تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     09-07-2026

زندان

سپریم کورٹ آف پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ جیل اصلاحات کانفرنس اربابِ بست و کشاد کی جیلوں کے معاملات کی طرف توجہ مبذول کرانے کی ایک احسن کاوش تھی۔ کانفرنس کے اعلامیے میں قرار دیا گیا کہ جیلوں کے مسائل نہ صرف جیلوں کے انتظام و انصرام کو متاثر کرتے ہیں بلکہ انصاف تک رسائی‘ عوامی تحفظ‘ انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ بامعنی اور پائیدار جیل اصلاحات کے لیے انتظامیہ‘ عدلیہ اور مقننہ کے درمیان مربوط اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جیل اصلاحات محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ آئینی‘ انسانی اور عوامی تحفظ کا تقاضا بھی ہیں اور تمام متعلقہ اداروں کو مل کر ایک ایسا جیل نظام تشکیل دینے کیلئے کام کرنا چاہیے جو قانونی‘ انسانی اور بحالی کے اصولوں پر مبنی ہو۔
جیلیں معاشرے میں اصلاح لانے کیلئے بنائی گئی تھیں۔ شروع میں ہو سکتا ہے ایسا ہوا بھی ہو لیکن بعد میں حالات خراب ہوتے چلے گئے۔ جیلیں اصلاح کے اداروں کے بجائے عقوبت خانوں میں تبدیل ہو گئیں‘ جہاں مخالفین کو اذیتوں میں مبتلا کیا جانے لگا۔ آج جیلیں بہت سے مسائل کا شکار ہیں جن کے حل پر توجہ دی جانی چاہیے۔ آبادی کے ساتھ ساتھ سماج میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے‘ اس لیے قیدیوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ وقت کے ساتھ جیلوں کی تعداد نہیں بڑھائی گئی جس کے باعث جیلوں میں قیدیوں کی تعداد مقررہ گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ گنجائش میں کمی کے علاوہ انصاف کی فراہمی کا سست نظام بھی ہے۔ جیلوں میں بڑی تعداد میں ایسے قیدی موجود ہیں جن کے مقدمات برسوں سے عدالتوں میں زیر التوا ہیں اور وہ بغیر کسی سزا کے قید کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ قیدیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد غربت کے باعث اچھے وکیل نہیں کر پاتی چنانچہ ان کی انصاف تک فراہمی سست روی کا شکار رہتی ہے۔
قیدی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہو چکا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کے انسانی حقوق کا اس طرح خیال نہیں رکھا جاتا جس طرح رکھا جانا چاہیے۔ قیدیوں کا ایک شکوہ یہ ہے کہ انہیں ملنے والی خوراک غیر معیاری اور ناکافی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جیلوں میں پینے کے صاف پانی‘ بیت الخلا کی صفائی اور وینٹی لیشن کے انتظامات بھی نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔ جیلوں میں مبینہ طور پر رشوت ستانی عام ہے۔ امیر اور بااثر قیدی پیسے کے بل بوتے پر تمام تر سہولتیں حاصل کر لیتے ہیں جبکہ غریب قیدی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ جیلوں میں طبی سہولتوں کا بھی فقدان رہتا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کی تفریح کا خاص خیال نہیں رکھا جاتا‘ چنانچہ جیل کے اندر کا ماحول اور انجانے مستقبل کا خوف قیدیوں کو بعض اوقات ذہنی اور نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے۔
یہ ایسے مسائل ہیں جن کو حکومتیں اور حکمران ہی حل کر سکتے ہیں کیونکہ ملک یا صوبے کے انتظامی معاملات انہی کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں‘ اور یہ بھی سب کی جانی مانی حقیقت ہے کہ جمہوری نظام حکومت میں زیادہ تر سیاستدان اور سیاسی پارٹیاں ہی حکومتیں بناتے اور چلاتے ہیں۔ سیاست میں یہ بات ایک محاورہ بن چکی ہے کہ جو جیل نہیں گیا وہ کبھی لیڈر نہیں بن سکتا۔ اب اندازہ لگائیے کہ کون سا بڑا سیاستدان ہے جو جیل میں نہیں رہا۔ 1948ء میں عبدالغفار خان المعروف باچا خان کو ریاست کے خلاف بیان بازی کے جرم میں گرفتار کر کے کوہاٹ جیل میں قید کیا گیا۔ 60ء کی دہائی میں وہ راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں قید رہے۔ نوابزادہ نصراللہ خاں نے جنرل ضیاالحق کے دور میں سینٹرل جیل لاہور میں قید کاٹی۔ وہ اپنے گھر پر نظر بند بھی رکھے گئے۔ بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی 1953ء میں عدالتی سزا کے بعد سینٹرل جیل لاہور میں قید رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ضیاالحق کے دور میں پہلے مری کے ایک ریسٹ ہاؤس میں نظر بند رہے پھر انہیں ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی میں رکھا گیا اور اسی جیل سے ملحق پھانسی گھاٹ میں انہیں پھانسی دی گئی۔ بیگم نصرت بھٹو کراچی سینٹرل جیل میں قید رہیں۔ بینظیر بھٹو کو سکھر سینٹرل جیل میں قید میں رکھا گیا۔ دونوں ماں بیٹی گھر پر نظر بند بھی رہیں۔ ضیا دور میں نواب اکبر بگٹی کو مچھ جیل میں قید میں رکھا گیا تھا۔ 90ء کی دہائی میں آصف علی زرداری سینٹرل جیل کراچی اور کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید رہے۔ مشرف دور میں یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید کاٹی۔ نواز شریف مشرف دور میں اٹک قلعے اور اڈیالہ جیل میں قید رہے۔ پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد انہیں کوٹ لکھپت جیل لاہور اور اڈیالہ جیل میں بھی قید رکھا گیا۔ شہباز شریف بھی مشرف دور میں اڈیالہ جیل میں قید رہے۔ مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رکھا گیا۔ عمران خان گزشتہ تقریباً تین برسوں سے‘ پہلے اٹک اور اب اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
مذکورہ بالا سیاستدانوں میں سے کچھ وفات پا چکے اور باقیوں میں سے ماسوائے عمران خان کے‘ بیشتر اب حکومت کا حصہ ہیں جیسے نواز شریف‘ شہباز شریف‘ آصف علی زرداری‘ مریم نواز‘ یوسف رضا گیلانی۔ میرا سوال یہ ہے کہ عملی طور پر جیل کی اذیتیں جھیلنے والوں کو کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جیلوں کے نظام میں کون کون سی اصلاحات کی جانی چاہئیں اور کیا کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں جن سے قیدیوں کے مسائل اور تکالیف میں کمی لائی جا سکے؟ جو رہنما جیلیں کاٹ چکے ہیں انہیں تو برسر اقتدار آنے کے بعد سب سے پہلے جیلوں میں اصلاحات کے لیے کام کرنا چاہیے تھا‘ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں کیا گیا۔ ہاں ایک مثال ضرور موجود ہے جس کا میں چشم دید گواہ بھی ہوں۔ حمزہ شہباز 30 اپریل 2022ء کو وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے کوٹ لکھپت جیل گئے تھے۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا‘ چنانچہ انہوں نے افطاری قیدیوں کے ساتھ کی اور ان سے ان کے مسائل دریافت کیے۔ میری اطلاع کے مطابق انہوں نے اس ایک جیل میں معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے بہت سے اقدامات اور فیصلے کیے تھے۔ میں تقابل یا موازنہ نہیں کر رہا لیکن جیل کی اذیتیں سہنے والوں میں سے کسی اور نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ یہ نہیں سوچا کہ دورانِ قید جن تکالیف کا سامنا انہوں نے کیا‘ باقی قیدی بھی انہی تکالیف سے گزر رہے ہوں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ جیلوں کے نظام کو ایسا مؤثر بنا دیتے کہ نہ صرف قیدیوں کو ان کے پورے حقوق مل پاتے بلکہ مقدمات کا سامنا کرنے والے قیدیوں کی انصاف تک رسائی بھی سہل اور آسان ہو چکی ہوتی بلکہ اس حوالے سے ایک خود کار سسٹم وجود میں آ چکا ہوتا۔
گزشتہ روز ہونے والی کانفرنس میں شرکا نے جیل اصلاحات کے سلسلے میں جن خیالات کا اظہار کیا اور بعد ازاں جو اعلامیہ جاری کیا گیا‘ ان میں پیش کردہ تجاویز گراں قدر ہیں لیکن میرے خیال میں یہ تجاویز پیش کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی اگر قید کی سختیاں برداشت کرنے والے ہمارے سیاسی رہنما جیل اصلاحات کو اپنی ذمہ دار ی سمجھتے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved