو سخت افسوس اور مایوسی ہوئی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved