بیڈ گورننس کی کئی نشانیاں ہیں‘ سب سے نمایاں یہ کہ عوام ناخوش ہو کر سڑکوں پر نکل آئیں۔ بدترین فیڈ بیک یہ ہے کہ وہ دھرنا دے دیں۔ نااہلی یہ ہے کہ ایک سال بعد بھی انہیں مطمئن نہ کیا جا سکے۔ اس سے زیادہ نااہلی یہ ہے کہ آگ بجھانے کے بجائے جلتی پر تیل کا کام کیا جائے۔ بزرگ سیاستدانوں سے عموماً فہم و فراست کی توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی تنازع کے دوران کوئی معقول حل پیش کریں گے‘ لیکن خواجہ آصف کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج کے دوران ان کی طرف سے ایک ایسا بیان دیا گیا کہ دو ہفتے سے زائد گزر جانے کے باوجود کشمیری عوام کا غصہ ٹھنڈا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ مگر خواجہ آصف کو اس کا ذمہ دار کون ٹھہرائے گا‘ کیونکہ ان کا تعلق نواز شریف گروپ سے ہے‘ شاید وزیر اعظم بھی ان کو کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کیا خواجہ آصف کی طرف سے یہ بیان اپنے حلقے کی سیاست کو بچانے کیلئے دیا گیا؟ اور کیا سابق وزیراعظم پاکستان‘ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کی آنکھ سے کشمیر اس وقت اوجھل ہے؟ جب آزاد جموں و کشمیر انتخابی‘ عوامی اور آئینی بحران کے نازک موڑ پر کھڑا ہے؟ یہ سوالات جذباتی ضرور ہیں مگر بے بنیاد نہیں۔ جب ایک وفاقی وزیر قومی اسمبلی کے فلور پر مہاجر نشستوں کا دفاع کرتے ہوئے اپنے شہر‘ اپنے حلقے اور وہاں آباد کشمیری مہاجرین کا حوالہ دیتا ہے تو آزاد کشمیر میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کیا قومی قیادت پورے کشمیر کو دیکھ رہی ہے یا صرف اپنے ووٹ بینک کو؟ خواجہ آصف نے کہا کہ سیالکوٹ میں کشمیری مہاجرین کی بڑی تعداد جموں سے آئی اور انہوں نے قربانیاں دیں‘ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب بات کشمیر کی ہو تو بات صرف مہاجر اور مقامی کی نہیں ہونی چاہیے‘ بات وحدت‘ انصاف اور قومی ذمہ داری کی ہونی چاہیے۔آزاد جموں و کشمیر اس وقت ایک ایسے سیاسی دوراہے میں کھڑا ہے جہاں ایک طرف انتخابات ہیں‘ دوسرے طرف عوامی احتجاج اور بیچ میں 12 مہاجر نشستوں کا تنازع‘ اور اوپر سے سیاسی جماعتوں کی اپنی اپنی مصلحتیں۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی 2026ء کو ہونے جا رہے ہیں۔ کل 45 نشستوں میں 33 نشستیں آزاد کشمیر کے اندرونی حلقوں سے جبکہ 12 نشستیں پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے مہاجرین کیلئے مخصوص ہیں۔ یہی 12 نشستیں اس وقت کشمیر میں سیاسی بحران کا محور بنی ہوئی ہیں۔ یہاں سب سے پہلے اصولی بات واضح ہونی چاہیے۔ آزاد کشمیر کا عام شہری‘ اگر وہ بجلی‘ آٹے‘ ٹیکس‘ روزگار‘ صحت‘ تعلیم‘ نمائندگی یا حکمرانی پر سوال اٹھاتا ہے تو یہ اس کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ اگر ایک دکاندار‘ مزدور‘ طالب علم یا سرکاری ملازم یہ پوچھتا ہے کہ اسے سستی بجلی کیوں نہیں ملتی‘ حکومتی وسائل کہاں خرچ ہوتے ہیں‘ سیاسی اشرافیہ کی مراعات کیوں برقرار ہیں‘ یا اس کے مستقبل کا فیصلہ اس سے پوچھے بغیر کیوں کیا جاتا ہے تو اس سوال کا جواب دلیل سے آنا چاہیے‘ لاٹھی سے نہیں۔مگر اسی کے ساتھ ایک دوسری لکیر بھی کھینچنا ضروری ہے۔ عوامی حقوق کی تحریک اور انتہا پسند بیانیہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ احتجاج آئینی حق ہے مگر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا‘ ایمبولینس‘ ہسپتال‘ کاروبار اور عام شہری کو متاثر کرناعوامی حق کی نمائندگی نہیں کر تا۔ جو شخص کشمیری عوام سے محبت کرتا ہے‘ وہ ان کی تحریک کو تشدد‘ نفرت اور بیرونی پروپیگنڈا سے بھی بچانا چاہے گا۔ حکومت کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 36 یا 37 تسلیم کیے جا چکے ہیں جبکہ اصل اختلاف مہاجر نشستوں جیسے آئینی معاملے پر باقی ہے۔آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے جون 2026ء میں واضح کیا کہ 12مہاجر نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے ‘ انہیں انتظامی یا ایگزیکٹو آرڈر سے ختم نہیں کیا جا سکتا‘ اس کیلئے آئینی ترمیم درکار ہے۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ سڑکوں پر شور سے نہیں بلکہ آئینی راستے سے حل ہوگا۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے انتخابات میں سنجیدہ ہے‘ پارٹی ٹکٹوں کے انٹرویوز لاہور میں ہوئے‘ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس ہوئے‘ تقریباً 90 فیصد ٹکٹ فائنل ہونے کی خبریں بھی آئیں مگر عام کشمیری کے ذہن میں سوال ہے کہ جب آزاد کشمیر میں احتجاج‘ گرفتاریاں‘ انتخابی بے یقینی اور آئینی تنازع عروج پر ہے تو (ن) لیگ کے صدر نوازشریف ا ور دیگر مرکزی قیادت زمین پر کیوں کم دکھائی دیتی ہے؟ اور تو اور پی ٹی آئی کا مشروط بائیکاٹ بھی اسی منظرنامے کا حصہ ہے۔ 2021ء میں پی ٹی آئی 26 نشستوں کے ساتھ آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری مگر اندرونی تقسیم‘ فارورڈ بلاک‘ وزارتِ عظمیٰ کی تبدیلیوں‘ قانونی رکاوٹوں اور انتخابی نشان کے مسائل نے اس کی پوزیشن کمزور کر دی۔ اب بائیکاٹ کو پارٹی عوامی یکجہتی کہتی ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اگر بڑی جماعتیں میدان سے باہر ہوں گی‘ اگر لوگ آزاد حیثیت سے لڑیں گے‘ اگر فارم 45 پر دوبارہ تنازعات اٹھیں گے تو کیا نئی اسمبلی عوامی اعتماد حاصل کر سکے گی؟یہاں احتجاج کرنے والوں کا بھی امتحان ہے۔ اگر ان کی تحریک واقعی عوامی حقوق کیلئے ہے تو اسے واضح طور پر اعلان کرنا چاہیے کہ یہ تحریک پاکستان مخالف نہیں‘ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت نہیں پھیلا رہی‘ تشدد کو قبول نہیں کرتی اور کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔ اگر کچھ عناصر کشمیر کے عوامی مسئلے کو پاکستان دشمنی میں بدلنے کی کوشش کریں تو تحریک کی قیادت کو سب سے پہلے ان سے لاتعلقی اختیار کرنی چاہیے۔
آزاد کشمیر کا مسئلہ صرف اندرونی سیاست نہیں عالمی منظرنامہ بھی ہے۔ بھارت ایسے ہر بحران سے پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آزاد کشمیر میں بدامنی یا پاکستان مخالف نعروں کی وڈیوز وائرل ہوں گی تو دہلی کا میڈیا اسے اپنے مقصد کیلئے استعمال کرے گا۔ اس لیے اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ عوامی حقوق بھی تسلیم ہوں اور قومی وحدت بھی برقرار رہے۔ آج آزاد کشمیر کو کسی سیاسی نعرے کی نہیں بلکہ ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔ حکومت عوامی مطالبات کی مکمل فہرست جاری کرے‘ مہاجر نشستوں پر آئینی مکالمہ شروع ہو‘ مقامی نمائندگی کے خدشات دور کیے جائیں‘ مہاجر کشمیریوں کی تاریخی حیثیت محفوظ رکھی جائے۔ بجلی‘ آٹا‘ ٹیکس‘ روزگار‘ صحت اور تعلیم پر قابلِ عمل روڈ میپ دیا جائے‘ اور انتخابی عمل کو فارم 45 سے لے کر حتمی نتیجے تک شفاف بنایا جائے۔ سیاسی جماعتیں بھی کشمیر کو صرف سیٹوں کی گنتی نہ سمجھیں‘ یہ لوگوں کی زندگی کا سوال ہے اور پاکستان کے قومی وقار کا امتحان ہے۔خواجہ آصف‘ میاں نواز شریف‘ پی ٹی آئی‘ مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی‘ عوامی ایکشن کمیٹی سب کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ کیا وہ عوامی غصے کو سنیں گے یا اسے دشمنی سمجھ کر کچلیں گے؟ کیا وہ مہاجر اور مقامی کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کریں گے یا دونوں کو کشمیر کے مشترکہ مقدمے کا حصہ بنائیں گے؟کشمیری عوام کو احترام چاہیے‘ جواب چاہیے‘ انصاف چاہیے‘ شفاف نمائندگی چاہیے لیکن اس سب میں انتہا پسندوں کو راستہ نہیں ملنا چاہیے۔ یہی دانش مندی ہے‘ یہی قومی مفاد ہے اور یہی کشمیر کے ساتھ وفاداری ہے۔ سیاستدانوں کو غیر ضروری بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے‘ لیکن اگر ان کی جماعتیں انہیں ایسے بیانات سے نہیں روکتیں تو کہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ کسی پالیسی یا پلاننگ کے تحت ہو رہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی ان کے ذہنوں میں یہ موجود ہے کہ شاید یہاں پر بھی فارم 45؍47 والی گیم چل نکلے گی؟ سیاسی حلقوں میں تو یہ بھی زیرِ بحث ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات کے دوران پنجاب خصوصاً لاہور میں جو اہم شخصیات تعینات تھیں‘ اس وقت وہ آزاد کشمیر میں ذمہ داریاں ادا کررہی ہیں۔ کشمیر میں بہرحال پیپلزپارٹی کا سٹیک زیادہ دکھائی دے رہا ہے اور جتنا شور مچے گا‘ اتنی ہی مشکلات پیپلزپارٹی کیلئے بڑھیں گی۔ (ن) لیگ کو شاید انتخابات سے کچھ زیادہ امیدیں نہیں‘ اس لیے کھیل خراب بھی رہے تو انہیں کوئی مسئلہ نہیں! خواجہ آصف کے بیانات اس تھیوری کو تقویت دیتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved